لاس اینجلس کا احتجاج دیگر امریکی ریاستوں میں پھیلنا شروع، مزید 2 ہزار نیشنل گارڈز کی تعیناتی کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 10th, June 2025 GMT
امریکی ریاست کیلیفورنیا کے شہر لاس اینجلس میں ٹرمپ کی حکومت کیخلاف ہونے والے مظاہرے ملک بھر میں پھیلنا شروع ہوگئے۔
سی این این کی رپورٹ کے مطابق ٹرمپ کی حکومت نے احتجاج کو روکنے کے لیے مزید ہزار نیشنل گارڈز کو تعینات کرنے کا اعلان کیا ہے۔
کیلیفورنیا کی ریاستی حکومت نے ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف مقدمہ دائر کر دیا ہے، جس میں عدالت سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ لاس اینجلس میں مظاہروں کے ردِعمل میں نیشنل گارڈ فوجیوں کی تعیناتی کو غیر آئینی قرار دے، اور مستقبل میں ایسی کسی بھی تعیناتی کو روکنے کا حکم جاری کرے۔
مختلف ریاستوں میں مظاہروں کا سلسلہ شروع
لاس اینجلس میں امیگریشن چھاپوں اور درجنوں تارکینِ وطن کی گرفتاری کے ردعمل کے طور پر شروع ہونے والے مظاہروں کے بعد ملک بھر میں اسی نوعیت کے احتجاج شروع ہوگئے ہیں۔
کیلیفورنیا کے دیگر علاقوں میں بھی مظاہرے شروع ہو چکے ہیں، جن میں لاس اینجلس کے جنوب مشرق میں واقع سانتا آنا اور ساحل کنارے واقع سان فرانسسکو شامل ہیں، جہاں اتوار کے روز تقریباً 150 افراد کو گرفتار کیا گیا۔
نیو یارک سٹی پولیس نے بتایا کہ انہوں نے بھی امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (آئی سی ای) کے خلاف مظاہروں میں متعدد افراد کو گرفتار کیا، جنہوں نے پیر کے روز وفاقی عمارتوں کے سامنے گاڑیوں کا راستہ روکا تھا۔
سی این این کی شراکت دار نیوز ایجنسی ’ڈبلیو ایس بی‘ کی ویڈیو کے مطابق پیر کی سہ پہر اٹلانٹا میں آئی سی ای عمارت کے باہر ہجوم نے حراست میں لیے گئے افراد کی رہائی کا مطالبہ کیا۔
اسی طرح کے مظاہرے پیر کے روز لوئس ویل، کینٹکی اور ڈیلاس میں بھی ہوئے۔
مختلف مقامات پر مزدور رہنماؤں نے ڈیوڈ ہویتا کی رہائی کا مطالبہ کیا، جو کہ لاس اینجلس میں ہونے والے مظاہروں کے دوران گرفتار کیے گئے ایک بااثر یونین رہنما ہیں، انہیں بعد میں ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔
ان کی رہائی کے لیے مظاہرے پیر کے روز بوسٹن، پٹسبرگ، شارلٹ، سیئٹل، واشنگٹن ڈی سی، اور دیگر کئی ریاستوں جیسے کنیکٹیکٹ اور نیویارک کے شہروں میں کیے گئے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ لاس اینجلس کے وسطی علاقے میں مظاہرین پر قابو پانے کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں نے ربڑ کی گولیاں چلانا شروع کر دیں، مظاہرین کی جانب سے اہلکاروں پر مختلف اشیا پھینکی گئیں، پولیس نے لوگوں کو علاقہ خالی کرنے کو کہا ہے۔
یو ایس ناردرن کمانڈ نے اعلان کیا کہ لاس اینجلس کے علاقے میں وفاقی عملے اور املاک کی حفاظت کے لیے تقریباً 700 میرینز کو متحرک کیا گیا ہے، اس کے علاوہ، پینٹاگون نے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کے آخر میں دی گئی ابتدائی ہدایت کے بعد مزید 2 ہزار نیشنل گارڈ فوجیوں کو علاقے میں تعینات کرنے کا حکم دیا ہے۔
صدر کے بارڈر سی زار ٹام ہومن نے ’سی این این‘ کو بتایا کہ مظاہروں کو کنٹرول کرنے کے لیے میرینز کی تعیناتی ضروری تھی، تاہم، انہوں نے یہ بتانے سے گریز کیا کہ انتظامیہ میرینز کو متحرک کرنے کی ضرورت کا فیصلہ کرنے کے لیے کون سا معیار استعمال کر رہی ہے۔
احتجاج ’پیشہ ورانہ آپریشن‘ ہے، کرسٹی نوئم
سیکریٹری ہوم لینڈ سیکیورٹی کرسٹی نوئم نے ’فاکس نیوز‘ پر ثبوت پیش کیے بغیر دعویٰ کیا کہ لاس اینجلس میں مظاہرین کو ادائیگی کی جا رہی ہے اور یہ احتجاج ’پیشہ ورانہ طور پر کیا گیا آپریشن‘ ہے۔
’فاکس نیوز‘ کے میزبان شان ہینٹی نے کرسٹی نوئم سے ان اینٹوں کے بارے میں پوچھا، جن کے بارے میں اُن کا دعویٰ تھا کہ وہ پراسرار طور پر ایک مظاہرے میں نمودار ہو گئیں، انہوں نے پوچھا کہ کیا آپ کو تنظیم اور مالی اعانت کے کوئی ثبوت ملے ہیں؟۔
نوئم نے جواب دیا ’بالکل، یہ منظم مظاہرے ہیں، ان لوگوں کو اس کام کے لیے پیسے دیے جا رہے ہیں، آپ ان کے رویے سے، اور بھیڑ میں ایک دوسرے کو کیے جانے والے اشاروں سے دیکھ سکتے ہیں کہ وہ تشدد کو ہوا دیتے ہیں، یہ ایک آپریشن ہے، اور یہ پیشہ ورانہ طریقے سے کیا جا رہا ہے، یہ پہلے بھی کیا جاچکا ہے، اور ہم اسے روکیں گے اور ان میں سے ہر ایک کو قانون کے کٹہرے میں لائیں گے۔
سی این این نے ہوم لینڈ سیکیورٹی ڈپارٹمنٹ سے نوئم کے دعوؤں پر تفصیلات فراہم کرنے کی درخواست کی ہے۔
نوئم نے مزید کہا کہ پیر کو قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں نے لاس اینجلس میں ’400 سے 500 اہداف‘ کے خلاف کارروائی کی، جو ان کے مطابق ’ایسے معروف گینگز کے ارکان تھے جو برسوں سے لوگوں کو نشانہ بنا رہے ہیں، اور جن کے خلاف گیون نیوزوم نے کچھ نہیں کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے آج کل سے زیادہ آپریشن کیے، اور کل ہم ان کوششوں کو دگنا کریں گے۔
مظاہرین کو وفاقی عمارت سے دور دھکیل دیا گیا
قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں نے مظاہرین کے گروہ کو آہستہ آہستہ وفاقی عمارت سے دور ایک سڑک پر لے جانا شروع کر دیا ہے۔
ایسا معلوم ہوتا ہے کہ لاس اینجلس پولیس یہ کارروائی نیشنل گارڈ کی شمولیت کے بغیر انجام دے رہی ہے۔
مظاہرین پُرامن ہیں، اور پولیس کے احکام کے مطابق آگے بڑھ رہے ہیں، کشیدگی اس وقت بڑھ جاتی ہے، جب اُنہیں ایک چھوٹے علاقے میں سمیٹ دیا جاتا ہے۔
ہر ایک منٹ کے بعد ایک آنسو گیس کے شیل کی آواز سنائی دیتی ہے، یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ کچھ مظاہرین کو پولیس کی طرف سے داغے گئے پروجیکٹائلز لگے ہیں، لیکن یہ فوری طور پر واضح نہیں کہ وہ کیا چیز ہے۔
Post Views: 3.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: لاس اینجلس میں کہ لاس اینجلس علاقے میں انہوں نے کے مطابق کے خلاف کے روز کے لیے
پڑھیں:
حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
اسلام آباد(نیوز ڈیسک)وزیراعظم کے اپنا گھر پروگرام کے تحت اپنا ذاتی گھر حاصل کرنے کے خواہشمند شہریوں کے لیے بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ پروگرام کے تحت کمرشل بینک اب تک 160 ارب روپے مالیت کے ہاؤسنگ قرضے منظور کر چکے ہیں جبکہ کامیاب درخواست گزاروں کو قرضوں کی فراہمی کا عمل بھی تیزی سے جاری ہے۔
یہ بات وزیر خزانہ کے مشیر عدنان پاشا نے کراچی میں منعقدہ فرسٹ انٹرنیشنل انشورنس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتائی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کا اپنا گھر پروگرام ملک میں تقریباً ایک کروڑ (10 ملین) گھروں کی کمی کو پورا کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے اور اس کے ذریعے کم آمدنی والے خاندانوں کو رعایتی شرائط پر اپنے گھر کا مالک بننے کا موقع فراہم کیا جا رہا ہے۔
عدنان پاشا نے بتایا کہ اس اسکیم کے تحت شہریوں کو صرف 5 فیصد رعایتی مارک اپ پر ہاؤسنگ قرض فراہم کیا جا رہا ہے جبکہ وزارت خزانہ اس منصوبے میں شامل بینکوں کے ممکنہ قرض نقصان کا 10 فیصد تک بوجھ خود برداشت کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ حکومت پہلے 10 سال تک مارک اپ سبسڈی بھی فراہم کر رہی ہے تاکہ ہاؤسنگ فنانس زیادہ سے زیادہ سستا اور عوام کی پہنچ میں رہ سکے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ مستحق خاندان اس سہولت سے فائدہ اٹھائیں، جس سے نہ صرف رہائشی مسائل میں کمی آئے گی بلکہ تعمیراتی شعبے، سیمنٹ، اسٹیل، ٹائلز، الیکٹریکل مصنوعات اور دیگر متعلقہ صنعتوں میں بھی معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔
اس موقع پر عدنان پاشا نے حکومت کے الیکٹرک موٹرسائیکل پروگرام پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت آئندہ برسوں میں 20 لاکھ الیکٹرک موٹرسائیکلیں متعارف کرانے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں تقریباً 30 لاکھ رجسٹرڈ موٹرسائیکلیں ہر سال قریب 8 ارب ڈالر مالیت کا درآمدی پٹرول استعمال کرتی ہیں، جس سے نہ صرف قیمتی زرمبادلہ خرچ ہوتا ہے بلکہ ماحولیاتی آلودگی میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت شہریوں کو الیکٹرک بائیکس کی خریداری پر سبسڈی اور بلاسود فنانسنگ فراہم کر رہی ہے تاکہ ایندھن پر انحصار کم کیا جا سکے، تاہم ملک میں الیکٹرک بائیکس کی پیداوار اور سپلائی کے مسائل اب بھی موجود ہیں، جنہیں دور کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
عدنان پاشا نے زرعی شعبے کے حوالے سے بتایا کہ حکومت نے حال ہی میں زرخیزی اسکیم بھی متعارف کرائی ہے جس کے تحت 21 بینکوں پاکستان بینکس ایسوسی ایشن اور سپارکو کے تعاون سے کسانوں کو ڈیجیٹل زرعی قرضے فراہم کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے میں سیٹلائٹ مانیٹرنگ اور ریئل ٹائم ڈیٹا کے ذریعے قرضوں کے استعمال کی نگرانی کی جائے گی تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے اور زرعی پیداوار میں اضافہ ہو۔
حکومتی حکام کے مطابق اپنا گھر پروگرام اور دیگر مالیاتی اسکیموں کا مقصد کم آمدنی والے طبقات کو سہولت فراہم کرنے معیشت کو متحرک کرنے، تعمیراتی سرگرمیوں کو فروغ دینے اور ملک میں پائیدار ترقی کی راہ ہموار کرنا ہے۔
مزید پڑھیں۔سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے بعد پنشن میں بھی اضافہ