عیدالاضحیٰ کے موقع پر شہریوں کے سنت ابراہیمی ادا کرنے کےلیے پیشہ ور قصاب کو تلاش کرنا ایک بڑا مسئلہ بن گیا ہے۔ پیشہ ور قصابوں نے امسال جانوروں کی قربانی کے نرخ میں 30 سے 50 فیصد اضافہ کردیا ہے۔

لیاقت آباد کے پیشہ ور قصاب بابو قریشی نے بتایا کہ عیدالاضحیٰ پر قربانی کے جانوروں کو ذبح کرنے کے ریٹ ہر علاقے میں الگ الگ ہیں۔ جانوروں کو ذبح کرنے کے ریٹ کا تعین اس کے وزن کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔

پیشہ ور قصابوں نے عیدالاضحیٰ سے تین روز قبل بکنگ بند کردی ہے۔ عیدالاضحیٰ پر ہلکے وزن کے بڑے جانور کم ازکم نرخ 20 ہزار اور زیادہ سے زیادہ 30 ہزار روپے سے زائد ہیں۔ دوسرے دن کے 18 ہزار اور تیسرے دن کے 15 ہزار روہے ریٹ ہیں۔ زائد وزن کے جانور کے ریٹ بات چیت کے ذریعے طے کیے گئے ہیں۔

بابو قریشی نے بتایا کہ پیشہ ور قصابوں  نے ایک جانور کے بجائے محلہ کی سطح پر زائد جانور قربان کرنے کی بکنگ کی ہے۔ گزشتہ برس عیدالاضحیٰ پر پیشہ ور قصابوں نے بڑے جانور کو قربان کرنے کے ریٹ 15 سے 25 ہزار یا اس سے زائد وصول کیے تھے۔ بکرے اور دنبہ کے ریٹ اس سال 8 ہزار سے 15 ہزار روہے تک ہیں۔ دوسرے اور تیسرے روز چھوٹے جانوروں کو قربان کرنے کے ریٹ میں 30 سے 50 فیصد کمی ہوجاتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پیشہ ور قصابوں نے پوش علاقوں میں قربانی کے جانوروں کو ذبح کرنے کی بکنگ زیادہ کی ہے کیونکہ وہاں مناسب اور اچھا معاوضہ ملتا ہے۔

پیشہ ور قصابوں کی قلت کے باعث موسمی قسائی عید پر اپنا ہنر دکھائیں گے۔ عیدالاضحیٰ پر اجرت پر مزدوری کرنے والے افراد تین روز کےلیے موسمی قسائی بن جاتے ہیں۔ یہ موسمی قسائی پیشہ ور قصابوں کے مقابلے میں 30 سے 50 فیصد کم معاوضہ پر جانور قربان کرتے ہیں۔ ان موسمی قسائیوں کو متوسط علاقوں میں زیادہ مزدوری مل جاتی ہے اور یہ گروپ کی شکل میں دیہاڑی لگاتے ہیں۔

Tagsپاکستان.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان پیشہ ور قصابوں نے کرنے کے ریٹ جانوروں کو

پڑھیں:

کیا آپ بھی رات دیر تک جاگتے ہیں؟ ماہرین نے سنگین خطرات سے خبردار کردیا

رات گئے تک جاگنے کی عادت آپ کی دماغی صحت کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔

جدید طرزِ زندگی میں نیند کے اوقات میں بے ترتیبی عام ہوتی جا رہی ہے خاص طور پر نوجوانوں میں رات گئے تک جاگنا ایک معمول بنتا جا رہا ہے تاہم ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ یہ عادت دماغی صحت پر منفی اثرات ڈال سکتی ہے۔

امریکا میں ہونے والی مختلف طبی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ جو افراد رات دیر تک جاگتے اور صبح دیر سے اٹھتے ہیں، ان میں ذہنی مسائل جیسے ڈپریشن، انزائٹی اور تنہائی کے احساس کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔ ایک تحقیق میں 400 سے زائد افراد کا جائزہ لیا گیا جس میں ان کی نیند کی عادات اور ذہنی کیفیت کا تجزیہ کیا گیا۔

نتائج کے مطابق رات گئے تک جاگنے والے افراد نہ صرف زیادہ بے چینی کا شکار ہوتے ہیں بلکہ وہ سماجی طور پر بھی کم متحرک ہوتے ہیں جس کے باعث تنہائی کا احساس بڑھ جاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ رات کے اوقات میں منفی خیالات زیادہ حاوی ہوتے ہیں جو ذہنی دباؤ میں اضافے کا سبب بنتے ہیں۔

اسی طرح دیگر تحقیقات سے یہ بھی سامنے آیا کہ دیر سے سونے والے افراد میں ڈپریشن کا خطرہ 20 سے 40 فیصد تک زیادہ ہو سکتا ہے۔ اس کی ایک وجہ ناقص نیند کا معیار، غیر صحت بخش خوراک اور اسمارٹ فون یا اسکرین کا زیادہ استعمال بھی ہو سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق انسانی جسم کا قدرتی نظام (سرکیڈین ردھم) دن میں سرگرمی اور رات میں آرام کے لیے بنایا گیا ہے۔ اس نظام میں خلل ذہنی اور جسمانی صحت دونوں کو متاثر کرتا ہے۔

تحقیق سے یہ بھی واضح ہوا ہے کہ اگرچہ نیند کا دورانیہ مکمل ہو، لیکن سونے کا غلط وقت بھی صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ اس لیے بہتر دماغی صحت کے لیے جلد سونے اور جلد جاگنے کی عادت اپنانا ضروری ہے۔

ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ رات کے وقت اسکرین کا استعمال کم کیا جائے، سونے کا باقاعدہ وقت مقرر کیا جائے اور دن کے اوقات میں سماجی سرگرمیوں میں حصہ لیا جائے تاکہ ذہنی صحت بہتر رہ سکے۔

متعلقہ مضامین

  • مزدوروں کیلئے خوشخبری، کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • پائیڈ کی کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش
  • کیا آپ بھی رات دیر تک جاگتے ہیں؟ ماہرین نے سنگین خطرات سے خبردار کردیا
  • کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار مقرر کرنے کی سفارش
  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • کراچی: سرجانی ٹاؤن میں فائرنگ سے باپ، بیٹا جاں بحق، دوسرا بیٹا زخمی
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  •  کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر
  • طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ