وفاقی بجٹ: نان فائلرز اور ٹیکس چوروں کے گرد گھیرا تنگ کرنے کی تیاری
اشاعت کی تاریخ: 10th, June 2025 GMT
وفاقی بجٹ: نان فائلرز اور ٹیکس چوروں کے گرد گھیرا تنگ کرنے کی تیاری WhatsAppFacebookTwitter 0 10 June, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(آئی پی ایس ) وفاقی بجٹ 26-2025 آج پیش ہونے جا رہا ہے جس میں ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے اور نان فائلرز کے خلاف سخت اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ بجٹ 26-2025 میں نان فائلرز پر بیرون ملک سفر کرنے پر پابندی عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ بینک سے 50 ہزار روپے یا زائد کی رقم نکلوانے پر ودہولڈنگ ٹیکس کی شرح 0.
نان فائلرز کی موبائل فون سمز اور انٹرنیٹ ڈیوائسز بلاک نہیں جائیں گی، البتہ نان فائلرز پر گاڑیوں اور جائیداد کی خریداری پر پابندی برقرار رہے گی، اس کے علاوہ نان فائلرز کسی قسم کی مالیاتی ٹرانزیکشن، شیئرز خریدنے یا میوچل فنڈز میں سرمایہ کاری بھی نہیں کر سکیں گے۔ ٹیکس نظام میں بہتری کیلئے نان فائلرز کی کیٹگری مکمل طور پر ختم کرنے پر کام جاری ہے، تاکہ ہر شہری کو فائلر بننے کی ترغیب دی جا سکے۔دوسری جانب پوائنٹ آف سیل سسٹم میں ٹیکس چوری کے خلاف کارروائی بھی سخت کرنے کی تیاری ہے
، اس حوالے سے جرمانوں میں 10 گنا اضافے کی تجویز دی گئی ہے، جس کے تحت جرمانہ 5 لاکھ سے بڑھا کر 50 لاکھ روپے تک کیا جا سکتا ہے، اس کے علاوہ کیش پر خفیہ ڈسکانٹ یا الگ ریٹ دینے والے کاروباری ادارے بھی ٹیکس نیٹ میں لائے جائیں گے۔ انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے سیکشن 114 بی کے تحت نان فائلرز کے خلاف یہ اقدامات کئے جائیں گے، جن پر عملدرآمد بجٹ کی منظوری کے بعد ممکن بنایا جائے گا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرعید پر پاکستان بھر میں کتنے جانور پربان کیے گئے؟ٹینریز ایسوسی ایشن نے تفصیلات جاری کر دیں عید پر پاکستان بھر میں کتنے جانور پربان کیے گئے؟ٹینریز ایسوسی ایشن نے تفصیلات جاری کر دیں پاکستانی وفد کی سپیکر ہا ئوس آف کامنز سے ملاقات، بھارتی جارحیت بارے آگاہ کیا بھارتی جنگی جنون خطرہ بن،توازن کیلئے پاکستان کا دفاعی بجٹ بڑھانا ناگزیر غزہ ، اسرائیلی فائرنگ سے 10 فلسطینی شہید، 30 سے زائد زخمی پولی گرافک اور فوٹو گرامیٹک ٹیسٹ کا معاملہ، عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا حماس اور اسرائیل کے درمیان جاری مذاکرات میں ایران بھی شریک ہے، ٹرمپCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: نان فائلرز کرنے کی
پڑھیں:
کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
مزید :