اسلام آباد: سعودی نیول کے سربراہ وائس ایڈمرل عبدالرحمٰن الغریبی کی نیول چیف سے ملاقات
اشاعت کی تاریخ: 22nd, July 2025 GMT
رائل سعودی نیول فورسز کے سربراہ وائس ایڈمرل عبدالرحمٰن الغریبی نے نیول ہیڈکوارٹرز اسلام آباد میں پاک بحریہ کے سربراہ ایڈمرل نوید اشرف سے ملاقات کی، اس موقع باہمی دلچسپی کے امور، خطے کی سیکیورٹی صورتحال اور دو طرفہ تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق سعودی بحریہ کے سربراہ کو نیول ہیڈکوارٹرز اسلام آباد آمد پر پاک بحریہ کے چاق و چوبند دستے نے گارڈ آف آنر پیش کیا۔پاک بحریہ کے سربراہ نے سعودی ہم منصب سے ملاقات کے دوران باہمی دلچسپی کے امور، خطے کی سیکیورٹی صورتحال اور دو طرفہ تعاون پر تبادلہ خیال کیا۔نیول چیف نے ریجنل میری ٹائم سیکیورٹی پٹرولز کے ذریعے خطے میں امن و سلامتی کے لیےاقدامات پر روشنی ڈالی جبکہ سربراہ سعودی بحریہ نے خطے میں بحری سیکیورٹی کے حوالے سے پاک بحریہ کی کاوشوں کو سراہا۔وائس ایڈمرل عبد الرحمٰن الغریبی نے پاکستان نیول اکیڈمی میں سعودی کیڈٹس کی معیاری تربیت کو سراہا اور پاک سعودی عرب دفاعی تعلقات کے دائرہ کار کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔آئی ایس پی آر کے مطابق سعودی بحریہ کے سربراہ کےدورے سے دونوں ممالک کی افواج کے تعلقات کو مزید فروغ ملے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: بحریہ کے سربراہ پاک بحریہ
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔