قلات میں سکیورٹی فورسز کے آپریشنز، بھارتی حمایت یافتہ 8 دہشتگرد ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 22nd, July 2025 GMT
راولپنڈی(ڈیلی پاکستان آن لائن) بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کے کامیاب آپریشنز کے دوران بھارتی حمایت یافتہ 8 دہشتگردوں کو جہنم واصل کردیا گیا۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق بلوچستان کے ضلع قلات میں 19 اور 21 جولائی کو فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع پر انٹیلی جنس پر مبنی آپریشنز کیے گئے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں کے ٹھکانے کو مؤثر طریقے سے نشانہ بنایا، شدید فائرنگ کے تبادلے میں 8 بھارتی سپانسر شدہ دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا گیا۔مارے گئے دہشتگردوں سے اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکہ خیز مواد بھی برآمد ہوا ہے، ہلاک دہشتگرد متعدد دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث تھے۔
میٹروبس، اورنج ٹرین اور الیکٹرک بس کے بعد لاہور کی سڑکوں پر ٹرام فرراٹے بھرنےکےلئے تیار
آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ پاکستان کی سیکیورٹی فورسز ملک سے بھارتی سپانسرڈ دہشت گردی کے ناسور کو ختم کرنے کیلئے پرعزم ہیں، بھارتی سپانسرڈ دہشت گردوں اور سہولت کاروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
پڑھیں:
گوگل کا نیا سیکیورٹی فیچر، کیا اب پاس ورڈ کی ضرورت ہی نہیں رہے گی؟
گوگل نے صارفین کی آن لائن سیکیورٹی مزید مضبوط بنانے کے لیے سیلفی ویڈیو پر مبنی نئی بایومیٹرک شناختی سہولت متعارف کرا دی ہے جس کے ذریعے اہل صارفین پاس ورڈ یا ریکوری ڈیوائس دستیاب نہ ہونے کی صورت میں اپنے اکاؤنٹس تک دوبارہ رسائی حاصل کر سکیں گے۔
کمپنی کے مطابق نیا فیچر بنیادی طور پر اکاؤنٹ ریکوری کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ صارفین ابتدائی مرحلے میں اسکرین پر دی گئی ہدایات کے مطابق ایک مختصر سیلفی ویڈیو ریکارڈ کریں گے جس میں مختلف زاویوں سے چہرہ دکھانا ہوگا تاکہ شناخت محفوظ کی جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: گوگل پلے کی نئی پالیسی، متبادل ایپ مارکیٹس کو راستہ مل گیا
اگر بعد میں صارف اپنا پاس ورڈ بھول جائے، فون گم ہو جائے یا ٹو فیکٹر آتھنٹیکیشن استعمال نہ کر سکے تو وہ نئی سیلفی ویڈیو ریکارڈ کر کے اپنی شناخت کی تصدیق کرا سکے گا۔
گوگل کا سیکیورٹی سسٹم نئی ویڈیو کا پہلے سے محفوظ ویڈیو سے موازنہ کرے گا اور جدید لائیونیس چیک اور اینٹی اسپوفنگ ٹیکنالوجی کی مدد سے اس بات کی تصدیق کرے گا کہ سامنے حقیقی شخص موجود ہے، نہ کہ تصویر، ریکارڈ شدہ ویڈیو یا مصنوعی ذہانت (AI) سے تیار کردہ ڈیپ فیک۔
یہ بھی پڑھیں: راستوں کی تلاش کے بعد گوگل میپس میں کھانا منگوانے کا فیچر متعارف کرائے جانے کی تیاریاں
گوگل کا کہنا ہے کہ یہ سہولت روزمرہ لاگ اِن کے لیے نہیں بلکہ صرف اکاؤنٹ ریکوری کے دوران استعمال کی جائے گی۔ کمپنی اس سے قبل پاس کیز (Passkeys)، سیکیورٹی کیز اور ٹو فیکٹر آتھنٹیکیشن جیسے متبادل طریقے بھی متعارف کرا چکی ہے تاکہ روایتی پاس ورڈز پر انحصار کم کیا جا سکے۔
پرائیویسی سے متعلق خدشات کے جواب میں گوگل نے کہا ہے کہ صارفین کی سیلفی ویڈیوز مکمل طور پر انکرپٹڈ انداز میں محفوظ کی جائیں گی، ان پر صارف کا مکمل اختیار ہوگا اور وہ کسی بھی وقت انہیں حذف کر سکیں گے۔ کمپنی کے مطابق یہ ویڈیوز صرف شناخت کی تصدیق کے لیے استعمال ہوں گی جب تک کہ صارف کسی اضافی استعمال کی اجازت نہ دے۔
یہ بھی پڑھیں: گوگل میپ کی ایک غلطی اور تاجر علی جمیل کے سفرِ آخرت کی کہانی
ماہرین کے مطابق گوگل کا یہ اقدام ٹیکنالوجی کی دنیا میں پاس ورڈ کے بغیر محفوظ لاگ اِن سسٹمز کی جانب بڑھتے ہوئے رجحان کا حصہ ہے۔ اس سے قبل ایپل، مائیکروسافٹ سمیت متعدد بینک، ایئرلائنز اور سرکاری ادارے بھی بایومیٹرک شناختی نظام اپنا چکے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
گوگل گوگل پاسپورڈ