آمدن، ترسیلات زر کو مدنظر رکھ کر عوام کیلئے بھرپور ریلیف کی کوشش کی: عرفان صدیقی
اشاعت کی تاریخ: 11th, June 2025 GMT
اسلام آباد (ویب ڈیسک) سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا کہ موجودہ حالات، آمدن اور ترسیلات زر کو مدنظر رکھتے ہوئے عوام کو بھرپور ریلف دینے کی کوشش کی گئی ہے۔
مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما و سینیٹ میں پارلیمانی لیڈرسینیٹر عرفان صدیقی نے بجٹ اجلاس کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کہ وزیراعظم محمد شہبازشریف اور انکی معاشی ٹیم نے معیشت کو بہتری کی طرف گامزن کیا، تمام اشاریے مثبت ہیں اور مستقبل میں بھی بہتری کی نشاندی کر رہے ہیں۔
عرفان صدیقی کا کہنا تھا کہ بجٹ میں غربت سے نیچے طبقہ کو ترجیح دی ہے اور نوجوانوں کی ترقی کے لئے اقدامات اور منصوبے تجویز کئے ہیں، کہا جا رہا تھا کہ معیشت کا برا حال ہے ملک دیوالیہ ہونے جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جہاں تک وفاقی بجٹ کی بات ہے بجٹ بنانا آسان نہیں ہوتا موجودہ حالات، آمدن اور ترسیلات زر کو مد نظر رکھتے ہوئے عوام کو بھر پور ریلف دینے کی کوشش کی گئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے تنخواہ دار سرکاری ملازمین کا بجٹ میں خاص خیال رکھا اور 6سے 7فیصد اضافے کی تجویز تھی لیکن وزیر اعظم نے 10فیصد اضافہ دینے کا اعلان کیا اور ٹیکس میں بھی کمی کی گئی ہے جس کا امپیکٹ 15فیصد سے بھی زائد بنے گا۔
Post Views: 3.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: عرفان صدیقی
پڑھیں:
واپڈا صارفین کے لیے خوشخبری، جون میں 20 پیسے فی یونٹ ریلیف برقرار
اسلام آباد،بجلی صارفین(awais laghari) کے لیے اچھی خبر سامنے آئی ہے کیونکہ جون 2026 کے دوران صارفین کو فی یونٹ 20 پیسے کا خالص ریلیف ملے گا جبکہ بجلی کی مجموعی قیمتوں میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا۔
حکومتی ذرائع کے مطابق اس ریلیف کے نتیجے میں جون 2026 کے بجلی نرخ جنوری سے مئی 2026 کے مقابلے میں برقرار رہیں گے اور صارفین پر کوئی اضافی مالی بوجھ نہیں پڑے گا۔
پس منظر میں اپریل 2026 کے دوران عالمی توانائی منڈی کو شدید دباؤ کا سامنا رہا۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے باعث آر ایل این جی کی قلت پیدا ہوئی جبکہ برینٹ خام تیل کی قیمت 70 ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔
ماہرین کے مطابق اگر بروقت اقدامات نہ کیے جاتے تو صارفین پر 5 سے 6 روپے فی یونٹ تک اضافی بوجھ پڑ سکتا تھا۔حکومت نے صورتحال سے نمٹنے کے لیے محدود لوڈ مینجمنٹ، مارکیٹوں کی جلد بندش، مقامی گیس کی اضافی فراہمی اور فرنس آئل کے محدود استعمال سمیت متعدد اقدامات کیے۔
، جس کے نتیجے میں فیول ایڈجسٹمنٹ کا اثر صرف 1.73 روپے فی یونٹ تک محدود رہا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان اقدامات سے تقریباً 38 ارب روپے کا ممکنہ اضافی بوجھ صارفین پر منتقل ہونے سے بچ گیا۔
دوسری جانب بہتر انتظامی اصلاحات، لائن لاسز میں کمی، بجلی کی طلب میں اضافے اور مختلف ٹیرف پیکیجز کے مثبت اثرات کے باعث سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ میں 1.93 روپے فی یونٹ کمی ہوئی۔
مزید پڑھیں:وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی
جس سے صارفین کو مجموعی طور پر 65 ارب روپے کا فائدہ پہنچا۔حکومت کا مؤقف ہے کہ توانائی کے شعبے میں بروقت فیصلوں اور مؤثر انتظامی حکمت عملی کے باعث عالمی اور علاقائی چیلنجز کے باوجود بجلی صارفین کو بڑے مالی بوجھ سے محفوظ رکھا گیا۔