عید اپنے ساتھ بہت سے سوالات لیکر آ رہی ہے، علی محمد خان
اشاعت کی تاریخ: 6th, June 2025 GMT
اسلام آباد:
رہنما تحریک انصاف علی محمد خان کا کہنا ہے کہ عید الاضحی اپنے ساتھ بہت سے سوالات بھی لے کر آ رہی ہے، خان صاحب کی طرف سے جو میسیجز پہنچ رہے ہیں ہمیں وہ تو یہ ہیں کہ اسلام آباد نہیں احتجاج بلکہ پورے ملک میں پھیلانا چاہتے ہیں کیونکہ اسلام آباد میں جس طرح 26 نومبر کو ہمارے لوگوں کیساتھ کیا گیا ، وہ نہیں چاہتے کہ وہ رپیٹ ہو ، دوبارہ خدانخواستہ یہاں سے لاشیں اٹھائی جائیں.
ایکسپریس نیوز کے پروگرام سینٹر اسٹیج میں گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ وہ کبھی بھی اپنی سیاست کے لیے کارکن کی قربانی نہیں چاہتے، نہ وہ چاہتے ہیں کہ لاانفورسمنٹ ایجنسیز میں سے کسی کا نقصان ہو.
سابق سفیر خالد مسعود نے کہا کہ بات یہ ہے کہ سفارت کاری کا اپنا ایک پروسیس ہے اور اس کا اپنا ایک ٹریک ہوتا ہے، اس وقت پاکستان اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا نان پرمانینٹ ممبر ہے وہاں ہمارا ٹرم دو سال کیلیے ہے، سلامتی کونسل کی ممبر کیلیے الیکشن میں جو پچھلے سال ہوا تھااس الیکشن میں ہمیں میکسیمم ووٹ پڑے تھے، ہمیں دو تہائی اکثریت سے بھی زیادہ پڑے تھے تو اسی سے آپ اندازہ لگا لیجیے کہ پاکستان کی ڈپلومیسی ڈسپائٹ آور چیلنجز ہیز بین کوائٹ سکسیسفل۔ ڈپلومیسی کی فیلڈ کو آپ اپنے مدمقابل کیلیے کھلا نہیں چھوڑ سکتے.
سابق وزیر خزانہ سلمان شاہ نے کہاکہ جب تک آئی ایم ایف سے کوئی سمجھوتہ نہیں ہو جاتا آپ کو اخراجات کم کرنا پڑیں گے،آئی ایم پروگرام کی آپ کو پتہ ہے کہ ایک بہت امپورٹنٹ کنڈیشن ہے ، وہ یہ ہے کہ جو بھی آپ نے اخراجات کرنے ہیں وہ آپ کو ٹیکس ریوینوز، گورنمنٹ ریونیوز سے پورے کرنے پڑیں گے آپ بارو نہیں کر سکتے، مجھے لگتا ہے کہ حکومت کا دوسرے اخراجات کم کرنے کا کوئی موڈ نہیں ہے اور الٹیمیٹلی ٹیکسوںکا بوجھ عوام پر ہی پڑے گا.
ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف نے آپ کو خاصا اکوموڈیٹ کیا ہے، اگلی قسط منظور کی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائممقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اجلاس طلب
پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائمقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اہم اجلاس31 جولائی کو طلب کر لیا گیا جس میں صدر پاکستان و چانسلر کی ہدایات پر قائمقام وی سی کی تعیناتی سے متعلق ایجنڈے پر دوبارہ غور کیا جائے گا۔
تفصیلات کے مطابق صدر پاکستان نے 24اپریل کو ریفرنس وزارت تعلیم کو بھجوایا ہے جس میں بطور چانسلر پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن ایکٹ کی شق8(6)کے تحت سینٹ کے 17ویں اجلاس کے ایجنڈا نمبر13پر دوبارہ غور کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔
دستیاب دستاویز کے مطابق 5 جنوری2026 کو ہونے والے سینیٹ کے17ویں اجلاس میں سابق وائس چانسلر پروفیسر حناطیبہ خلیل کو بطور وائس چانسلر کام جاری رکھنے کی منظوری دی گئی حالانکہ پروفیسر حنا طیبہ خلیل دو ٹرم مکمل کر چکی تھیں۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تعلیم نے بھی پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن کے سینٹ اجلاس (جس میں حناطیبہ خلیل کو قائمقام وائس چانسلر ذمہ داریاں جاری رکھنے کی منظوری دی) کو کالعدم قرار دینے کی سفارش کر رکھی۔
قائمہ کمیٹی کی چیئرپرسن بشری انجم بٹ نے اجلاس کے دوان کہا تھا کہ عبوری وائس چانسلر کی تعیناتی سے متعلق ایوان صدر نے واضح کیا تھا کہ ایجنڈے کی منظوری نہیں لی گئی تھی۔
ذرائع نے بتایا کہ بشری انجم بٹ نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن کی وائس چانسلر کی تعیناتی سے متعلق ریفرنس ایوان صدر کو بھجوایا جس میں کہا گیا کہ انسٹی ٹیوٹ کے فیکلٹی ممبران ،افسران اور سٹیک ہولڈرز کی جانب سے الزامات لگائے کہ پروفیسر حناطیبہ خلیل وائس چانسلر بد انتظامی اور اختیارات کے غلط استعمال کی پریکٹس میں ملوث ہیں۔
انسٹی ٹیوٹ کی پروکیورمنٹ اور مالی معاملات میں بے ضابطگیوں سمیت انسٹی ٹیوٹ میں گورننس کے بدترین صورتحال ہے، اس کے علاوہ گرلز ہاسٹل کی تعمیر سے متعلق 450 ملین کے ٹینڈرز میں مبینہ بے ضابطگیاں بھی ہوئی ہیں۔
ایوان صدر نے سینیٹر بشری انجم بٹ کی جانب سے بھجوائے گئے ریفرنس پر اپنی سفارشات وزارت تعلیم کو بھجوا دی ہیں،
وزارت تعلیم کے ذرائع نے سینیٹ اجلاس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایوان صدر کی ہدایات کی روشنی میں سینئر فیکلٹی ممبر کو ہی قائمقام وائس چانسلر پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن تعینات کیا جائے گا اور اس حوالے سے سنیارٹی لسٹ منگوا لی گئی ہے،