اسلام آباد ہائیکورٹ کی کارکردگی؛ سب سے زیادہ کیسز نمٹانے والے ججز کی فہرست سامنے آگئی
اشاعت کی تاریخ: 10th, June 2025 GMT
ہائی کورٹ کی کارکردگی رپورٹ جاری کردی گئی، جس میں سب سے زیادہ کیسز نمٹانے والے ججز کی فہرست بھی شامل ہے۔ماہ مئی 2025 کے دوران اسلام آباد ہائی کورٹ نے قابل ذکر عدالتی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مجموعی طور پر 1415 مقدمات نمٹائے۔ سنگل اور ڈویژن بنچز پر مشتمل اس کارکردگی رپورٹ کے مطابق سب سے زیادہ کیسز جسٹس انعام امین منہاس نے نمٹائے، جنہوں نے 274 کیسز کا فیصلہ کیا اور سرِفہرست رہے۔رپورٹ کے مطابق جسٹس محمد اعظم خان 181 فیصلوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے۔ جسٹس محسن اختر کیانی نے 134 کیسز نمٹا کر تیسری پوزیشن حاصل کی جب کہ قائم مقام چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے 83 مقدمات نمٹائے۔اسی طرح جسٹس طارق محمود جہانگیری نے 59، جسٹس بابر ستار نے 71، جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے 52، جسٹس ارباب محمد طاہر نے 65، جسٹس ثمن رفعت امتیاز نے 71، جسٹس خادم حسین سومرو نے 80 اور جسٹس محمد آصف نے 113 مقدمات نمٹائے۔ڈویژن بنچز کی کارکردگی کے مطابق جسٹس سرفراز ڈوگر اور جسٹس محمد آصف پر مشتمل بینچ نے 9 کیسز، جسٹس محسن اختر کیانی اور جسٹس اعجاز اسحاق خان نے 2، جسٹس محسن کیانی اور جسٹس ثمن رفعت نے 25، جسٹس طارق جہانگیری اور جسٹس ثمن رفعت نے 9 کیسز نمٹائے۔اسی طرح جسٹس بابر ستار اور جسٹس اعجاز اسحاق نے 64 مقدمات، جسٹس ارباب طاہر اور جسٹس محمد اعظم نے 2، جسٹس ارباب طاہر اور جسٹس انعام منہاس نے 39، جسٹس محمد اعظم اور جسٹس انعام منہاس نے 67 ، جسٹس خادم سومرو اور جسٹس محمد اعظم نے 3 جب کہ جسٹس خادم سومرو اور جسٹس انعام منہاس نے ایک کیس نمٹایا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: اور جسٹس محمد منہاس نے
پڑھیں:
اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
سپریم کورٹ آف پاکستان نے سانحہ آرمی پبلک سکول (اے پی ایس) کے شہدا کے لواحقین کو اعلان کردہ معاوضہ پیکج نہ ملنے کے معاملے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا ہے۔
کیس کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کی۔ دوران سماعت جسٹس عرفان سعادت نے ریمارکس دیے کہ درخواست 25 دن کی تاخیر سے دائر کی گئی ہے۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ شہدا کے لواحقین کو حکومت کی جانب سے اعلان کردہ پیکج تاحال نہیں ملا۔
اس پر جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ اگر کوئی پیکج دیا گیا ہے تو وہ تمام متاثرہ لواحقین کو ملنا چاہیے۔
انہوں نے وفاقی حکومت کو ہدایت کی کہ وہ عدالت کو آگاہ کرے کہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد ہوا ہے یا نہیں۔
سماعت کے دوران یہ بھی بتایا گیا کہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد نہ ہونے کے خلاف شہدا کے لواحقین کی جانب سے توہین عدالت کی درخواست دائر کی گئی تھی، تاہم پشاور ہائیکورٹ نے مذکورہ درخواست کو خارج کر دیا تھا۔
بعد ازاں سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews جواب طلب سپریم کورٹ عدم ادائیگی معاوضہ پیکج وفاقی حکومت وی نیوز