عیدالاضحیٰ پر پیشہ ور قصاب ملنا مشکل ہوگیا، زیادہ معاوضے سے شہری پریشان
اشاعت کی تاریخ: 7th, June 2025 GMT
عیدالاضحیٰ کے موقع پر شہریوں کے سنت ابراہیمی ادا کرنے کےلیے پیشہ ور قصاب کو تلاش کرنا ایک بڑا مسئلہ بن گیا ہے۔ پیشہ ور قصابوں نے امسال جانوروں کی قربانی کے نرخ میں 30 سے 50 فیصد اضافہ کردیا ہے۔
لیاقت آباد کے پیشہ ور قصاب بابو قریشی نے بتایا کہ عیدالاضحیٰ پر قربانی کے جانوروں کو ذبح کرنے کے ریٹ ہر علاقے میں الگ الگ ہیں۔ جانوروں کو ذبح کرنے کے ریٹ کا تعین اس کے وزن کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔
پیشہ ور قصابوں نے عیدالاضحیٰ سے تین روز قبل بکنگ بند کردی ہے۔ عیدالاضحیٰ پر ہلکے وزن کے بڑے جانور کم ازکم نرخ 20 ہزار اور زیادہ سے زیادہ 30 ہزار روپے سے زائد ہیں۔ دوسرے دن کے 18 ہزار اور تیسرے دن کے 15 ہزار روہے ریٹ ہیں۔ زائد وزن کے جانور کے ریٹ بات چیت کے ذریعے طے کیے گئے ہیں۔
بابو قریشی نے بتایا کہ پیشہ ور قصابوں نے ایک جانور کے بجائے محلہ کی سطح پر زائد جانور قربان کرنے کی بکنگ کی ہے۔ گزشتہ برس عیدالاضحیٰ پر پیشہ ور قصابوں نے بڑے جانور کو قربان کرنے کے ریٹ 15 سے 25 ہزار یا اس سے زائد وصول کیے تھے۔ بکرے اور دنبہ کے ریٹ اس سال 8 ہزار سے 15 ہزار روہے تک ہیں۔ دوسرے اور تیسرے روز چھوٹے جانوروں کو قربان کرنے کے ریٹ میں 30 سے 50 فیصد کمی ہوجاتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پیشہ ور قصابوں نے پوش علاقوں میں قربانی کے جانوروں کو ذبح کرنے کی بکنگ زیادہ کی ہے کیونکہ وہاں مناسب اور اچھا معاوضہ ملتا ہے۔
پیشہ ور قصابوں کی قلت کے باعث موسمی قسائی عید پر اپنا ہنر دکھائیں گے۔ عیدالاضحیٰ پر اجرت پر مزدوری کرنے والے افراد تین روز کےلیے موسمی قسائی بن جاتے ہیں۔ یہ موسمی قسائی پیشہ ور قصابوں کے مقابلے میں 30 سے 50 فیصد کم معاوضہ پر جانور قربان کرتے ہیں۔ ان موسمی قسائیوں کو متوسط علاقوں میں زیادہ مزدوری مل جاتی ہے اور یہ گروپ کی شکل میں دیہاڑی لگاتے ہیں۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان پیشہ ور قصابوں نے کرنے کے ریٹ جانوروں کو
پڑھیں:
رائیونڈ کا ایک شہری اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننا چاہتا ہے، بلاول بھٹو
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ رائیونڈ کا ایک شہری اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننا چاہتا ہے اور ان کی خواہش ہے کہ وزیراعظم پاکستان ہی آزاد کشمیر کا وزیراعظم منتخب کرے۔آزاد کشمیر کے علاقے میرپور میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے ایک بار پھر حق حکمرانی، مالکیت اور حق روزگار کا انتخابی ایجنڈا دہراتے ہوئے کہا کہ اگر کشمیریوں نے انتخابات میں ووٹ دے کر اکثریت دلوائی تو یہ تینوں مسائل حل کردیں گے۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ کشمیر میں گزشتہ چھ ماہ سے ہماری حکومت ہے اور یہاں پر جو کام کیے اُن پر فخر ہے۔ انہوں نے کہا کہ سڑکوں کی بات کرنے والوں کو پنجاب کی سڑکیں ہی ٹھیک لگتی ہیں اور کہتے ہیں کہ صوبے سے نکلتے ہی سڑکیں خراب ہیں۔ انہوں نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ لوگ رائیونڈ کو پنجاب سمجھتے ہیں کیونکہ اندرون صوبے کی حالت بہت بری ہے اور انہیں اس کی کوئی پرواہ بھی نہیں ہے۔ بلاول کا کہنا تھا کہ اب یہ چاہتے ہیں کہ وزیراعظم آزاد کشمیر کا فیصلہ اسلام آباد سے ہو اور رائیونڈ کا ایک شہر اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننے کا خواہش مند ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
مزید :