بھارت میں اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں اور عیسائیوں کو تعصب اور ظلم کا سامنا ہے: آصف علی زرداری
اشاعت کی تاریخ: 9th, June 2025 GMT
صدر مملکت آصف علی زرداری کا کہنا ہے کہ بھارت کے شدت پسندانہ ہندوتوا نظریے سے پورے خطے کو خطرات لاحق ہیں۔صدر آصف زرداری سے ایوان صدر میں پیپلز پارٹی کے رہنماؤں اور ورکرز نے ملاقات کی اور انہیں عید الاضحیٰ کی مبارکباد دی۔اس موقع پر صدر پاکستان کا کہنا تھا ہمیں اپنے ملک اور دھرتی سے وفا کرنی ہے اور اس کی ترقی کیلئے كام کرنا ہے، ملکی معیشت کو مضبوط بنیادوں پر استوار کرنے اور خود کفیل بنانے پر توجہ دینا ہو گی۔ان کا کہنا تھا پاکستان میں ترقی کرنے کی بے پناہ صلاحیت موجود ہے، زراعت ہماری معیشت کی بنیاد ہے، ملک کو زرعی شعبے کی بنیاد پر ترقی دینے کی ضرورت ہے، کسانوں کو سپورٹ کرکے ملکی معیشت کو ترقی دے سکتے ہیں۔صدر مملکت آصف علی زرداری نے بھارت کا بڑھتی شدت پسندی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بھارت میں اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں اور عیسائیوں کو تعصب اور ظلم کا سامنا ہے، بھارت کے شدت پسندانہ ہندوتوا نظریے سے پورے خطے کو خطرات لاحق ہیں۔صدر مملکت آصف علی زرداری نے ملکی ترقی و خوشحالی کیلئے مل کر کام کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: آصف علی زرداری
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔