ارطغرل غازی کے اداکار انگین آلتان نے پاکستان کی دلچسپ یادیں شیئر کردیں
اشاعت کی تاریخ: 8th, June 2025 GMT
تاریخی ڈرامہ سیریل "دیرلیش: ارطغرل غازی” سے پاکستان سمیت دنیا بھر میں شہرت حاصل کرنے والے معروف ترک اداکار انگین آلتان نے پاکستان کے دورے سے جڑی دلچسپ یادیں بتا دیں۔
سب کے دلوں پر راج کرنے والے انگین آلتان نے ایک حالیہ انٹرویو میں اپنے پاکستان کے دورے کی یادیں تازہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کا پاکستان کا دورہ یادگار تھا۔
انہوں نے بتایا کہ کراچی میں قیام کے دوران کورونا کے باوجود لوگ وائرس کو سنجیدہ نہیں لے رہے تھے۔ ایک بار وہ ہوٹل کے کمرے میں موجود تھے جب چند افراد اچانک ان کے کمرے میں تصاویر بنوانے آگئے کیونکہ ان کا ماننا تھا کہ کورونا جیسی کوئی چیز نہیں اور اس سے کوئی نہیں مرتا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ایک مسجد میں امام صاحب سے ملاقات کے دوران ہزاروں افراد وہاں جمع ہو گئے۔ ان کے مطابق معلوم نہیں کیسے اُن کے مداحوں کو ان کی موجودگی کا پتہ چل گیا اور ہزاروں لوگ وہاں پہنچ گئے جو ان کیلئے حیرت انگیز منظر تھا جس کے بعد قومی محافظوں کو مداخلت کرنی پڑی۔
ارتغرل کے مرکزی اداکار کا کہنا تھا کہ یہ لمحہ ان کیلئے حیران کن تھا، لیکن دورہ پاکستان کا مجموعی تجربہ شاندار رہا اور وہاں کے لوگ بےحد محبت کرنے والے ہیں۔
سوشل میڈیا پر انگین آلتان کے اس انٹرویو کی ویڈیو وائرل ہورہی ہے جس پر پاکستانی انگین آلتان کے لیے محبت کا اظہار کر رہے ہیں۔
یاد رہے کہ ارطغرل غازی سیریز کو پاکستان ٹیلی وژن پر اردو میں ڈب کر کے نشر کیا گیا تھا، جس کے بعد انگین سمیت پوری کاسٹ کو پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش میں بے پناہ مقبولیت حاصل ہوئی۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: انگین آلتان
پڑھیں:
ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
ماہرین فلکیات نے نظام شمسی سے باہر موجود سیاروں (ایگزوپلینیٹس) میں مقناطیسی میدانوں کے شواہد دریافت کر لیے ہیں جسے اس حوالے سے اب تک کا مضبوط ترین ثبوت قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کیا پلوٹو کو سیارے کا درجہ دوبارہ مل جائے گا، یہ سیاروں کی فہرست سے نکالا کیوں گیا؟
سائنس دانوں نے چلی اور ہوائی میں نصب جدید دوربینوں کی مدد سے 7 بڑے اور انتہائی گرم گیسوں پر مشتمل سیاروں کا مشاہدہ کیا۔ تحقیق کے دوران ان سیاروں کی فضائی ہواؤں کے غیرمعمولی رویے کا جائزہ لیا گیا جس سے معلوم ہوا کہ ان پر مقناطیسی میدان موجود ہیں۔
یہ تحقیق جریدے نیچر آسٹرونومی میں شائع ہوئی ہے اور اس کے مطابق مقناطیسی میدان وہ غیر مرئی قوت ہے جو کسی سیارے کے اندر موجود پگھلے ہوئے دھاتی مواد کی حرکت اور اس کی گردش سے پیدا ہوتی ہے۔
تحقیق کی سربراہ اور فرانس کے آبزرویٹری ڈی لا کوٹ ڈی آزور سے وابستہ ماہر فلکیات جولیا سیڈل کے مطابق سائنس دانوں کی توقع تھی کہ زیادہ گرم سیاروں پر ہوائیں زیادہ تیز ہوں گی کیونکہ وہاں توانائی کی مقدار زیادہ ہوتی ہے لیکن مشاہدات میں اس کے برعکس نتائج سامنے آئے۔
مزید پڑھیے: 45 نئے سیارے دریافت جہاں زندگی کے امکانات موجود ہیں
انہوں نے کہا کہ سب سے زیادہ گرم سیاروں پر ہواؤں کی رفتار توقع سے کم دیکھی گئی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ستاروں سے ملنے والی اضافی توانائی کسی اور طریقے سے ضائع ہو رہی ہے۔
ان کے مطابق اس کی سب سے ممکنہ وجہ مقناطیسی میدان اور فضا میں موجود برقی ذرات کے درمیان تعامل ہے۔
تحقیق میں شامل ساتوں سیارے اپنے ستاروں کے انتہائی قریب گردش کرتے ہیں۔ ان کا ایک حصہ مسلسل ستارے کی طرف جبکہ دوسرا حصہ ہمیشہ تاریکی میں رہتا ہے۔ اس قسم کے سیاروں کو ’ہاٹ جیوپیٹر‘ کہا جاتا ہے کیونکہ ان کا حجم اور ساخت مشتری سے ملتی جلتی ہوتی ہے تاہم ان کا درجہ حرارت بہت زیادہ ہوتا ہے۔
ان سیاروں پر ہواؤں کی رفتار بعض مقامات پر 25 ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ تک ریکارڈ کی گئی جو نظامِ شمسی کے سب سے بڑے سیارے مشتری کی ہواؤں سے بھی زیادہ ہے۔
مزید پڑھیں: سب سے چھوٹے سیارے عطارد کا وجود ایک معمہ، جانیے اس پراسرار جہان کی حقیقت؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ چونکہ نظام شمسی کے بیشتر سیاروں میں مقناطیسی میدان موجود ہیں اس لیے یہ بات حیران کن نہیں کہ دوسرے نظاموں کے سیاروں میں بھی یہ خصوصیت پائی جائے تاہم اب تک اس کے واضح شواہد دستیاب نہیں تھے۔
تحقیق میں شامل جرمنی کے یورپی جنوبی رصدگاہ سے وابستہ ماہر فلکیات بیبیانا پرنوتھ کے مطابق مقناطیسی میدان کسی سیارے کو قابلِ رہائش بنانے کا واحد عنصر نہیں لیکن یہ طویل عرصے تک فضا کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ زندگی کے لیے فضا کا موجود ہونا انتہائی ضروری ہے کیونکہ فضا سطحی دباؤ کو برقرار رکھنے، درجہ حرارت کو متوازن رکھنے اور زمین کی طرح مائع پانی کے وجود کو ممکن بناتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: زمین جیسے سیارے کی تلاش ایک دلچسپ جدوجہد، سائنسدان پرامید
ماہرین کے مطابق اگرچہ اس تحقیق میں شامل تمام سیارے گیسوں پر مشتمل ہیں اور زندگی کے لیے موزوں نہیں سمجھے جاتے تاہم ان میں مقناطیسی میدانوں کی موجودگی کی دریافت مستقبل میں زمین جیسے چٹانی سیاروں کے مطالعے اور قابلِ رہائش دنیاوں کی تلاش میں اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ مقناطیسی میدان رکھنے والے سیارے نظام شمسی ہاٹ جیوپیٹر