اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 09 جون 2025ء) اسپین میں اتوار کے روز حکومت کی مبینہ بدعنوانی کے خلاف حزب اختلاف کی قیادت میں ہونے والے احتجاجی مظاہرے میں بیسیوں ہزار شہریوں نے شرکت کی۔

ملکی دارالحکومت میڈرڈ میں ہونے والی اس ریلی کو ’’مافیا یا جمہوریت‘‘ کا عنوان دیا گیا تھا، جس میں مقامی حکام کے مطابق تقریباﹰ پچاس ہزار لوگوں نے شرکت کی، جب کہ شہر کے دائیں بازو کے میئر نے مظاہرین کی تعداد ایک لاکھ بتائی۔

ہسپانوی دارالحکومت کے مرکز میں پلازہ ڈے ایسپانیا نامی ایک بڑا چوک مظاہرین سے بھرا ہوا تھا، جہاں بہت سے لوگ سرخ اور پیلے ہسپانوی پرچم لہرا رہے تھے۔

اسپین میں سیاحوں کی آمد کا نیا سالانہ ریکارڈ، چورانوے ملین

اپوزیشن کا سانچیز پر ’مافیا‘ حکومت چلانے کا الزام

شہر کے میئر خوزے لوئس مارٹینیز المائیڈا نے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے موجودہ وزیر اعظم پیدرو سانچیز کی بائیں بازو کی حکومت کے بارے میں سامعین سے کہا کہ ان کی جماعت پیپلز پارٹی (پی پی) ’’جلد سے جلد مافیا کو بھگانا اور ملک کی جمہوریت کو بحال کرنا چاہتی‘‘ ہے۔

(جاری ہے)

ریلی میں شریک بہت سے مظاہرین نے نعرے لگائے: ’’پیدرو سانچیز، استعفیٰ دو!‘‘

ایک لیک ہو جانے والی آڈیو ریکارڈنگ میں مبینہ طور پر حکمراں اتحاد سے تعلق رکھنے والی سیاسی کارکن لیئرے ڈیئز کو پولیس یونٹ کے خلاف بدنام کرنے کی مہم چلاتے ہوئے پیش کیا گیا ہے، جو وزیر اعظم کی قریبی سیاسی کارکن رہ چکی ہیں۔

اسپین کی طرف رواں کشتی ڈوبنے کا واقعہ، متعدد پاکستانیوں سمیت پچاس تارکین وطن ہلاک

پولیس حکام نے وزیر اعظم سانچیز کی اہلیہ، بھائی اور ان کی ایک سابقہ قریبی ساتھی کے خلاف بدعنوانی کے الزامات کے تحت تحقیقات بھی کی تھیں۔

البتہ سیاسی کارکن لیئرے ڈیئز نے ان الزامات کی تردید کی اور ان کا اصرار اس بات پر تھا کہ وہ ایک کتاب کے لیے تحقیق کر رہی تھی اور سانچیز کے لیے کام نہیں کر رہی تھیں۔

پیدرو سانچیز کی حکومت اور ان کے اتحادیوں کو ایسی کرپشن کی متعدد تحقیقات کا سامنا ہے، جس کی وزیر اعظم تردید کرتے ہیں۔

پی پی کا قبل از وقت عام انتخابات کا مطالبہ

پیپلز پارٹی کے ایک رہنما البیرٹو نونیز فیئخو نے بدعنوانی کے حوالے سے حکومت پر ’’مافیا کے طرز عمل‘‘ کا الزام لگایا اور مظاہرین کو بتایا کہ اس حکومت نے ’’سیاست، ریاستی اداروں، اختیارات کی علیحدگی‘‘ سب کو داغ دار کر دیا ہے۔

انہوں نے ملک میں عام انتخابات جلد از جلد کرانے کا مطالبہ کیا، جبکہ مقرر وقت کے مطابق سن 2027 میں آئندہ قومی انتخابات ہونا ہیں۔

جنوب مشرقی اسپین میں سیلاب، کم ازکم اکیاون افراد ہلاک

لیکن فیئخو نے پہلے ہی ممکنہ قبل از وقت انتخابات کے لیے اپنی پارٹی کے کارکنان سے تیار رہنے کے لیے کہا۔ البتہ اپوزیشن لیڈر نے ابھی تک سانچیز کی اقلیتی حکومت کے خلاف پارلیمان میں کوئی مذمتی تحریک پیش نہیں کی۔

ایسا کرنے کے لیے انہیں علاقائی جماعتوں کی حمایت کی ضرورت ہو گی، جو دائیں بازو کی پاپولسٹ پارٹی کے ساتھ اشتراک عمل سے گریز کرتی رہی ہیں۔

اپریل 2022 میں فیئخو کے پارٹی لیڈر بننے کے بعد سے اتوار کے روز کا یہ چھٹا حکومت مخالف عوامی احتجاج تھا، جس کا اہتمام پی پی نے کیا۔

حد سے زیادہ سیاحت، رہنے کو جگہ نہیں

بدعنوانی کی تحقیقات ’بدنام کرنے کی مہم‘

ہسپانوی حکومت کے ایک ترجمان نے کل اتوار کے روز ہونے والے اس مظاہرے میں شرکاء کی تعداد کا مذاق اڑایا اور سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ ایک ہسپانوی راک میوزک جوڑی نے حال ہی میں میڈرڈ میں فیئخو سے زیادہ بڑا ہجوم جمع کر لیا تھا۔

اسی دوران پیدرو سانچیز نے اپنے اندرونی حلقے کے ارکان کے خلاف تحقیقات کو دائیں بازو کی جانب سے ’’بدنام کرنے کی ایک مہم‘‘ قرار دیتے ہوئے بدعنوانی کے تمام الزامات کو یکسر مسترد کر دیا۔

ہزاروں تارکین وطن کی تیر کر مراکش سے اسپین پہنچنے کی کوشش

حالیہ عوامی جائزوں کے مطابق پی پی کو فی الحال بائیں بازو کے اتحاد کے مقابلے میں تھوڑی سی برتری حاصل ہے، حالانکہ سانچیز اب بھی تمام پارٹی رہنماؤں کے مقابلے میں سب سے زیادہ مقبول رہنما ہیں۔

ادارت: مقبول ملک

.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے پیدرو سانچیز بدعنوانی کے سانچیز کی حکومت کے کے خلاف کے لیے

پڑھیں:

تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟

پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔

پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔

دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔

بڑی احتجاجی کال پر تحفظات

پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔

ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔

پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔

9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا

پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔

26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔

مزیدپڑھیں:بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی

اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔

عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل

عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔

پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔

5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟

گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔

متعلقہ مضامین

  • ایمنسٹی انٹرنیشنل کا نیتن یاہو کی گرفتاری کا مطالبہ، آئی سی سی میں مقدمہ چلانے پر زور
  • ورلڈ کپ فاتح ہسپانوی فٹبالرز کو وزن کے برابر ٹماٹر انعام میں مل گئے
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • خیبر پی کے میں بلدیاتی انتخابات 2 مراحل میں ہونے کا امکان 
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن