کراچی: حاضر سروس ڈی آئی جی نے فوڈ اسٹال کیوں لگا لیا؟
اشاعت کی تاریخ: 24th, July 2025 GMT
کراچی میں کھانے کا ایک ایسا اسٹال بھی ہے جو حاضر سروس ڈی آئی جی اور ان کے بچے چلا رہے ہیں جس کی خاص بات یہ ہے کہ یہاں مناسب پیسوں کے عوض شہریوں کو میکسیکن کھانے کھلائے جاتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: کمیونٹی پولیسنگ کراچی کو کیسے محفوظ بنا رہی ہے؟
ڈی آئی جی عثمان صدیقی کا کہنا ہے کہ ان کا تعلق شکارپور سے ہے اور وہ سی ایس ایس کر چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ کام انہوں نے کاروبار کی نیت سے نہیں بلکہ شوق کے لیے کیا ہے۔
عثمان صدیقی نے کہا کہ کھانے بنانا میرا شوق ہے اور پہلے میں دوستوں کو میکسیکن کھانے بنا کر دیتا تھا جو ان لوگوں کو پسند آنے لگا پھر دوست احباب نے مشورہ دیا کہ میں اس طرح کا کوئی سیٹ اپ بنا لوں جس پر میں نے فوڈ کارٹ بنایا اور فوڈ فیسٹیول میں بھی ہمیں بہت پذیرائی ملی اور یہاں بھی لوگوں کا اچھا رسپانس ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ اوائل میں جب کارٹ اس مقام پر لگایا تو بڑے مسائل کا سامنا کرنا اس سے اندازہ ہوا کہ غریب لوگوں کو کن مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہوگا۔
مزید پڑھیے: کراچی پولیس رکن بلوچستان اسمبلی مولانا ہدایت الرحمان کے بیٹے کو کیوں تلاش کر رہی ہے؟
ڈی آئی جی نے کہا کہ ہمیں یہاں سے ہٹانے کے لیے دباؤ ڈالا گیا لیکن کسی کو پتا نہیں تھا کہ میں کون ہوں میں نے نہ صرف اپنے بلکہ ہمارے ساتھ لگے دیگر اسٹالز کا بھی تحفظ کیا اور آج یہ کام چل رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ڈی آئی جی عثمان صدیقی ڈی آئی جی عثمان صدیقی کا فوڈ اسٹال ڈی آئی جی کا فوڈ اسٹال کراچی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ڈی ا ئی جی عثمان صدیقی کراچی ڈی ا ئی جی
پڑھیں:
لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔
جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔
حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔