بھارت: جعلی سفارتخانے کے کیس میں مزید سنسنی خیز انکشافات سامنے آگئے
اشاعت کی تاریخ: 25th, July 2025 GMT
بھارت کی ریاست اتر پردیش کی پولیس کی اسپیشل ٹاسک فورس (ایس ٹی ایف) نے جعلی سفیر بن کر بیرون ملک روزگار کے جھانسے میں لوگوں سے دھوکہ دہی کرنے والے ہرش وردھن جین کے خلاف تحقیقات کے دوران بین الاقوامی سطح پر پھیلے فراڈ اور منی لانڈرنگ نیٹ ورک کا انکشاف کیا ہے۔
ایس ٹی ایف کے مطابق، ہرش وردھن جین نے نہ صرف جعلی سفارتخانہ قائم کر رکھا تھا بلکہ اس نے کئی شیل کمپنیاں بھی مختلف ممالک میں رجسٹر کروا رکھی تھیں، جن کے ذریعے ہنڈی اور حوالہ کے ذریعے رقوم کی منتقلی کی جاتی تھی۔
بین الاقوامی بینک اکاؤنٹس اور کمپنیاںحکام کے مطابق ہرش وردھن جین کے پاس 11 بینک اکاؤنٹس موجود ہیں جن میں دبئی میں 6، ماریشس میں 3 اور برطانیہ، بھارت میں ایک ایک اکاؤنٹ ہے۔ جعلی سفیر نے برطانیہ، دبئی، ماریشس، کیمرون میں جعلی کمپنیاں بھی قائم کر رکھی تھیں۔
فراڈ، دھوکہ دہی اور جعلی سفارتکاریہرش وردھن جین نے خود کو کئی غیر تسلیم شدہ یا فرضی ’مائیکرو نیشنز‘ جیسے کہ ویسٹارکٹیکا، سبورگا، لوڈونیا، پولوویا وغیرہ کا سفیر یا مشیر ظاہر کیا۔
اس فراڈ کے ذریعے وہ لوگوں کو بیرون ملک ملازمتوں، سفارتی عہدوں اور جعلی ویزوں کا جھانسہ دے کر لاکھوں روپے لوٹ چکا ہے۔
یہ بھی پڑھیے بھارت میں خود ساختہ ریاست کا جعلی سفارتخانہ بے نقاب، ملزم گرفتار
تعلقات اور پرانا نیٹ ورکحکام کے مطابق جین کا تعلق احسان علی سید سے بھی تھا، جو 2008 سے 2011 کے دوران جعلی قرضوں اور کمپنیوں کے ذریعے 70 ملین یورو کا فراڈ کر چکا ہے۔
احسان کو 2022 میں لندن سے گرفتار کرکے 2023 میں سوئٹزرلینڈ کے حوالے کیا گیا، جہاں وہ 6 سال قید کی سزا کاٹ رہا ہے۔
جین کے غازی آباد میں واقع کرائے کے مکان سے 18 سفارتی نمبر پلیٹس 12 جعلی ڈپلومیٹک پاسپورٹس، وزارتِ خارجہ کی جعلی مہر والے کاغذات، 34 ممالک کی جعلی مہریں، 44 لاکھ روپے نقدی غیر ملکی کرنسی 4 گاڑیاں سفارتی نمبر پلیٹس کے ساتھ قیمتی گھڑیاں برآمد ہوئیں۔
تعلیم اور جعلی شناختہرش وردھن جین نے بی بی اے (BBA) کی ڈگری غازی آباد سے حاصل کی ایم بی اے (MBA) لندن سے کیا، 2 پین کارڈز استعمال کرتا رہا لندن میں 16 کمپنیاں منی لانڈرنگ کے لیے استعمال کیں۔
یہ بھی پڑھیےبھارتی خاتون کی شناخت چرا کر فحش AI مواد کرکے 5 دنوں میں لاکھوں کمانے والے کا اب انجام کیا ہوگا؟
تازہ تحقیقاتایس ٹی ایف اب اس بات کی تحقیقات کر رہی ہے کہ آیا جین اور احسان سید کا فراڈ نیٹ ورک مشترکہ تھا یا دونوں علیحدہ دھوکہ دہی کے ماہر ہیں جو آپس میں منسلک ہو گئے۔
اس کیس نے بھارت میں جعلی سفارتی نظام، منی لانڈرنگ اور بین الاقوامی مالیاتی جرائم کے حوالے سے کئی سوالات کو جنم دے دیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اترپردیش بھارت میں جعلی سفارت خانہ جعلی سفارت کار.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اترپردیش بھارت میں جعلی سفارت خانہ جعلی سفارت کار
پڑھیں:
ایران سے ڈیل کے نام پر بھیک کیوں مانگی جا رہی ہے؟ ڈیموکریٹک سینیٹر کے روبیو سے سخت سوالات
واشنگٹن:امریکی سینیٹ میں ایران سے متعلق پالیسی پر اس وقت گرما گرم بحث دیکھنے میں آئی جب ڈیموکریٹک سینیٹر کوری بُکر نے وزیر خارجہ مارکو روبیو کو سخت سوالات کی زد میں لے لیا۔
سینیٹ اجلاس کے دوران کوری بُکر نے حکومت کی ایران پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ آخر امریکا کیوں ایران کے ساتھ کسی معاہدے کی طرف دوبارہ بڑھ رہا ہے اور وہ بھی ایسے وقت میں جب ماضی میں اسی ڈیل کو خود امریکا ناقابل قبول قرار دے چکا تھا۔
سینیٹر نے طنزیہ انداز میں کہا کہ کیا واشنگٹن اب اس معاہدے کے لیے دباؤ کا شکار ہو رہا ہے جسے پہلے مسترد کیا جا چکا تھا۔
بُکر نے مزید کہا کہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز سے متعلق اقدامات اور خطے کی صورتحال پہلے ہی کشیدہ ہے اس کے باوجود سفارتی راستہ کس بنیاد پر اختیار کیا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیںایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
جواب میں وزیر خارجہ مارکو روبیو نے مؤقف اختیار کیا کہ امریکا ایران سے کسی بھیک کی پوزیشن میں نہیں بلکہ یہ ایک پیچیدہ سفارتی اور تکنیکی عمل ہے۔
ان کے مطابق ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات جذباتی نہیں بلکہ انتہائی تکنیکی نوعیت کے ہیں، جو چند دنوں میں مکمل نہیں ہو سکتے۔
روبیو نے کہا کہ ماہرین کی سطح پر بات چیت ہفتوں یا مہینوں تک جاری رہ سکتی ہے تاکہ ایک قابلِ عمل حل نکالا جا سکے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ایران اب ان بعض امور پر بات کرنے پر آمادہ ہوا ہے جن سے پہلے وہ انکار کرتا رہا ہے، خصوصاً افزودہ یورینیم کے معاملے پر پیش رفت کی ضرورت ہے۔