نیا بجٹ؛ 2 ہزار ارب کے نئے ٹیکسز، یوٹیوبرز اور فری لانسرز ریڈار پر، نان فائلرز پر سختیاں
اشاعت کی تاریخ: 10th, June 2025 GMT
نیا بجٹ؛ 2 ہزار ارب کے نئے ٹیکسز، یوٹیوبرز اور فری لانسرز ریڈار پر، نان فائلرز پر سختیاں WhatsAppFacebookTwitter 0 10 June, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (آئی پی ایس )وفاقی حکومت کے نئے بجٹ میں 2 ہزار ارب روپے کے نئے ٹیکسز عائد کیے جانے کا امکان ہے جب کہ یوٹیوبرز اور فری لانسرز کو بھی ٹیکس نیٹ میں شامل کیے جانے کی تجویز ہے جب کہ نان فائلرز پر سختیاں مزید بڑھائی جائیں گی۔آئندہ مالی سال 2025-26 کے لیے تقریبا 17 ہزار 600 ارب روپے سے زائد حجم کا وفاقی بجٹ آج شام 5 بجے اسپیکر ایاز صادق کی زیرصدارت قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔ بجٹ اجلاس کے لیے 4 نکاتی ایجنڈا جاری کر دیا گیا ہے، جس کے مطابق قومی ترانے کے بعد اسپیکر کی اجازت سے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب وفاقی بجٹ، مالیاتی بل 2025 اور محاصل سمیت دیگر اہم دستاویزات ایوان میں پیش کریں گے۔
ذرائع کے مطابق نئے مالی سال کے بجٹ میں 2 ہزار ارب روپے کے نئے ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان ہے جبکہ تمام شعبوں میں دیا گیا ٹیکس استثنا ختم کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔اسی طرح مجموعی ٹیکس ریونیو کا ہدف 14 ہزار 131 ارب روپے اور نان ٹیکس ریونیو کا ہدف 5 ہزار 167 ارب روپے مقرر کیے جانے کا امکان ہے، جس کے ساتھ مجموعی محصولات کا ہدف 19 ہزار 298 ارب روپے تک پہنچ جائے گا۔بجٹ میں غیر ترقیاتی اخراجات کا تخمینہ 16 ہزار 286 ارب روپے لگایا گیا ہے جب کہ بجٹ خسارہ مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کا 5 فیصد یعنی 6 ہزار 501 ارب روپے رہنے کی توقع ہے۔ علاوہ ازیں قرضوں پر سود کی ادائیگی کے لیے 8 ہزار 207 ارب روپے اور دفاع کے لیے 2 ہزار 550 ارب روپے مختص کیے جانے کی تجویز ہے۔ سول حکومت کے جاری اخراجات کے لیے 971 ارب روپے اور سبسڈیز کے لیے 1 ہزار 186 ارب روپے رکھے جانے کی تجویز بھی بجٹ کا حصہ ہے۔
وفاقی بجٹ میں کاربن لیوی کی مد میں 2.
پنشن کی مد میں 1 ہزار 55 ارب روپے مختص کیے جانے کا امکان ہے۔یوٹیوبرز، فری لانسرز اور نان فائلرز کے لیے ٹیکس اقدامات متعارف کرانے کی تجویز ہے۔ ریٹیلرز پر ٹیکس وصولی کو بھی مزید سخت کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ نان فائلرز سے جی ایس ٹی کی شرح 18 فیصد سے بڑھا کر 20 فیصد کیے جانے اور بینک سے 50 ہزار روپے سے زیادہ کیش نکلوانے پر ٹیکس کی شرح 0.6 فیصد سے بڑھا کر 1.2 فیصد کیے جانے کی تجویز دی گئی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ بجٹ کی تیاری کے دوران آئی ایم ایف کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کو بھی مدنظر رکھا گیا ہے تاکہ بین الاقوامی مالیاتی ادارے کے اہداف اور اصلاحات پر عمل درآمد یقینی بنایا جا سکے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبروفاقی بجٹ ،پراپرٹی کے کاروبار پر ریلیف، سپرٹیکس میں کمی کا اعلان، وفاقی بجٹ ،پراپرٹی کے کاروبار پر ریلیف، سپرٹیکس میں کمی کا اعلان، وفاقی بجٹ میں سولر پینلز کی درآمد پر بھاری ٹیکس عائد کرنے کا فیصلہ حکومت کا درآمد شدہ ، سمگل گاڑیوں کو ضبط کرنے کا فیصلہ، بڑی خبر سب نیوز پر یہ بجٹ عوام دوست نہیں عوام دشمن ہے، پی ٹی آئی رکن قومی اسمبلی کی حکومت پر تنقید مسلح افواج کے افسران، سولجرز کیلئے اسپیشل ریلیف الاؤنس کا اعلان اسمگلنگ کی روک تھام والوں کے خلاف گھیرا تنگ: فنانس بل کے اہم نکات سب نیوز نے حاصل کر لیےCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: فری لانسرز نان فائلرز کے نئے
پڑھیں:
نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
بھارت میں نیٹ (NEET) امتحان کے مبینہ پیپر لیک کے خلاف دہلی سے شروع ہونے والا احتجاج اب ملک کے مختلف شہروں تک پھیل گیا ہے۔ طلبہ کی جانب سے امتحانی نظام میں شفافیت، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی اور اصلاحات کے مطالبات زور پکڑتے جا رہے ہیں، جبکہ دہلی یونیورسٹی نے اپنے طلبہ اور اساتذہ کو جنتر منتر پر جاری احتجاج میں شرکت سے گریز کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
پیپر لیک کے خلاف احتجاج اب صرف دارالحکومت دہلی تک محدود نہیں رہا۔ ممبئی، کولکاتا، بنگلورو، حیدرآباد، پٹنہ، لکھنؤ، چندی گڑھ اور دیگر شہروں میں بھی طلبہ تنظیموں نے ریلیاں، دھرنے اور احتجاجی مظاہرے شروع کر دیے ہیں۔ متعدد مقامات پر طلبہ نے امتحانی نظام میں اصلاحات، پیپر لیک میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی اور شفاف امتحانی عمل کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔
Huge crowd of students floods roads of Nashik.
Student protest is now getting pan India surge. pic.twitter.com/tW5HlH2LuY
— VIZHPUNEET (@vizhpuneet) July 23, 2026
ادھر اپوزیشن جماعتیں بھی طلبہ کی حمایت میں میدان میں آ گئی ہیں۔ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہول گاندھی اور ’انڈیا اتحاد‘ کے دیگر رہنماؤں نے احتجاجی طلبہ سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے وفاقی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ دہرایا ہے۔
دوسری جانب نیٹ دہلی یونیورسٹی نے اپنے سرکاری بیان میں کہا ہے کہ جنتر منتر پر ہونے والے اجتماعات سپریم کورٹ کی ہدایات کے تحت منظم کیے جاتے ہیں اور کسی بھی غیرقانونی مظاہرے میں شرکت کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ انتظامیہ کے مطابق ایسے اقدامات طلبہ کی سلامتی، تعلیمی مستقبل اور پیشہ ورانہ مواقع کو متاثر کر سکتے ہیں، اس لیے انہیں احتجاجی سرگرمیوں سے دور رہنے کی تلقین کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:وزیرِ تعلیم کے استعفے کا مطالبہ، نئی دہلی میں طلبہ کے احتجاج پر لاٹھی چارج
یونیورسٹی نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی جعلی اور گمراہ کن خبروں سے بھی خبردار کرتے ہوئے طلبہ کو غیر مصدقہ معلومات شیئر نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ پیپر لیک معاملے کی تحقیقات جاری ہیں اور ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی، تاہم طلبہ تنظیموں نے واضح کیا ہے کہ مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رہے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارت احتجاج دہلی احتجاج نیٹ پیپر لیک