روسی ریسٹورینٹس پر بڑے پیمانے پر سائبر حملے، نظام مفلوج
اشاعت کی تاریخ: 24th, July 2025 GMT
روس کے معروف ریسٹورینٹس اورفوڈ سروس کمپنیوں پرمربوط سائبر حملوں نے ان کے ڈیجیٹل نظام کو مفلوج کردیا ہے، روسی میڈیا کے مطابق ان حملوں میں آٹومیشن سروس فراہم کرنے والی کمپنی اور اس کے ہوسٹنگ پارٹنر کے نیٹ ورکس کو نشانہ بنایا گیا۔
18 جولائی سے سائبرحملہ آوروں نے مسلسل 5 روز تک آٹومیشن سروس اور اس کے پارٹنر نیٹ ورکس کے سرورز کو ڈی ڈی او ایس حملوں کے ذریعے نشانہ بنایا، جس سے ڈیجیٹل سسٹمز پر دباؤ بڑھ گیا اور موبائل ایپس و ویب سائٹس وقتاً فوقتاً بند ہوگئیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق متاثرہ اداروں میں میکڈونلڈز کے جانشین وکسنائے توچکا، کافی چین کوفکس اور دیگر ریسٹورینٹس شامل ہیں، حملوں کے آغاز کے روز وکسنائے توچکا نے صارفین کو خبردار کیا کہ سروس میں تاخیر ہوسکتی ہے، اور اس کی وجہ ہوسٹنگ پارٹنر کی خرابی کو قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیں: سائبر اٹیک جنگی صورتحال کو کتنا سنگین بنا سکتا ہے؟
اگرچہ کچھ دیر کے لیے نظام بحال ہوا، لیکن پیر کو ایک اور بڑا حملہ ہو گیا، آٹومیشن سروس فراہم کرنے والی کمپنی آئی آئی کے او نے تصدیق کی کہ 18 جولائی کو اس کے ڈیٹا سینٹرز پر 12 گھنٹوں تک ڈی ڈی او ایس حملہ ہوا، اور اگلے دن بھی ایک اور حملہ کیا گیا۔
کمپنی نے کہا کہ صارفین کا کوئی ڈیٹا متاثر نہیں ہوا، مگر اندرونی مواصلات میں رکاوٹیں ضرور آئیں، آئی آئی کے او پر انحصار کرنیوالی ایک سوشی چین کے مطابق وہ تقریباً 3 دن تک کچن آرڈرز پر کارروائی کرنے سے قاصر رہے، تاہم اب تمام خدمات بحال ہو چکی ہیں اور متاثرہ مؤکلین کو معاوضہ بھی فراہم کیا گیا ہے۔
روسی کلاؤڈ کمپنی کے سی ای او نیکیتا ساپلن کے مطابق تقریباً 3,500 صارفین ان حملوں سے متاثر ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ 2025 میں ڈیجیٹل حملوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جو پچھلے سال کے مقابلے میں ایک تہائی زیادہ ہیں، اور بعض حملوں کا حجم 1.
مزید پڑھیں: اسرائیلی فوجی ٹیکنالوجی پر سائبر اٹیک، خفیہ معلومات افشا
ڈیجیٹل تحقیق کار ایگور بیڈیروف کا خیال ہے کہ یہ حملے ممکنہ طور پر تجارتی حریفوں کی جانب سے کیے گئے ہوں، جن کا مقصد مالی نقصان پہنچانا، ادائیگی کے نظام کو درہم برہم کرنا، اور صارفین کے اعتماد کو کمزور کرنا تھا۔’چند گھنٹوں کی بندش بھی صارفین کے اعتماد کو متزلزل کرتی ہے اور سرچ انجن کی درجہ بندی کو متاثر کرتی ہے۔‘
دلچسپ بات یہ ہے کہ ان سائبر حملوں سے ایک روز قبل روسی ووڈکا بنانے والی کمپنی نے ایک بڑے پیمانے پر ڈی ڈی او ایس حملے کی اطلاع دی تھی، جس کی وجہ سے ان کی مصنوعات کی ترسیل کئی دن تک رک گئی تھی، اس کی ریٹیل کمپنی ونلیب کو بھی ہفتے بھر کے لیے نیٹ ورک میں خلل کا سامنا کرنا پڑا۔ منگل تک، اس کی 100 سے زائد شاخوں نے کام دوبارہ شروع کر دیا تھا۔
انفو لائن انالیٹکس کے سربراہ میخائل بورمیستروف کے مطابق اس تعطل کی وجہ سے ونلیب کو اپنی سہ ماہی آمدن کا تقریباً 0.8 فیصد، یعنی تقریباً 2.2 ملین امریکی ڈالر کا نقصان ہوا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آٹومیشن سروس ڈیجیٹل روس سائبر حملوں موبائل ایپس نیٹ ورکس ہوسٹنگ پارٹنر
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: آٹومیشن سروس ڈیجیٹل سائبر حملوں موبائل ایپس نیٹ ورکس ہوسٹنگ پارٹنر آٹومیشن سروس کے مطابق
پڑھیں:
جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
ملک میں جعلی اور غیر معیاری ادویات کے خاتمے کی جانب ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں وفاقی کابینہ نے ملک بھر میں ادویات کے لیے جدید ٹریک اینڈ ٹریس نظام نافذ کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد عوام کو جعلی دواؤں سے محفوظ بنانا اور دوا سازی کے شعبے میں شفافیت اور نگرانی کو مزید موثر بنانا ہے۔منگل کے روز وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اس فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ نئے نظام کے نفاذ کے لیے ڈرگ لیبلنگ اور پیکنگ رولز میں ضروری ترامیم کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔ ان تبدیلیوں کے بعد ایک جدید ڈیجیٹل نظام متعارف کرایا جائے گا.جس کے ذریعے ادویات کی تیاری سے لے کر صارف تک پہنچنے کے پورے عمل کی نگرانی اور تصدیق ممکن ہو سکے گی۔وزیر صحت کے مطابق یہ فیصلہ پاکستان سے جعلی، نقلی اور ناقص معیار کی ادویات کے خاتمے کی جانب ایک تاریخی قدم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلی مرتبہ ملک میں دستیاب ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور تصدیق کیا جا سکے گا.جس سے ادویات کے نظام میں شفافیت، تحفظ اور جوابدہی میں نمایاں بہتری آئے گی۔نئے ضوابط کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کو اپنی مصنوعات کی پیکنگ پر معیاری ٹو ڈی (2D) بارکوڈز اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کرنا ہوگا۔ اس نظام کے ذریعے متعلقہ ادارے ادویات کی نقل و حرکت پر پیداواری مرحلے سے لے کر صارف تک مسلسل نظر رکھ سکیں گے، جبکہ جعلی مصنوعات کی نشاندہی اور ان کے خاتمے میں بھی مدد ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ نظام مکمل طور پر فعال ہونے کے بعد عوام کسی بھی دوا کی میعاد ختم ہونے کی تاریخ، قیمت اور تصدیقی حیثیت سمیت دیگر اہم معلومات تک آسانی سے رسائی حاصل کر سکیں گے۔ اس سے مریضوں کو بہتر اور باخبر فیصلے کرنے میں مدد ملے گی اور دواسازی کے شعبے پر عوامی اعتماد میں اضافہ ہوگا۔اس منصوبے پر عمل درآمد کی نگرانی ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (DRAP) کرے گی جو دوا ساز صنعت کے لیے تفصیلی تکنیکی رہنما اصول بھی جاری کرے گی تاکہ نئے نظام سے مطابقت پیدا کرنے میں آسانی ہو۔ اعلامیے کے مطابق اس سلسلے میں متعلقہ فریقوں کے ساتھ مشاورتی اجلاس پہلے ہی منعقد کیے جا چکے ہیں تاکہ منتقلی کا عمل بغیر کسی رکاوٹ کے مکمل ہو سکے۔وزیر صحت نے اس بات پر زور دیا کہ جدید ڈیجیٹل نظام روایتی نگرانی کے طریقوں کی جگہ لے کر ادویات کی فراہمی کے پورے نظام کو زیادہ محفوظ اور معیاری بنائے گا۔ ان کے بقول جدید ٹیکنالوجی کا استعمال پاکستان کو خطے کے ان ممالک کی صف میں شامل کرے گا جہاں ادویات کی نگرانی اور ریگولیشن کے جدید ترین نظام رائج ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ٹریک اینڈ ٹریس نظام جعلی ادویات کے خلاف ایک مضبوط حفاظتی دیوار ثابت ہوگا اور عوامی صحت، انسانی جانوں اور دواسازی کے نظام پر اعتماد کے تحفظ میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔