بجٹ 26-2025: سولر پینلز پر کتنے فیصد جی ایس ٹی تجویز ہوا
اشاعت کی تاریخ: 10th, June 2025 GMT
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے نئے مالی سال 26-2025 کا 17 ہزار 573 ارب روپے سے زائد حجم کا بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کیا جس میں سولر پینلز کی درآمدات پر 18 فیصد کی شرح سے ٹیکس عائد کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پینشن میں کتنا اضافہ تجویز کیا گیا ہے؟
واضح رہے کہ درآمد شدہ اور مقامی طور پر تیار کردہ سولر پینلز کے درمیان مسابقت میں برابری کو یقینی بنانے کے لیے تجویز ہے کہ سولر پینلز کی درآمدات پر 18 فیصد کی شرح سے ٹیکس عائد کیا جائے۔ یہ اقدام پاکستان میں سولر پینلز کی مقامی صنعت کے فروغ میں اہم کردار ادا کرے گا۔
پاکستان سولر ایسوسی کے وائس چئیرمین آفاق علی خان نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کرتے ہوئے کہا کہ سولر پینلز پر 18 فیصد جی ایس ٹی لگانے کی منطقی وجہ نہیں ہے۔
مزید پڑھیے: بجٹ میں پرانی گاڑیاں سستی ہونے کی خوشخبری، آٹو سیکٹر کے لیے ریلیف
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ہائی پاور سولر پینلز بنانے والی کوئی فیکٹری نہیں اور یہاں صرف کم واٹ کے پینلز بنتے ہیں جو درآمدی پینلز کا مقابلہ نہیں کرتے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پینلز پہلے ہی مہنگے ہیں اور 18 فیصد جی ایس ٹی لگنے سے خریداروں کے لیے انہیں خریدنا اور بھی مشکل ہو جائے گا۔
یاد رہے کہ پاکستان کی حکومت نے مالی سال 2024 تا 2025 کے بجٹ میں شمسی توانائی کے ذریعے بجلی پیدا کرنے والے کئی آلات کے خام مال پر کسٹم ٹیکس کے خاتمے کا اعلان کیا تھا۔
مزید پڑھیں: مالی سال 26-2025 کی بجٹ تقریر شروع، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصد تک کا اضافہ متوقع
کسٹم ڈیوٹی سے مستثنیٰ قرار دیے جانے والے آلات میں سولر پینلز، بیٹریز اور انورٹرز میں استعمال ہونے والا سامان شامل تھا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بجٹ 26-2025 سولر پینل پر کتنا ٹیکس سولر پینلز سولر پینلز پر جی ایس ٹی کتنا.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: سولر پینل پر کتنا ٹیکس سولر پینلز سولر پینلز جی ایس ٹی کے لیے
پڑھیں:
بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔
پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔
ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔
سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔
ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔
پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔