WE News:
2026-07-24@07:59:23 GMT

روسی ریسٹورینٹس پر بڑے پیمانے پر سائبر حملے، نظام مفلوج

اشاعت کی تاریخ: 24th, July 2025 GMT

روسی ریسٹورینٹس پر بڑے پیمانے پر سائبر حملے، نظام مفلوج

روس کے معروف ریسٹورینٹس اورفوڈ سروس کمپنیوں پرمربوط سائبر حملوں نے ان کے ڈیجیٹل نظام کو مفلوج کردیا ہے، روسی میڈیا کے مطابق ان حملوں میں آٹومیشن سروس فراہم کرنے والی کمپنی اور اس کے ہوسٹنگ پارٹنر کے نیٹ ورکس کو نشانہ بنایا گیا۔

18 جولائی سے سائبرحملہ آوروں نے مسلسل 5 روز تک آٹومیشن سروس اور اس کے پارٹنر نیٹ ورکس کے سرورز کو ڈی ڈی او ایس حملوں کے ذریعے نشانہ بنایا، جس سے ڈیجیٹل سسٹمز پر دباؤ بڑھ گیا اور موبائل ایپس و ویب سائٹس وقتاً فوقتاً بند ہوگئیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق متاثرہ اداروں میں میکڈونلڈز کے جانشین وکسنائے توچکا، کافی چین کوفکس اور دیگر ریسٹورینٹس شامل ہیں، حملوں کے آغاز کے روز وکسنائے توچکا نے صارفین کو خبردار کیا کہ سروس میں تاخیر ہوسکتی ہے، اور اس کی وجہ ہوسٹنگ پارٹنر کی خرابی کو قرار دیا۔

یہ بھی پڑھیں: سائبر اٹیک جنگی صورتحال کو کتنا سنگین بنا سکتا ہے؟

اگرچہ کچھ دیر کے لیے نظام بحال ہوا، لیکن پیر کو ایک اور بڑا حملہ ہو گیا، آٹومیشن سروس فراہم کرنے والی کمپنی آئی آئی کے او نے تصدیق کی کہ 18 جولائی کو اس کے ڈیٹا سینٹرز پر 12 گھنٹوں تک ڈی ڈی او ایس حملہ ہوا، اور اگلے دن بھی ایک اور حملہ کیا گیا۔

کمپنی نے کہا کہ صارفین کا کوئی ڈیٹا متاثر نہیں ہوا، مگر اندرونی مواصلات میں رکاوٹیں ضرور آئیں، آئی آئی کے او پر انحصار کرنیوالی ایک سوشی چین کے مطابق وہ تقریباً 3 دن تک کچن آرڈرز پر کارروائی کرنے سے قاصر رہے، تاہم اب تمام خدمات بحال ہو چکی ہیں اور متاثرہ مؤکلین کو معاوضہ بھی فراہم کیا گیا ہے۔

روسی کلاؤڈ کمپنی کے سی ای او نیکیتا ساپلن کے مطابق تقریباً 3,500 صارفین ان حملوں سے متاثر ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ 2025 میں ڈیجیٹل حملوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جو پچھلے سال کے مقابلے میں ایک تہائی زیادہ ہیں، اور بعض حملوں کا حجم 1.

7 ٹیرا بٹس فی سیکنڈ تک پہنچا۔

مزید پڑھیں: اسرائیلی فوجی ٹیکنالوجی پر سائبر اٹیک، خفیہ معلومات افشا

ڈیجیٹل تحقیق کار ایگور بیڈیروف کا خیال ہے کہ یہ حملے ممکنہ طور پر تجارتی حریفوں کی جانب سے کیے گئے ہوں، جن کا مقصد مالی نقصان پہنچانا، ادائیگی کے نظام کو درہم برہم کرنا، اور صارفین کے اعتماد کو کمزور کرنا تھا۔’چند گھنٹوں کی بندش بھی صارفین کے اعتماد کو متزلزل کرتی ہے اور سرچ انجن کی درجہ بندی کو متاثر کرتی ہے۔‘

دلچسپ بات یہ ہے کہ ان سائبر حملوں سے ایک روز قبل روسی ووڈکا بنانے والی کمپنی نے ایک بڑے پیمانے پر ڈی ڈی او ایس حملے کی اطلاع دی تھی، جس کی وجہ سے ان کی مصنوعات کی ترسیل کئی دن تک رک گئی تھی، اس کی ریٹیل کمپنی ونلیب کو بھی ہفتے بھر کے لیے نیٹ ورک میں خلل کا سامنا کرنا پڑا۔ منگل تک، اس کی 100 سے زائد شاخوں نے کام دوبارہ شروع کر دیا تھا۔

انفو لائن انالیٹکس کے سربراہ میخائل بورمیستروف کے مطابق اس تعطل کی وجہ سے ونلیب کو اپنی سہ ماہی آمدن کا تقریباً 0.8 فیصد، یعنی تقریباً 2.2 ملین امریکی ڈالر کا نقصان ہوا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آٹومیشن سروس ڈیجیٹل روس سائبر حملوں موبائل ایپس نیٹ ورکس ہوسٹنگ پارٹنر

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: آٹومیشن سروس ڈیجیٹل سائبر حملوں موبائل ایپس نیٹ ورکس ہوسٹنگ پارٹنر آٹومیشن سروس کے مطابق

پڑھیں:

میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا

چین کی معروف الیکٹرک اور نیو انرجی وہیکل ساز کمپنی ’بی وائی ڈی ‘ نے کہا ہے کہ سندھ کے علاقے غارو میں قائم کیا جانے والا اس کا 150 ملین ڈالر مالیت کا اسمبلنگ پلانٹ تکمیل کے آخری مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔

جبکہ کمپنی پاکستان میں تیار ہونے والی پہلی مقامی بی وائی ڈی گاڑی کو جلد از جلد مارکیٹ میں متعارف کرانے کے لیے کام تیز کر رہی ہے۔

کمپنی کے مطابق پلانٹ میں تعمیراتی کام تقریباً مکمل ہو چکا ہے، جبکہ اس وقت جدید مشینری کی تنصیب، کمیشننگ اور دیگر تکنیکی مراحل جاری ہیں تاکہ عالمی معیار کے مطابق پیداوار کا آغاز کیا جا سکے۔

پلانٹ کی سالانہ پیداواری صلاحیت 25 ہزار گاڑیاں ہوگی

بی وائی ڈی پاکستان، میگا موٹر کمپنی (ایم ایم سی ) کے وائس پریزیڈنٹ سیلز اینڈ اسٹریٹجی، دانش خالق نے بتایا کہ تقریباً 2 سال سے بھی کم عرصے میں تیار ہونے والا یہ منصوبہ پاکستان میں اپنی نوعیت کے تیز ترین آٹو مینوفیکچرنگ منصوبوں میں شمار ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:چینی کمپنی پاکستان میں الیکٹرک گاڑیاں تیار کرے گی، شارک 6 پلگ اِن ہائبرڈ پک اپ آج مارکیٹ میں آئے گی

انہوں نے کہا کہ پلانٹ مکمل طور پر فعال ہونے کے بعد سالانہ تقریباً 25 ہزار نیو انرجی وہیکلز اسمبل کرنے کی صلاحیت رکھے گا، جس سے ملک میں ماحول دوست گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی طلب پوری کرنے میں مدد ملے گی۔

پہلی مقامی بی وائی ڈی گاڑی جلد متعارف کرانے کا ہدف

دانش خالق کے مطابق کمپنی کی اولین ترجیح پاکستان میں تیار ہونے والی پہلی بی وائی ڈی گاڑی کو جلد از جلد صارفین تک پہنچانا ہے۔

تاہم انہوں نے واضح کیا کہ باقاعدہ پیداوار شروع کرنے سے قبل مشینری کی جانچ، پیداواری آزمائش اور معیار کی تصدیق کے متعدد مراحل مکمل کیے جائیں گے تاکہ ہر گاڑی کمپنی کے عالمی معیار پر پوری اترے۔

2 ہزار سے زیادہ گاڑیوں کی سب سے بڑی کھیپ پاکستان پہنچ گئی

اس پیش رفت سے قبل بی وائی ڈی پاکستان نے گزشتہ ہفتے بحری جہاز کے ذریعے 2 ہزار سے زیادہ گاڑیوں کی اب تک کی سب سے بڑی کھیپ درآمد کی۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ اس درآمد کا مقصد صارفین کو بروقت گاڑیوں کی فراہمی یقینی بنانا اور ملک بھر میں موجود ڈیلر نیٹ ورک میں مطلوبہ تعداد میں گاڑیاں دستیاب رکھنا ہے۔

ایندھن کی بڑھتی قیمتوں سے الیکٹرک گاڑیوں کی طلب میں اضافہ

بی وائی ڈی کے مطابق پاکستان میں گزشتہ ایک سال کے دوران نیو انرجی وہیکلز میں صارفین کی دلچسپی مسلسل بڑھی ہے، جبکہ حالیہ عرصے میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافے نے اس رجحان کو مزید تقویت دی ہے۔

مزید پڑھیں:چین کی سب سے بڑی کارساز کمپنی پاکستان میں الیکٹرک گاڑیاں لانچ کرنے کے لیے پُرعزم

کمپنی کا دعویٰ ہے کہ اس کی جدید ٹیکنالوجی کی بدولت بی وائی ڈی گاڑیوں کے آپریٹنگ اخراجات روایتی پیٹرول یا ڈیزل گاڑیوں کے مقابلے میں 75 فیصد تک کم ہو سکتے ہیں، جبکہ حفاظت، کارکردگی اور قابلِ اعتماد معیار بھی برقرار رہتا ہے۔

چارجنگ انفراسٹرکچر میں بھی سرمایہ کاری جاری

دانش خالق نے بتایا کہ بی وائی ڈی پاکستان نے ہبکو گرین پرائیویٹ لمیٹڈ (ایچ جی ایل) کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے ملک بھر میں نیو انرجی وہیکلز کے لیے چارجنگ نیٹ ورک کی توسیع کا کام بھی جاری رکھا ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اب تک کراچی سے پشاور تک تقریباً 1,300 کلومیٹر طویل روٹ پر 19 پبلک ڈی سی فاسٹ چارجنگ اسٹیشنز قائم کیے جا چکے ہیں، جبکہ آئندہ مرحلے میں مزید شہروں، اہم شاہراہوں اور دوسرے درجے کے شہری مراکز تک اس نیٹ ورک کو توسیع دی جائے گی۔

بی وائی ڈی نے 2024 میں مقامی شراکت دار میگا موٹر کمپنی (ایم ایم سی) کے ساتھ اشتراک کے ذریعے پاکستان کی مسافر گاڑیوں کی مارکیٹ میں باضابطہ طور پر قدم رکھا تھا۔

گزشتہ سال کمپنی نے اعلان کیا تھا کہ پاکستان میں اسمبل ہونے والی پہلی بی وائی ڈی گاڑی جولائی یا اگست 2026 تک متعارف کرانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان میں 2030 تک فروخت ہونے والی 30 فیصد نئی گاڑیاں الیکٹرک ہوں گی

ماہرین کے مطابق پاکستان میں الیکٹرک اور نیو انرجی وہیکلز کی مارکیٹ تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔

حکومت کی جانب سے ماحول دوست ٹرانسپورٹ کی حوصلہ افزائی، ایندھن کی بڑھتی قیمتیں اور چارجنگ انفراسٹرکچر میں بہتری ایسے عوامل ہیں جو اس شعبے میں سرمایہ کاری اور صارفین کی دلچسپی میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں۔

بی وائی ڈی کا غارو پلانٹ بھی اسی بدلتے ہوئے رجحان کا اہم حصہ تصور کیا جا رہا ہے، جس سے مقامی آٹو انڈسٹری، روزگار کے مواقع اور جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی کو بھی فروغ ملنے کی توقع ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

الیکٹر گاڑیوں الیکٹرک گاڑیاں ایندھن بی وائی ڈی پیداواری ٹیکنالوجی نیو انرجی وہیکلز

متعلقہ مضامین

  • ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام
  • ’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا اجراء 
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
  • ٹیسلا نے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی، قیمت کتنی ہے؟
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال
  • موبائل کال اور انٹرنیٹ پیکجز مہنگے، صارفین پر نیا مالی بوجھ