چین نے تاریخی عمارت کو بخوبی دوسری جگہ منتقل کردیا، ماہرین کا اب تک کا سب سے بڑا کارنامہ
اشاعت کی تاریخ: 9th, June 2025 GMT
شنگھائی حکام نے 432 ہائیڈرولک طاقت والے روبوٹس کی مدد سے 10 میٹر فی دن کی رفتار سے ایک روایتی شیکومین طرز کی عمارت کے احاطے کو منتقل کردیا۔
Huayanli کمپلیکس جو شنگھائی کے Jing’an ضلع میں Zhangyuan کے اندر واقع ہے، کو سائز اور پیچیدگی دونوں لحاظ سے چین کا اپنی نوعیت کا سب سے بڑا نقل مکانی کا منصوبہ قرار دیا گیا ہے۔
عمارت کے کمپلیکس کی سخت ترتیب، جو کہ 1920 اور 1930 کی دہائی کی ہے، نے روایتی تعمیرات اور نقل مکانی کے آلات کو عملی طور پر ناقابل استعمال بنا دیا تھا لیکن حکام کو 3 منزلہ زیر زمین ڈھانچے کی تعمیر کے لیے پورے بلاک کو کئی سو میٹر منتقل کرنے کا راستہ تلاش کرنے کی ضرورت تھی۔ پروجیکٹ کے لیے ہر قسم کی جدید ٹیکنالوجی کی ضرورت تھی جس نے انچارج ٹیم کو 7,382-ٹن (7,500 میٹرک ٹن)، 13,222 مربع فٹ (4,030 مربع میٹر) عمارت کے کمپلیکس کو عارضی طور پر منتقل کرنے کےقابل بنایا۔
Zhangyuan سٹی بلاک کی نقل مکانی کے عمل کو شروع کرنے سے پہلے انجینئرز نے تفصیلی 3D بلیو پرنٹس بنانے کے لیے بلڈنگ انفارمیشن ماڈلنگ اور پوائنٹ کلاؤڈ اسکیننگ ٹیکنالوجیز کا استعمال کیا۔ اس کے بعد انہوں نے ممکنہ تصادم کے مقامات اور کسی بھی اہم ساختی مسائل کی نشاندہی کرنے کے لیے ان اسکیمیٹکس کا تجزیہ کیا۔ اے آئی ماڈیولز نے زمین پر چلنے والے خصوصی روبوٹس کی مدد کی جو 1.
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔