شعبۂ صحت کے 21 منصوبوں کیلیے بھی رقم مختص
اشاعت کی تاریخ: 10th, June 2025 GMT
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن )وفاقی حکومت نے مالی سال 26-2025ء کے بجٹ میں پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام میں صحت کے شعبے کے 21 اہم منصوبوں کےلیے 14.3 ارب روپے مختص کر دیئے، جو گزشتہ برس کی نسبت نمایاں اضافہ ہے۔
بجٹ تقریر کے دوران وزیرِ خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے قومی اسمبلی کو بتایا کہ یہ رقم بیماریوں کے مؤثر تدارک، جدید طبی انفرااسٹرکچر کے قیام اور تمام شہریوں کو یکساں طبی سہولتوں کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے خرچ کی جائے گی۔جناح میڈیکل کمپلیکس اینڈ ریسرچ سینٹر اسلام آباد کے قیام کے لیے 4 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، یہ منصوبہ وفاقی دارالحکومت میں ایک فلیگ شپ ٹیریٹری کیئر اور ٹیچنگ فیسلیٹی کے طور پر قائم کیا جائے گا، ہیپاٹائٹس سی کے خاتمے کے لیے وزیرِاعظم پروگرام کے تحت 1 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، اس منصوبے کے ذریعے ملک گیر اسکریننگ اور علاج معالجے کی سہولتیں فراہم کی جائیں گی۔
برطانیہ، کینیڈا، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور ناروے نے اسرائیل پر پابندیاں عائد کردیں
وزیرِ خزانہ نے بتایا کہ شوگر کی روک تھام اور کنٹرول پروگرام کے لیے 80 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں تاکہ غیر متعدی امراض (NCDs) سے نمٹنے میں مدد ملے۔ اسلام آباد میں کینسر اسپتال کے قیام کے لیے 1.
اعلیٰ تعلیم کیلئے کتنی مختص کی گئی ؟
مزید :
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
پڑھیں:
طالبان رجیم کیخلاف بغاوت؛ ملا ہبت اللہ کا کنٹرول برقرار رکھنے کیلیے نیاحکم جاری
افغان طالبان رجیم کی مرکزی قیادت اور بدخشاں کے مقامی کمانڈروں کے درمیان اختلافات کھل کر سامنے آگئے ہیں۔
طالبان رجیم کے خلاف بغاوت کے اشارے ملنے پر ملا ہبت اللہ کا کنٹرول برقرار رکھنے کے لیے نیا حکم جاری کردیا گیا ہے۔ بدخشاں کے معدنی وسائل پر لڑائی اور عوامی بغاوت کے بعد امیر ہبت اللہ نے حالات کو کنٹرول کرنے کے لیے ایک سخت حکم نامہ جاری کیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق بدخشاں کے ناراض طالبان کمانڈروں اور حکام کے اثاثوں کی تفتیش کے لیے اعلیٰ سطح کا وفد مقرر کردیاگیا ہے۔ طالبان کے سربراہ ملا ہبت اللہ کا حکم نہ ماننے والے مقامی کمانڈروں کو فوراً گرفتار کرنے کی دھمکی دی گئی ہے۔
ذرائع ابلاغ کی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ بدخشاں میں جاری عوامی احتجاج اور بڑھتی ہوئی اندرونی بغاوت کو دبانے کے لیے خصوصی فوجی دستہ بھی تعینات کر دیاگیا ہے۔ قندھار گروپ نے بدخشاں گروپ کے ناراض طالبان رہنماؤں پر دباو ڈالنے کے لیے گرفتاریاں بھی شروع کر دی ہیں۔ اس دوران مقامی طالبان کمانڈر موسیٰ کاکے اور سابق مائنز ڈائریکٹر اسلام الدین کو گرفتار کرکے نامعلوم مقام پر منتقل کردیاگیا۔
عالمی ماہرین کے مطابق بدخشاں میں جاری لڑائی افغان طالبان کے اندر گہرے ہوتے ہوئے نسلی اور سیاسی اختلافات کا واضح ثبوت ہے۔ طالبان رجیم کیخلاف ملک کے اندر اور باہر شروع ہونے والی نئی تحریکیں،ان کے مکمل کنٹرول اور عوامی حمایت کے جھوٹے دعووں کی پول کھول رہی ہیں۔