Islam Times:
2026-06-03@05:20:04 GMT

”ضرب یداللٰہی“ کی ضرورت ہے

اشاعت کی تاریخ: 5th, June 2025 GMT

”ضرب یداللٰہی“ کی ضرورت ہے

اسلام ٹائمز: ریاست کی ہر لچک دار اور بے نتیجہ کاروائی محض ان فتنہ گروں کے تجربے میں مزید اضافے کا سبب ہی بنی۔ ریاست پاکستان نے جب بھی ان کے خلاف کوئی محدود پیمانے کی کاروائی کی تو ان شدت پسندوں کے کھلے اور ڈھکے چھپے خیر خواہوں نے ان میں اپنا ووٹ بینک محفوظ بنانے کیلئے انہیں میدان مبارزہ سے میدان مباحثہ میں کھینچ لانے کیلئے ریاست پر دباؤ ڈالنا شروع کر دیا۔ تحریر: سید تنویر حیدر

امیرالمومنینؑ کا فرمانا ہے کہ” ظلم کے خلاف جلد آواز بلند کرو، جتنی دیر کرو گے ظلم کے خاتمے کیلئے اتنی بڑی قربانی دینا پڑے گی“۔ پاکستان جو ایک عرصے سے دہشتگردی کا کھلا نشانہ بنا ہوا ہے اور جس کے نتیجے میں ہزاروں افراد لقمہء اجل بن چکے ہیں اور یہ سلسلہ تا حال جاری ہے، کیا وجہ ہے کہ پاکستان ایک ریاست کی طاقت رکھنے کے باوجود چند دہشت پسند گروہوں کا اب تک خاتمہ نہیں کر سکا۔ نہ صرف خاتمہ نہیں کر پایا بلکہ ان دہشتگردوں کی افزوں تر ہوتی ہوئی، طاقت کے سامنے کوئی بڑی رکاوٹ بھی کھڑی نہیں کر سکا۔ سوشل میڈیا پر جتنے ترانے ان دہشتگردوں کے ہیں، شاید ہمارے دفاعی اداروں کے بھی نہیں۔ کل تک جن دہشت پسندوں کے پاس ان کا سب سے بڑا ہتھیار ”خود کش جیکٹ“ تھا، آج ان کے پاس ”خودکش ڈرونز“ آ چکے ہیں۔ ڈرون آج کی ترقی یافتہ دور کا وہ سستا ترین اور خطرناک ہتھیار ہے، جس نے روس جیسی طاقت کو بھی زچ کر دیا ہے اور جو ان ڈرونز کی وجہ سے اپنے سے کہیں چھوٹی طاقت ”یوکرائن“ کے سامنے بے بس ہو کر رہ گیا ہے۔

حال ہی میں یوکرائن نے انہی ڈرونز کی مدد سے ایک ہی حملے میں روس کے بیسیوں جدید جنگی طیارے تباہ کرکے رکھ دیئے ہیں۔ ضرورت اس امر کی تھی کہ پاکستان میں سر اٹھاتے دہشتگردی کے اس فتنے کو ابتدا میں ہی کچل دیا جاتا، لیکن ہماری ریاست کو ان کے خلاف جس قسم کا بھرپور ایکشن لینا چاہیے تھا، وہ اس سے اجتناب کرتی رہی۔ ریاست کا خیال تھا کہ شاید ہم انہیں کوئی ”لولی پاپ“ دے کر اس کے بدلے میں ان سے ان کے ہتھیار رکھوا لیں گے، لیکن اس قسم کا خیال کسی شاعر کے شعر میں ترتیب پا کر کسی اہل ذوق سے داد تو وصول کر سکتا ہے، لیکن کسی ہتھیار بند لشکری سے ہتھیار وصول نہیں کر سکتا۔ لہٰذا ریاست کی ہر لچک دار اور بے نتیجہ کاروائی محض ان فتنہ گروں کے تجربے میں مزید اضافے کا سبب ہی بنی۔ ریاست پاکستان نے جب بھی ان کے خلاف کوئی محدود پیمانے کی کاروائی کی تو ان شدت پسندوں کے کھلے اور ڈھکے چھپے خیر خواہوں نے ان میں اپنا ووٹ بینک محفوظ بنانے کیلئے انہیں میدان مبارزہ سے میدان مباحثہ میں کھینچ لانے کیلئے ریاست پر دباؤ ڈالنا شروع کر دیا۔

ریاست نے بھی اپنی خام خیالی کی وجہ سے اس فتنے کا سر کچلنے کی بجائے اسے پھلنے پھولنے کیلئے مزید مہلت دی۔ یوں انہیں مہلت پر مہلت ملتی گئی اور یہ اپنی قوت میں اضافہ کرتے چلے گئے۔ بعض نے تو اپنے دور اقتدار میں اس ”مار آستیں“ کو اپنا ہم نشیں بنانے سے بھی دریغ نہیں کیا اور اسے اپنے گھر میں لا کر آباد کیا۔ وہ دن اور آج کا دن یہ سانپ اپنے ایسے ہی سہولت کاروں کی سہولت کاری کے نتیجے میں اپنی زہر بھری تھیلیوں کو مسلسل بھر رہے ہیں اور اپنے کاٹنے کے عمل کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اب صورتحال یہ ہے کہ ان دہشتگردوں کی افرادی قوت میں بھی پہلے سے اضافہ ہو چکا ہے، ان کے پاس جدید ہتھیار بھی آ چکے ہیں، انہوں نے اپنے باہمی رابطے بھی پہلے سے زیادہ مضبوط کر لیے ہیں، ان کے مربی بھی اب کھل کر ان کی مدد کو آ گئے ہیں۔

مزید یہ کہ انہیں اپنی تمام تر دہشت پسندانہ کاروایوں کو انجام دینے کیلئے اپنی پسند کی فضاء بھی میسر ہے۔ لہٰذا ان کے خلاف ہر دور میں جس فیصلہ کن کارروائی کی اشد ضرورت تھی، وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کی ضرورت کا دائرہ وسیع سے وسیع تر ہوتا جا رہا ہے۔ جتنی دیر اور ہوگی یہ دائرہ مزید اور پھیلتا جائے گا اور ہماری سلامتی کا دائرہ مزید تنگ ہوتا جائے گا۔ جو وقت ہاتھ سے نکل چکا ہے اس کا کیا رونا، البتہ جو وقت اس وقت ہماری مٹھی میں ہے اسے ضائع ہونے سے ضرور بچایا جا سکتا ہے اور ہماری جس قربانی کا حجم مسلسل بڑھ رہا ہے، اسے مزید بڑھنے سے روکا جا سکتا ہے۔ اس کیلئے ضروری ہے کہ ”بنیان مرصوص“ کی معنویت کا ادراک کرکے اس کی روح کے مطابق عمل کیا جائے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: ان کے خلاف نہیں کر کے ہیں

پڑھیں:

لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق

لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں مبینہ زیادتی کا شکار ہونے والی 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جان کی بازی ہار گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق لاہور کے علاقہ ماڈل ٹاؤن کے ایک گھر میں ملازمہ کے طور پر کام کرنے والی 18 سالہ لڑکی مبینہ طور پر گینگ ریپ اور بعد ازاں غیر قانونی طبی طریقہ کار کے باعث زندگی کی بازی ہار گئی ہے، متوفیہ نے ہسپتال میں دم توڑنے سے قبل اپنے بیانات ریکارڈ کرادیئے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ لڑکی کا حمل ضائع کرنے کے لیے اسے پہلے رائے ونڈ کے ایک نجی کلینک لے جایا گیا، جہاں حالت بگڑنے پر اسے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا، وہ دو روز تک سروسز ہسپتال میں زیرِ علاج رہنے کے بعد دم توڑ گئی، متاثرہ لڑکی نے اپنے تحریری اور ویڈیو بیانات میں مکان مالک کے بیٹے اور ڈرائیور پر اجتماعی زیادتی کا سنگین الزام عائد کیا تھا، بعد میں مبینہ دباؤ کے تحت لڑکی نے اپنے بیان میں تبدیلی کی اور اپنے آخری بیان میں صرف ڈرائیور کو ہی نامزد کیا۔

(جاری ہے)

پولیس نے بتایا کہ لڑکی کے ابتدائی بیانات کی روشنی میں گینگ ریپ کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، تاہم اس کی موت کے بعد مقدمے میں باقاعدہ طور پر قتل کی دفعات بھی شامل کر دی گئی ہیں، ایک نامزد ملزم ڈرائیور کو گرفتار کرکے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے، قتل کی دفعات شامل ہونے کے بعد کیس کی تفتیش جینڈر سیل سے تبدیل کرکے انویسٹی گیشن ونگ کے سپرد کر دی گئی ہے، پولیس نے گھر کے مالکان سمیت ان تمام افراد کو دوبارہ شاملِ تفتیش کرنے کے لیے نوٹسز جاری کر دیئے ہیں جنہیں پہلے کلیئر کر دیا گیا تھا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کیے گئے بیانات کا دوبارہ باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا، متوفیہ کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا ہے اور موت کی اصل وجہ رپورٹ آنے کے بعد واضح ہوگی، اگر رائے ونڈ کے نجی کلینک کی جانب سے غفلت یا غیر قانونی طریقہ کار کے شواہد ملے تو اس کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔

متعلقہ مضامین

  • بانی سے ملاقات نہ ہوئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے: سہیل آفریدی
  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • رکشہ ڈرائیور نے چالان ہونے پر رکشے کو آگ لگا دی
  • صدر زرداری کی اٹلی کے صدر ور عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
  • کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ کی تلاش جاری، بھارتی سرپرستی اور اور ریاست مخالف پروپیگنڈے کے شواہد برآمد