چین نے تاریخی عمارت کو بخوبی دوسری جگہ منتقل کردیا، ماہرین کا اب تک کا سب سے بڑا کارنامہ
اشاعت کی تاریخ: 9th, June 2025 GMT
شنگھائی حکام نے 432 ہائیڈرولک طاقت والے روبوٹس کی مدد سے 10 میٹر فی دن کی رفتار سے ایک روایتی شیکومین طرز کی عمارت کے احاطے کو منتقل کردیا۔
Huayanli کمپلیکس جو شنگھائی کے Jing’an ضلع میں Zhangyuan کے اندر واقع ہے، کو سائز اور پیچیدگی دونوں لحاظ سے چین کا اپنی نوعیت کا سب سے بڑا نقل مکانی کا منصوبہ قرار دیا گیا ہے۔
عمارت کے کمپلیکس کی سخت ترتیب، جو کہ 1920 اور 1930 کی دہائی کی ہے، نے روایتی تعمیرات اور نقل مکانی کے آلات کو عملی طور پر ناقابل استعمال بنا دیا تھا لیکن حکام کو 3 منزلہ زیر زمین ڈھانچے کی تعمیر کے لیے پورے بلاک کو کئی سو میٹر منتقل کرنے کا راستہ تلاش کرنے کی ضرورت تھی۔ پروجیکٹ کے لیے ہر قسم کی جدید ٹیکنالوجی کی ضرورت تھی جس نے انچارج ٹیم کو 7,382-ٹن (7,500 میٹرک ٹن)، 13,222 مربع فٹ (4,030 مربع میٹر) عمارت کے کمپلیکس کو عارضی طور پر منتقل کرنے کےقابل بنایا۔
Zhangyuan سٹی بلاک کی نقل مکانی کے عمل کو شروع کرنے سے پہلے انجینئرز نے تفصیلی 3D بلیو پرنٹس بنانے کے لیے بلڈنگ انفارمیشن ماڈلنگ اور پوائنٹ کلاؤڈ اسکیننگ ٹیکنالوجیز کا استعمال کیا۔ اس کے بعد انہوں نے ممکنہ تصادم کے مقامات اور کسی بھی اہم ساختی مسائل کی نشاندہی کرنے کے لیے ان اسکیمیٹکس کا تجزیہ کیا۔ اے آئی ماڈیولز نے زمین پر چلنے والے خصوصی روبوٹس کی مدد کی جو 1.
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
کینیڈا کے کثیر القومی کلچر کو بھارتی ڈانس کلچر کی یلغار کا سامنا، سماجی ماہرین نے خبردار کر دیا
کینیڈا کا روایتی، پرامن اور کثیر القومی کلچر اس وقت بھارتی امیگریشن اور ڈانس کلچر کی بے ہنگم یلغار کی زد میں ہے، جس پر سماجی ماہرین نے گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کینیڈین شناخت کے مٹنے کا خطرہ ظاہر کر دیا ہے۔
Canada has turned into an Indian colony!!!!
Canadians are now a minority in Toronto and the flood of immigrants is larger than ever before.
We cannot let this happen to us. Wake up!!!! pic.twitter.com/TIxnzuLeS7
— Știrile Rezistenței ???????? ???????? (@RomaniaMare1918) June 2, 2026
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ’رومانیا ماره 1918‘ نامی اکاؤنٹ سمیت متعدد حلقوں کی جانب سے جاری کردہ حقائق کے مطابق کینیڈا غیر ملکی امیگریشن، بالخصوص بے لگام بھارتی آبادی کے بوجھ تلے دب کر تیزی سے مسخ ہو رہا ہے۔ ٹورنٹو جیسے بڑے کینیڈین شہروں میں صورتحال اس حد تک سنگین ہو چکی ہے کہ وہاں کے اصل مقامی کینیڈین شہری اب اپنے ہی وطن میں اقلیت بن کر رہ گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:کینیڈا کے دارالحکومت اوٹاوا میں خالصتان ریفرنڈم کی تیاریاں مکمل
اس بے ہنگم ثقافتی یلغار اور بھارتیوں کی حد سے بڑھتی ہوئی تعداد کو ملک کے لیے ایک بھیانک سماجی و آبادیاتی تبدیلی (ڈیموگرافک شفٹ) کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جس نے کینیڈا کے امن کو تہہ و بالا کر کے رکھ دیا ہے۔
کینیڈا کے لیے صرف بھارتی ثقافتی یلغار ہی دردِ سر نہیں، بلکہ کینیڈا میں مقیم بھارتی شہریوں اور سٹوڈنٹس کی بڑھتی ہوئی تعداد کے ساتھ ہی ملک میں سنگین اسٹریٹ کرائمز، فراڈ، گینگ وار اور بدمعاشی کلچر میں ہولناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔ سیکیورٹی ماہرین کے مطابق کینیڈا کا پرامن معاشرہ اب بھارتی گینگز کی مجرمانہ سرگرمیوں کی وجہ سے عدم تحفظ کا شکار ہو چکا ہے۔
کینیڈا میں بسنے والے مظلوم سکھوں (خالصتان تحریک کے حامیوں) کے خلاف مودی سرکار کی ماورائے عدالت کارروائیوں اور ریاستی دہشت گردی نے کینیڈا کی خودمختاری پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔ مودی حکومت کی شہ پر کینیڈین دھرتی پر سکھ رہنماؤں کو نشانہ بنانے اور ان کے خلاف بھارتی ایجنسیوں کے خفیہ نیٹ ورک اور ہتھکنڈوں نے کینیڈا کے سیکیورٹی اداروں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔
کینیڈا کی سرزمین پر بھارتی مداخلت اور سکھوں کے خلاف ان سفاکانہ کارروائیوں کے باعث ماضی میں کینیڈا اور بھارت کے سفارتی تعلقات شدید ترین پستی کا شکار ہوئے، سفارت کاروں کو ملک بدر کیا گیا اور دونوں ممالک کے مابین تعلقات میں ایسی تلخی اور دوری پیدا ہوئی جو آج تک برقرار ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کینیڈین حکومت نے بھارتی یلغار، جرائم اور نئی دہلی کی ریاستی غنڈہ گردی کے خلاف اب بھی سخت ایکشن نہ لیا تو کینیڈا کی قومی شناخت اور امن ہمیشہ کے لیے دفن ہو جائیں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارت بھارتی کلچر ٹورنٹو کینیڈا