Daily Ausaf:
2026-06-03@06:50:10 GMT

وفاقی حکومت کا بجٹ میں پرانی گاڑیاں سستی کرنے پر غور

اشاعت کی تاریخ: 10th, June 2025 GMT

اسلام آباد(اوصاف نیوز) وفاقی حکومت نے حالیہ بجٹ میں نیشنل ٹیرف پالیسی کے تحت پرانی گاڑیاں سستی کرنے کی تیاری کرلی.

حکومت نے آئی ایم ایف کو پرانی گاڑیوں کی درآمد پر ٹیکسز کم کرنے کی تجویز بھی دے دی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ آئندہ بجٹ میں 5 سال پرانی گاڑیوں کی درآمد کی تجویز ہے جب کہ گاڑیوں پر ایڈیشنل کسٹمز ڈیوٹی بھی مرحلہ وار ختم کرنے کے ساتھ ریگولیٹری ڈیوٹیز میں بھی کمی کی سفارش ہے۔

ذرائع کا بتانا ہے کہ کسٹمز ایکٹ کے پانچویں شیڈول میں اصلاحات کی تجویز ہے، آٹو سیکٹر پر نئی ریگولیٹری ڈیوٹیز لاگو نہ کرنے کی سفارش کی گئی ہے جب کہ پرانی گاڑیوں پر ٹیرف سالانہ 10 فیصد کم کرنے کی تجویز ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ آٹو سیکٹر پر نان ٹیرف رکاوٹوں کو ختم کرنے کی سفارش ہے اور 2030 تک آٹو سیکٹر پر اوسط ٹیرف 6 فیصد سے کم کرنے کی سفارش ہے۔

واضح رہے کہ اگلے مالی سال کے لیے تقریباً 18 ہزار ارب روپے کا بجٹ آج قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا جس میں تقریبا 2 ہزار ارب روپے کے نئے ٹیکس عائد ہوں گے۔
ٹیکس چوروں اور نان فائلرز کاگھیرا تنگ، 50 ہزار نکلوانے پر ٹیکس کی شرح دگنی کرنے کی تجویز

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: کی تجویز کی سفارش کرنے کی

پڑھیں:

بجٹ 2026-27: جائیداد کی خرید و فروخت پر ٹیکس میں بڑی کمی کی تجویز

وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ(Budget) میں جائیداد کی خرید و فروخت پر عائد ٹیکسوں میں نمایاں کمی کی تجاویز تیار کر لی ہیں، جن کا مقصد ریئل اسٹیٹ اور تعمیراتی شعبے میں سرمایہ کاری کو فروغ دینا اور معاشی سرگرمیوں میں اضافہ کرنا ہے۔

ذرائع کے مطابق بجٹ تجاویز کے تحت فائلرز کے لیے غیر منقولہ جائیداد کی خریداری پر عائد ٹیکس کی شرح موجودہ 1.5 فیصد سے کم کر کے 0.25 فیصد کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔ اسی طرح جائیداد کی فروخت پر عائد ٹیکس کو 4.5 فیصد سے کم کر کے 1.5 فیصد کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت ان اقدامات کے ذریعے پراپرٹی مارکیٹ میں موجود جمود کو ختم کرنا چاہتی ہے تاکہ خرید و فروخت کی سرگرمیوں میں اضافہ ہو اور تعمیراتی شعبہ دوبارہ متحرک ہو سکے۔

تاہم ان تجاویز پر بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں۔ ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف ٹیکسوں میں مجوزہ کمی کی مخالفت کر رہا ہے اور اسے حکومتی آمدن پر ممکنہ اثرات کے تناظر میں دیکھ رہا ہے۔

مزیدپڑھیں:بحر اوقیانوس کے اوپر سیکیورٹی الرٹ، طیارہ پونے 4 گھنٹے بعد واپس لوٹ آیا

حکومتی حکام کا مؤقف ہے کہ ٹیکس شرحوں میں کمی سے جائیداد کے شعبے میں سرمایہ کاری بڑھے گی، جس کے نتیجے میں مارکیٹ میں لین دین کا حجم بڑھنے سے مجموعی ٹیکس وصولیوں میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔ حکومت کا یہ بھی خیال ہے کہ تعمیراتی سرگرمیوں کے فروغ سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور معیشت کے مختلف شعبوں کو فائدہ پہنچے گا۔

ذرائع کے مطابق ان تجاویز کے حتمی خدوخال آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات اور وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد آئندہ بجٹ میں شامل کیے جا سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • جبری مشقت کے خلاف ناکافی اقدامات: امریکا کی انڈیا سمیت 60 ملکوں پر نئے ٹیرف عائد کرنے کی تجویز
  • مزدوروں کیلئے خوشخبری، کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • مہنگائی کے دباؤ میں مزدوروں کو ریلیف دینے کی سفارش، کم از کم تنخواہ میں 12.5 فیصد اضافے کی تجویز
  • پائیڈ کی کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش
  • بجٹ 2026-27: جائیداد کی خرید و فروخت پر ٹیکس میں بڑی کمی کی تجویز
  • کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار مقرر کرنے کی سفارش
  • وفاقی بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کیلئے حکومت اور پی پی پی کے مذاکرات نتیجہ خیز نہ ہوسکے
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ