Daily Pakistan:
2026-06-03@07:01:50 GMT

شعبۂ صحت کے 21 منصوبوں کیلیے بھی رقم مختص

اشاعت کی تاریخ: 10th, June 2025 GMT

شعبۂ صحت کے 21 منصوبوں کیلیے بھی رقم مختص

 اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن )وفاقی حکومت نے مالی سال 26-2025ء کے بجٹ میں پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام میں صحت کے شعبے کے 21 اہم منصوبوں کےلیے 14.3 ارب روپے مختص کر دیئے، جو گزشتہ برس کی نسبت نمایاں اضافہ ہے۔

 بجٹ تقریر کے دوران وزیرِ خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے قومی اسمبلی کو بتایا کہ یہ رقم بیماریوں کے مؤثر تدارک، جدید طبی انفرااسٹرکچر کے قیام اور تمام شہریوں کو یکساں طبی سہولتوں کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے خرچ کی جائے گی۔جناح میڈیکل کمپلیکس اینڈ ریسرچ سینٹر اسلام آباد کے قیام کے لیے 4 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، یہ منصوبہ وفاقی دارالحکومت میں ایک فلیگ شپ ٹیریٹری کیئر اور ٹیچنگ فیسلیٹی کے طور پر قائم کیا جائے گا، ہیپاٹائٹس سی کے خاتمے کے لیے وزیرِاعظم پروگرام کے تحت 1 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، اس منصوبے کے ذریعے ملک گیر اسکریننگ اور علاج معالجے کی سہولتیں فراہم کی جائیں گی۔

برطانیہ، کینیڈا، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور ناروے نے اسرائیل پر پابندیاں عائد کردیں

وزیرِ خزانہ نے بتایا کہ شوگر کی روک تھام اور کنٹرول پروگرام کے لیے 80 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں تاکہ غیر متعدی امراض (NCDs) سے نمٹنے میں مدد ملے۔ اسلام آباد میں کینسر اسپتال کے قیام کے لیے 1.

7 ارب روپے جبکہ ضروری طبی آلات کی خریداری کے لیے 90 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ پمز اسلام آباد میں ایک جدید اسٹروک انٹروینشن سینٹر کے قیام، کریٹیکل کیئر اور کارڈیک فیسیلیٹی کی توسیع کے لیے بھی 90 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں، جس کا مقصد ایمرجنسی رسپانس کی صلاحیت کو بہتر بنانا ہے۔یہ تمام منصوبے مضبوط، جامع اور پائیدار صحت کے نظام کی تشکیل کی جانب ایک اہم قدم ہیں، جو پاکستان کی سماجی و اقتصادی ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔

اعلیٰ تعلیم کیلئے کتنی مختص کی گئی ؟

مزید :

ذریعہ

ذریعہ: Daily Pakistan

پڑھیں:

طالبان رجیم کیخلاف بغاوت؛ ملا ہبت اللہ کا کنٹرول برقرار رکھنے کیلیے نیاحکم جاری

افغان طالبان رجیم کی مرکزی قیادت اور بدخشاں کے مقامی کمانڈروں کے درمیان اختلافات کھل کر سامنے آگئے ہیں۔

طالبان رجیم کے خلاف بغاوت   کے اشارے ملنے پر ملا ہبت اللہ کا کنٹرول برقرار رکھنے کے لیے نیا حکم جاری کردیا گیا ہے۔ بدخشاں کے معدنی وسائل پر لڑائی اور عوامی بغاوت کے بعد امیر ہبت اللہ نے  حالات کو کنٹرول کرنے کے لیے ایک سخت حکم نامہ جاری کیا  ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق بدخشاں کے ناراض طالبان کمانڈروں اور حکام کے اثاثوں کی تفتیش کے لیے اعلیٰ سطح کا وفد مقرر کردیاگیا ہے۔ طالبان کے سربراہ ملا ہبت اللہ کا حکم نہ ماننے والے مقامی کمانڈروں کو فوراً گرفتار کرنے کی دھمکی دی گئی ہے۔

ذرائع ابلاغ کی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ بدخشاں میں جاری عوامی احتجاج اور بڑھتی ہوئی اندرونی بغاوت کو دبانے کے لیے خصوصی فوجی دستہ بھی تعینات کر دیاگیا ہے۔ قندھار گروپ نے بدخشاں گروپ کے ناراض طالبان رہنماؤں پر دباو ڈالنے کے لیے گرفتاریاں بھی شروع کر دی ہیں۔ اس دوران مقامی طالبان کمانڈر موسیٰ کاکے اور سابق مائنز ڈائریکٹر اسلام الدین کو گرفتار کرکے نامعلوم مقام پر منتقل کردیاگیا۔

عالمی ماہرین کے مطابق بدخشاں میں جاری لڑائی افغان طالبان کے اندر گہرے ہوتے ہوئے نسلی اور سیاسی اختلافات کا واضح ثبوت ہے۔  طالبان رجیم کیخلاف ملک کے اندر اور باہر شروع ہونے والی نئی تحریکیں،ان کے مکمل کنٹرول اور عوامی حمایت کے جھوٹے دعووں کی پول کھول رہی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • طالبان رجیم کیخلاف بغاوت؛ ملا ہبت اللہ کا کنٹرول برقرار رکھنے کیلیے نیاحکم جاری
  • دنیا بھر میں غیر قانونی طور پر مقیم بھارتی شہری مختلف ممالک کیلیے وبال جان بن گئے
  • دنیا بھر میں غیر قانونی طور پر مقیم بھارتی شہری مختلف ممالک  کیلیے وبال جان بن گئے
  • وفاقی بجٹ 2026-27 میں شعبۂ تعلیم کے نئے ترقیاتی منصوبے بڑی حد تک نظرانداز
  • پی سی بی کا چاچا کرکٹ کیلیے یادگاری تحفہ
  • بجٹ میں اراکین پارلیمنٹ کے لاجز کی تعمیر کیلئے ڈیڑھ ارب روپے مختص کرنے کی تجویز
  • گلگت میں نئے منصوبوں کی نگرانی خود کروں گا: نواز شریف
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • اراکین پارلیمنٹ کیلئے اضافی فیملی سوٹس کی تعمیر کی تجویز، بجٹ میں ڈیڑھ ارب روپے مختص ہونے کا امکان
  • پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز