Daily Ausaf:
2026-07-24@06:39:10 GMT

بھارتی ریاستی دہشت گردی : چشم کشا ڈاکیومنٹری

اشاعت کی تاریخ: 6th, June 2025 GMT

بلوچستان میں دہشت گردی کے پیچھے بھارتی سوچ کار فرما ہے۔ پاکستان اس دعوے کو ثابت کرنے کے لیے ان گنت ثبوت پیش کر چکا ہے۔ بھارت پر پاکستان دشمنی کا بھوت سوار ہے۔ جب سے بی جے پی راج سنگھاسن پر بیٹھی ہے بھارت کے ریاستی ادارے ہندوتوا نظریات کے زیر اثر آتے جا رہے ہیں ۔کون نہیں جانتا کہ بی جے پی دراصل آر ایس ایس کا سیاسی ونگ ہے۔ مسلم دشمنی آر ایس ایس اور بی جے پی کی رگوں میں خون بن کر دوڑتی ہے ۔ایک اسلامی ریاست ہونے کے ناطے پاکستان کا وجود بھارت اور آر ایس ایس کے لیے ناقابل برداشت ہے۔ لسانی اور نسلی تعصب کی بنیاد پر سقوط مشرقی پاکستان کا منصوبہ پایہ تکمیل تک پہنچا کر بھارت نے دراصل تقسیم برصغیر کا بدلہ چکایا تھا ۔اسی زہریلی سوچ کے تابع بھارتی ریاستی ادارے پاکستان کے مزید حصے بخرے کرنا چاہتے ہیں ۔بلوچستان کو بدامنی کی آگ میں جھونکنے کے لیے بھارت دہشت گردی کا ہتھیار استعمال کر رہا ہے۔ بھارتی سرپرستی میں سرحد پار دہشت گردی کا معاملہ تصور اتی نہیں بلکہ ایک ناقابل تردید ٹھوس حقیقت ہے ۔بھارتی جاسوس کھل بھوشن یادو آج بھی پاکستان کی تحویل میں ہے۔ بلوچستان میں دہشت گردی کے نیٹ ورک چلانے والا یہ جاسوس بھارتی بحریہ کا حاضر سروس افسر تھ۔ا یہ معاملہ اہم بین الاقوامی فورمز کے علاوہ عالمی عدالت انصاف میں بھی جا چکا ہے ۔بھارتی ریاستی دہشت گردی کا جیتا جاگتا ثبوت دنیا دیکھ چکی ہے ۔
گزشتہ برس ہتھیار ڈال کر تائب ہونے والے علیحدگی پسند دہشت گرد گروہ کے کارندوں نے قومی میڈیا پر بھارتی دہشت گردی کا پردہ چاک کیا تھا۔ کا لعدم بی ایل اے کی دہشت گردی اور بھارت کی سرپرستی میں بلوچستان کے خلاف گھناونی سازشوں کی تفصیلات پریس کانفرنس میں گلزار امام عرف شامبے اور سرفراز بنگل زئی نے بیان کی تھی ۔پاکستان متعدد بار اقوام متحدہ کے فورم پر سفارتی ذرائع سے عالمی برادری تک بھارتی دہشت گردی کے ثبوت ڈوزیئرز کی صورت میں پیش کر چکا ہے ۔ یہ پہلو توجہ طلب ہے کہ ایک جانب بھارت نہایت ڈھٹائی سے پاکستان کے پیش کیے ہوئے ثبوت جھٹلاتا ہے اور دوسری جانب اس کے اہم ریاستی اہلکار اپنی زبان سے سرحد پار دہشت گردی کا اعتراف کر کے سیاسی فوائد بٹورنے کی کوشش کرتے ہیں ۔پاکستان کے ریاستی چینل پی ٹی وی ورلڈ نے اس موضوع پر ایک مفصل دستاویزی فلم جاری کی ہے ۔اس ڈاکومنٹری کا عنوان ہے ‘ٹیرر بائی ڈیزائن ‘ ۔اس مختصر دورانیے کی فلم میں عشروں پر محیط بھارتی ریاستی دہشت گردی کے چشم کشا حقائق نہایت صراحت کے ساتھ پیش کر دیے گئے ہیں۔ یہ ایک تشویش ناک حقیقت ہے کہ بھارت بطور ریاست پاکستان کے وجود کو دل سے تسلیم نہیں کرتا ۔پاکستان کو غیر مستحکم کر کے ریاستی وجود کو پارہ پارہ کرنے کی خواہش بھارت کے ریاستی اداروں کے دل میں بہت شدت سے مچل رہی ہے ۔دنیا میں بھارت شاید وہ واحد نام نہاد جمہوریہ ہے جس کا وزیراعظم علی الاعلان یہ اعتراف کرتا ہے کہ سقوط ڈھاکہ میں ہندوستان نے بھرپور سازشانہ کردار ادا کیا تھا ۔یہ اعتراف جرم علاقائی اور عالمی میڈیا پر شہ سرخیوں میں شائع ہو چکا ہے ۔یوٹیوب اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اجیت دول کی وہ بدنام زمانہ تقریر سنی جا سکتی ہے جس میں موصوف نے بلوچستان کے علیحدگی پسند دہشت گرد گروہوں پر پیسہ پانی کی طرح بہانے کا منصوبہ کھلے عام بیان کیا تھا ۔بھارت کے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے کئی مرتبہ پاکستان میں دہشت گردی کروانے کی دھمکیاں دیں۔ بھارتی ریاستی جھوٹ کو میڈیا پر پھیلانے والے میجر ریٹائرڈ گورو وآریا اور ارناب گوسوامی جیسے جعلساز کردار ہر روز پاکستان میں دہشت گردی کا فخریہ اعتراف کرتے ہیں۔
معرکہ حق کی شب کراچی بندرگاہ کی تباہی اور بلوچستان کی علیحدگی کے جھوٹے افسانے تراشنے والے دروغ گو کردار آج بھی پوری ڈھٹائی سے بھارت کے ریاستی جرائم پر فخر کر رہے ہیں ۔پی ٹی وی ورلڈ کی دستاویزی فلم میں سی آئی اے کی سابق اہلکار سارہ ایڈمز اور سابق امریکی سیکرٹری دفاع چک ہیگل کے چشم کشا انکشافات بھی شامل کیے گئے ہیں جن میں بھارتی خفیہ ایجنسی کے کالعدم بی ایل اے اور دیگر علیحدگی پسند دہشت گرد گروہوں سے گہرے تعلقات کا تذکرہ کیا گیا ہے ۔بھارت کی ریاستی دہشت گردی کی داستانیں اب جنوبی ایشیا سے نکل کر مغربی دنیا تک پھیل چکی ہیں ۔امریکہ،کینیڈا اور یو کے میں سکھ لیڈروں کو اجرتی قاتلوں کے ذریعے راہ سے ہٹانے کے شرمناک واقعات مودی کی ہندوتوا سر کار کے ماتھے پر کلنگ کا داغ ہیں۔ بھارت کے ریاستی ادارے فتنہ خوارج اور فتنہ ہندوستان کی پشت پناہی کر کے پاکستان کی سالمیت پر وار کر رہے ہیں۔ اسرائیل کے نقش قدم پر چلتے ہوئے مودی سرکار ریاستی دہشت گردی کے ذریعے بچوں، عورتوں اور نہتے شہریوں کے لہو سے ہولی کھیل رہی ہے۔ بلوچستان میں جعفر ایکسپریس کی ہائی جیکنگ اور پنجاب سے تعلق رکھنے والے مزدوروں کی بے رحمانہ ٹارگٹ کلنگ کے پیچھے بھارت کے ریاستی ادارے پوری طرح کارفرما ہے۔ دہشت گرد ریاست بھارت کے انتہا پسند اہلکار علاقائی امن کے لیے بہت بڑا خطرہ بن چکے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: ریاستی دہشت گردی بھارت کے ریاستی بھارتی ریاستی ریاستی ادارے دہشت گردی کے دہشت گردی کا پاکستان کے کے لیے چکا ہے

پڑھیں:

ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ

امریکا آج سے پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین اور دنیا کے دیگر 60 تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی متعدد اشیا پر 10 اور 12.5 فیصد کے نئے درآمدی محصولات(tarrif) نافذ کر رہا ہے۔
امریکی حکومت کا مؤقف ہے کہ متعلقہ ممالک اپنی سپلائی چینز میں جبری مشقت کے خاتمے کے قوانین پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنانے میں ناکام رہے ہیں۔

نئے ٹیرف کا اعلان امریکی فیڈرل رجسٹر میں جاری نوٹس کے ذریعے کیا گیا، یہ محصولات اس عارضی 10 فیصد عالمی ٹیرف کی جگہ لیں گے جو امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد 150 روز کے لیے نافذ کیا گیا تھا اور جس کی مدت آج ختم ہو رہی ہے۔

امریکی سپریم کورٹ نے رواں برس فروری میں ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے گزشتہ سال قومی ہنگامی اختیارات کے تحت عائد کیے گئے 10 سے 50 فیصد تک کے باہمی ٹیرف غیر مؤثر قرار دے دیے تھے، ان ٹیرف کا مقصد امریکا کے تجارتی خسارے کو کم کرنا تھا، تاہم عدالت کے فیصلے کے بعد انتظامیہ نے اب 1974ء کے ٹریڈ ایکٹ کی سیکشن 301 کے تحت نئے محصولات نافذ کرنے کا راستہ اختیار کیا ہے، جسے قانونی طور پر زیادہ مضبوط تصور کیا جا رہا ہے۔

امریکی حکام کے مطابق نئے محصولات امریکا کی تقریباً 99.4 فیصد درآمدات پر لاگو ہوں گے، تاہم متعدد اہم اشیا کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے، ان میں خام تیل، قدرتی گیس، کھاد، بعض غذائی اجناس، جبکہ قومی سلامتی کے تحت پہلے سے سیکشن 232 کے محصولات کی زد میں آنے والی گاڑیاں، اسٹیل، ایلومینیم اور تانبا شامل ہیں۔ اسی طرح امریکا، کینیڈا اور میکسیکو کے آزاد تجارتی معاہدے کے تحت آنے والی متعدد مصنوعات بھی ان نئے محصولات سے مستثنیٰ ہوں گی۔

امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے اور ان قوانین پر سختی سے عمل کرتا ہے، اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا کے تجارتی شراکت دار بھی اسی معیار پر عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا خاتمہ ہو اور عالمی تجارت میں غیر منصفانہ مقابلے کا سدباب کیا جا سکے۔

انہوں نے واضح کیا کہ جن ممالک نے امریکا کے ساتھ پہلے ہی تجارتی معاہدے کر رکھے ہیں اور جن کے لیے زیادہ سے زیادہ ٹیرف کی حد مقرر ہے، ان پر نئے محصولات اس حد سے تجاوز نہیں کریں گے۔

مزیدپڑھیں:میٹھے پر سجاوٹ کیلئے چیونٹیوں کا استعمال ریسٹورنٹ مالک کو مہنگا پڑگیا

امریکا کے حتمی فیصلے کے مطابق پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، برطانیہ، کینیڈا، میکسیکو، ملائیشیا، انڈونیشیا، کمبوڈیا، سری لنکا، ارجنٹینا، ایکواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، اردن، ایل سلواڈور، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو اور دیگر کئی ممالک سے آنے والی متعلقہ مصنوعات پر 10 فیصد کا نیا ٹیرف عائد کیا جائے گا، جبکہ بعض دیگر تجارتی شراکت داروں پر 12.5 فیصد شرح بھی نافذ ہوگی۔

آسٹریلیا اور برازیل نے امریکی اقدام کو غیر ضروری اور غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں کریں گے۔

کینیڈا نے، جس پر چند روز قبل ہی تقریباً 20 ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات پر نئے امریکی ٹیرف عائد کیے گئے تھے، محتاط ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس معاملے پر امریکا کے ساتھ تعمیری مذاکرات جاری رکھے گا۔

کینیڈا کے وزیر برائے امریکا تجارت ڈومینک لی بلانک نے کہا کہ دونوں ممالک آنے والے ہفتوں میں اس مسئلے سمیت دیگر تجارتی معاملات پر بات چیت جاری رکھیں گے تاکہ دونوں ملکوں کے شہریوں کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

ادھر امریکی ریاست میساچوسٹس کی ڈیموکریٹک گورنر مورا ہیلی نے نئے محصولات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے سے اشیا مہنگی ہوں گی، کاروباری اداروں پر منفی اثرات مرتب ہوں گے اور امریکی معیشت کی مسابقتی صلاحیت بھی متاثر ہوگی۔

تجارتی قانون کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ نئے محصولات کی شرح بڑی حد تک ان عارضی ٹیرف سے ملتی جلتی ہے جو اب ختم ہو رہے ہیں، تاہم چونکہ انہیں سیکشن 301 کے تحت نافذ کیا جا رہا ہے، اس لیے عدالت میں ان کے خلاف قانونی چیلنج پہلے کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہوگا۔

ماہرین کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ اس قانونی راستے کے ذریعے نہ صرف تقریباً تمام درآمدات پر کم از کم 10 فیصد ٹیرف برقرار رکھنا چاہتی ہے بلکہ مستقبل میں ضرورت پڑنے پر ان کی شرح میں ردوبدل کرنے کا اختیار بھی اپنے پاس رکھنا چاہتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کوہاٹ ٹول پلازہ کے قریب دہشت گردوں کا کسٹمز حکام پر حملہ، 2 اہلکار شہید، ایک زخمی
  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار