صوابی، خواتین کے جھگڑے پر 61 سالہ شخص قتل
اشاعت کی تاریخ: 6th, June 2025 GMT
مقتول کے بیٹے نے کہا فائرنگ کے بعد ملزمان موقع سے فرار ہو گئے اور ایف آئی آر میں قتل کی وجہ عناد خواتین کا تنازع بیان کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا کے ضلع صوابی کے علاقے نارنجی میں خواتین کے تنازع پر فائرنگ کر کے 61 سالہ شہری کو قتل کر دیا گیا۔ صوابی کے تھانہ پرمولی میں نارنجی سے تعلق رکھنے والے شہری عبدالرحمان کی مدعیت میں فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) درج کی گئی۔ ایف آئی آر میں انہوں نے کہا کہ وہ گزشتہ شام اپنے 61 سالہ والد راج محمد، بھتیجے اسماعیل اور چچازاد گل زمان کے ہمراہ اپنے گاؤں نارنجی کے حجرہ بہادر خیل کے مقام پر کھڑا تھا کہ اس دوران شیر عمر خان اور اس کے بھائی تالمین آئے۔ انہوں نے کہا کہ تالمین نے شیر عمر کو فائرنگ کا حکم دیا، جس پر شیر عمر نے اس کے والد راج محمد پر فائرنگ شروع کر دی جس کے نتیجے میں وہ موقع پر جاں بحق ہو گئے۔ مقتول کے بیٹے نے کہا فائرنگ کے بعد ملزمان موقع سے فرار ہو گئے اور ایف آئی آر میں قتل کی وجہ عناد خواتین کا تنازع بیان کیا گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ایف آئی آر نے کہا
پڑھیں:
سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
فائل فوٹو
سپریم کورٹ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی اپیل مسترد کرتے ہوئے فیصلے میں کہا کہ رضا کارانہ نشہ جرم کا دفاع نہیں بن سکتا۔
سپریم کورٹ کے جسٹس ہاشم خان کاکڑ نے فیصلہ تحریر کیا اور اپیل خارج کر دی گئی، تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ طور پر نشہ کرنے والا شخص جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا، اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والا مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا حق نہیں رکھتا، جرم سے استثنیٰ صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا لاعلمی میں نشہ دیا گیا ہو۔
سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقرار رکھی، مجرم کے وکیل نے نشے کی حالت کو بنیاد بنا کر سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی استدعا کی، مجرم نے خود تسلیم کیا کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔
فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ نشہ مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا، مجرم نے بے دردی سے کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا، جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے۔