پی ایس ایل کا 11واں ایڈیشن؛ کئی چیزیں تبدیل کرے گا، مگر کون کون سی؟
اشاعت کی تاریخ: 11th, June 2025 GMT
پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کا 11واں ایڈیشن ٹائٹل اسپانسر سمیت کئی چیزیں تبدیل کردے گا۔
تفصیلات کے مطابق پی ایس ایل 11 کا بھی 10 ویں ایڈیشن کی طرح آئندہ برس اپریل، مئی میں آئی پی ایل کے ساتھ میلہ سجنے کا امکان ہے کیونکہ آئندہ برس فروری، مارچ میں آئی سی سی ٹی20 ورلڈکپ شیڈول ہے، اس لیے پاکستان کو اپنی لیگ کے لیے نئی تاریخوں کا تعین کرنا ہوگا۔
اس صورت میں زمبابوے سے ہوم سیریز ری شیڈول کرنا ہوگی، قبل ازیں دسمبر، جنوری میں لیگ کروانے کی تجویز پیش کی گئی تھی تاہم کم وقت میں ٹورنامنٹ کا انعقاد اور غیر ملکی کھلاڑیوں کو لانا بےحد دشوار ہے۔
مزید پڑھیں: پی ایس ایل 11، اپریل مئی 2026 میں میلہ سجنے کا امکان
10 ایڈیشن مکمل ہونے کے بعد اب موجودہ 6 فرنچائز ٹیموں کی ویلیویشن ہوگی جس کے بعد 25 فیصد تک فیس میں اضافہ متوقع ہے، گزشتہ برس دسمبر میں ہی تمام ٹیموں نے تحریری طور پر ملکیت برقرار رکھنے کا کہہ دیا تھا، البتہ ملتان سلطانز کے اونر علی ترین نے مالی نقصان پر آواز بلند کی تھی۔
لیگ کے اختتام کے بعد سے علی ترین وہ خاموش ہیں لہذا واضح نہیں ہوسکا کہ وہ ٹیم اپنے پاس رکھیں گے یا دوبارہ بڈنگ کی جانب جائیں گے، ابھی سب سے مہنگی اس ٹیم کی سالانہ ایک ارب روپے سے زائد فیس ادا کی جاتی ہے۔
مزید پڑھیں: پی ایس ایل کے 11ویں، 12ویں ایڈیشن کی ممکنہ تاریخیں منظر عام پر آگئیں
پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے 11 ویں ایڈیشن سے 2 نئی ٹیموں کو شامل کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن اس حوالے سے بھی تاحال کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔
اسی طرح ٹائٹل اسپانسر شپ کے 10 سالہ معاہدے کی بھی تجدید ہونا، گراؤنڈ اسپانسر شپ کی 8 سے 10 کیٹیگریز، براڈ کاسٹ کے ملکی اور بین الاقوامی الگ کنٹریکٹس، لائیو اسٹریمنگ کا بھی نیا معاہدہ جیسے کئی اہم کام اب بھی باقی ہیں۔
مزید پڑھیں: پی ایس ایل 10 کی فاتح اور رنر اپ ٹیم کو کتنی انعامی رقم ملی؟
گزشتہ برس پاکستان کے لائیو اسٹریمنگ رائٹس تقریبا ایک ارب 80 کروڑ روپے میں فروخت ہوئے تھے، لوکل براڈ کاسٹ سے تقریبا 6 ارب30 کروڑ جبکہ انٹرنیشنل سے4.
اس وقت ٹائٹل اسپانسر شپ سے پی سی بی کو تقریبا 90 کروڑ روپے سالانہ ملتے ہیں۔
مزید پڑھیں: پی ایس ایل فائنل؛ کیا گلیڈی ایٹرز کپتان کی وجہ سے ہاری؟
موجودہ فارمیٹ برقرار رہنے پر دو نئی ٹیموں کی شمولیت سے پی ایس ایل کے میچز کی تعداد 34 بڑھ کر 54 ہو جائے گی،اس طرح تمام معاہدوں کی ویلیو تقریبا 30 فیصد تک بڑھ جائے گی، البتہ ابھی یہ فیصلہ ہونا بھی باقی ہے کہ 2 نئی ٹیموں کو کیا موجودہ فنانشل ماڈل کی طرح حصہ دیا جائے گا یا کوئی نیا طریقہ استعمال ہوگا۔
مزید پڑھیں: اسپورٹس پریزینٹر کی آئی پی ایل میں کھلاڑی کو ڈیٹ کرنے کی خبریں
اس حوالے سے موجودہ فرنچائزز کے ذرائع نے بتایا کہ ابھی بورڈ نے ہم سے نئی ٹیم کے حوالے سے کوئی تبادلہ خیال نہیں کیا فنانشل ماڈل تو بہت دور کی بات ہے، 11 ویں ایڈیشن کی تاریخیں فائنل نہیں ہیں تاہم آئندہ برس اپریل،مئی میں انعقاد ممکن لگتا ہے۔
پی ایس ایل گورننگ کونسل کی میٹنگ طلب کرنے کیلئے ایک مشترکہ ای میل بھیجی تھی، عید کی تعطیلات کے بعد کوئی جواب آنا متوقع ہے۔
ذرائع کے مطابق فرنچائزز کو آئی پی ایل سے تاریخوں کے تصاوم کی وجہ سے جو خدشات تھے 10 ویں ایڈیشن کے بعد وہ کم رہ گئے، البتہ براڈ کاسٹرز و رائٹس ہولڈرز کی رائے مختلف ہے، آئندہ برس اپریل اور مئی میں آئی پی ایل کے ساتھ ہی پی ایس ایل کا انعقاد ممکن ہے تاہم حتمی فیصلہ کچھ عرصے بعد کیا جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ا ئی پی ایل ویں ایڈیشن مزید پڑھیں پی ایس ایل نئی ٹیم کے بعد ایل کے
پڑھیں:
فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد میں اضافی پانی کا منصوبہ ’کے فور‘ کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے، جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا، جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی، حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1 ارب 20 کروڑ گیلن ہے، جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کرنے کیلئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا، لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔ 2014ء میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بنانا تھا، جس کی لاگت 25 ارب روپے بتائی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا، تاہم پھر اس کو واپڈا کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہو سکا۔ کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا، تاہم اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026ء کی ڈیڈ لائن دی ہے۔
کے فور منصوبہ 2026ء میں بھی مکمل نہیں ہو سکے گا، اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029ء کی جنوری تک ہے۔ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جانے ہیں، جن میں ٹراسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنانے کے کام کی ذمہ داری ہے، جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے، اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی، جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے، آگمیٹیشن کا نیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025ء سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا، بلکہ بین الاقومی مالیاتی ادارے نے اس کو غیر معیاری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی ہے، جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جائیں گی اس وقت شہریوں کو آمدورفت میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگا۔