بلوچستان سے اسلام آباد کی جانب رواں ’حق دو بلوچستان‘ لانگ مارچ کو پنجاب کے شہر مظفر گڑھ میں پولیس نے روک دیا، جبکہ جماعت اسلامی بلوچستان کے 2 نائب  امراء سمیت 11 کارکنوں کو حراست میں لے لیا گیا۔ جماعت اسلامی کے ذرائع کے مطابق  لانگ مارچ کو مظفر گڑھ سے آگے نہیں بڑھنے دیا جارہا ہے۔  8 کلومیٹر تک کنٹینرز لگا کر راستے سیل کردئیے گئے ہیں۔ جس کے نتیجے میں ہزاروں گاڑیاں محصور ہو کر رہ گئی ہیں۔

لانگ مارچ کی قیادت جماعت اسلامی بلوچستان کے امیر اور رکن صوبائی اسمبلی مولانا ہدایت الرحمان بلوچ کر رہے ہیں۔ مارچ 2 روز قبل کوئٹہ سے شروع ہوا تھا اور اس کا مقصد بلوچستان کے وسائل کی منصفانہ تقسیم، عوامی محرومیوں کے خاتمے، اور آئینی حقوق کے حصول کے لیے آواز بلند کرنا ہے۔

مارچ کے شرکا لورالائی سے روانہ ہو کر ڈیرہ غازی خان کے راستے ملتان جا رہے تھے، تاہم پولیس نے مظفر گڑھ کے مقام پر قافلے کو آگے بڑھنے سے روک دیا۔ اس دوران جماعت اسلامی کے متعدد کارکنان کو گرفتار کیا گیا، جن میں جماعت کے 2 نائب امراء بھی شامل ہیں۔

اس سے قبل لانگ مارچ فورٹ منرو کے مقام سے پنجاب میں داخل ہوا جہاں عوام کی بڑی تعداد نے مارچ کا استقبال کیا۔ خطاب کرتے ہوئے مولانا ہدایت الرحمان بلوچ نے کہا:

’ہماری جدوجہد پرامن ہے، حکومت غیر جمہوری ہتھکنڈے استعمال نہ کرے۔ لانگ مارچ ہر صورت اسلام آباد پہنچے گا۔‘

لانگ مارچ کے شرکا کا اتوار کے روز لاہور پہنچنے کا پروگرام ہے، جہاں جماعت اسلامی کے صوبائی و مرکزی قائدین مارچ سے خطاب کریں گے۔

یہ بھی پڑھیے سرحد کی بندش اور لاپتا افراد کی عدم بازیابی پر مولانا ہدایت الرحمان کا اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کا اعلان

یاد رہے کہ جماعت اسلامی بلوچستان کے زیر اہتمام کوئٹہ سے اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا آغاز جمعہ کو ہوا۔ لانگ مارچ کے قافلے کو کوئٹہ سے کچلاک اور بوستان تک 20 کلومیٹر کے فاصلے میں 3 مقامات پر روکنے کی کوشش کی گئی۔

یہ مارچ جماعت اسلامی بلوچستان کے صوبائی امیر اور رکن صوبائی اسمبلی مولانا ہدایت الرحمان کی قیادت میں روانہ ہوا، جس میں جماعت اسلامی کے مرکزی رہنماؤں اور صوبائی قیادت نے بھی بھرپور شرکت کی۔

لانگ مارچ کی روانگی کے موقع پر خواتین کارکنان بھی بڑی تعداد میں موجود تھیں جنہوں نے قافلے کو رخصت کیا۔ مولانا ہدایت الرحمان نے اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا:

’یہ مارچ بلوچستان کے عوام کے حقوق، ساحل و وسائل اور معدنیات پر ان کے جائز حق کے لیے کیا جا رہا ہے۔ ہم اسلام آباد کے حکمرانوں سے سوال کریں گے کہ بلوچستان کو مسلسل محرومیوں کا شکار کیوں بنایا جا رہا ہے؟‘

انہوں نے کہا کہ عوام کو تعلیم، صحت، روزگار جیسے بنیادی مسائل کا سامنا ہے لیکن حکومت مسلسل خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: سیاسی جماعتوں نے بلوچستان کے عوام کو استعمال کیا، مولانا ہدایت الرحمان

لانگ مارچ کے قافلے کو کوئٹہ سے کچلاک اور بوستان تک 20 کلومیٹر کے فاصلے میں 3 مقامات پر روکنے کی کوشش کی گئی۔ ایئرپورٹ روڈ طور ناصر، کچلاک بائی پاس، کچلاک بازار اور بوستان کے مقام پر کنٹینرز اور دیگر رکاوٹیں کھڑی کی گئیں، لیکن کارکنان نے مولانا ہدایت الرحمان کی قیادت میں تمام رکاوٹیں عبور کر لیں اور قافلہ پرامن انداز میں اپنی منزل کی طرف روانہ ہو گیا۔

مولانا ہدایت الرحمان نے خبردار کیا کہ ہم پرامن لوگ ہیں، ہمیں اشتعال نہ دلایا جائے۔ حکومت جمہوری جدوجہد کے راستے میں رکاوٹیں نہ ڈالے۔ ہم ان شاء اللہ تمام رکاوٹیں توڑ کر اسلام آباد پہنچیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پنجاب کے عوام ہمارے منتظر ہیں، ہم ان کے ساتھ مل کر لانگ مارچ کو کامیاب بنائیں گے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ بلوچستان کے عوام کو ان کا حق دیا جائے، ان کی آواز ایوانوں تک پہنچائی جائے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

جماعت اسلامی بلوچستان حق دو بلوچستان لانگ مارچ مولانا ہدایت الرحمان بلوچ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: جماعت اسلامی بلوچستان حق دو بلوچستان لانگ مارچ مولانا ہدایت الرحمان بلوچ جماعت اسلامی بلوچستان کے مولانا ہدایت الرحمان جماعت اسلامی کے اسلام آباد لانگ مارچ قافلے کو کوئٹہ سے کے عوام مارچ کے

پڑھیں:

مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج

طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کررہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ انتظامیہ نے جوہر یونیورسٹی کی 40 میں سے 38 عمارتوں کو منہدم کرنے کے احکامات جاری کئے ہیں۔ یونیورسٹی میں زیر تعلیم اور فارغ طلباء ان احکامات کی مخالفت میں سڑکوں پر آگئے ہیں۔ یونیورسٹی کے روبرو گزشتہ کئی دن سے طلباء احتجاج کررہے ہیں۔ احتجاج میں شریک بی اے ایل ایل بی کی تیسرے سال کی طالبہ لائبہ نے کہا کہ تمام طلبہ اپنے پرامن مظاہرے کو لے کر متحد ہیں اور جب تک ان کی اپیل کی سماعت نہیں ہو جاتی اپنا دھرنا جاری رکھیں گے۔ لائبہ نے کہا "یہ بلڈوزر صرف یونیورسٹی کی عمارتوں پر نہیں چلے گا، یہ ہمارے مستقبل، ہمارے خوابوں اور ہماری ڈگریوں کو کچل دے گا"۔ طالبہ نے زور دے کر کہا "ہر مسئلے کا حل ہوتا ہے لیکن یونیورسٹی کو گرانا اس کا حل نہیں ہے"۔ لائبہ نے بتایا کہ طلباء کا ابتدائی مطالبہ کونسلنگ کیمپ کو ہٹانے کا تھا، انتظامیہ نے اس کی درخواست پوری کر دی ہے۔

اب ان کی بنیادی فکر یونیورسٹی کی عمارتوں کو برقرار رکھنے کو یقینی بنانا ہے تاکہ ان کی تعلیم میں خلل نہ پڑے۔ ایک طالبہ نے کہا کہ بہت سے والدین نے یونیورسٹی کے نظام اور ماحول پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنی بیٹیوں کا داخلہ یہاں کرایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی کی گئی تو سب سے زیادہ نقصان ان طلبہ کا ہوگا جن کے اہل خانہ انہیں دوسرے شہر بھیجنے کو تیار نہیں۔ ایک طالب علم نے کہا "میں فی الحال اپنے تیسرے سال میں ہوں، پہلے ہی دو سال کی تعلیم مکمل کر چکا ہوں"۔ طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کر رہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ فی الحال طلباء کا احتجاج جاری ہے کیونکہ وہ ضلعی انتظامیہ اور عدالت کے فیصلوں کا انتظار کر رہے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ انتظامیہ اس معاملے میں کیا فیصلہ کرے گی اور طلبہ کی جذباتی اپیل کے جواب میں کیا اقدامات کیے جائیں گے۔

دوسری جانب طلباء کی اس تحریک کو سماجوادی پارٹی کا ساتھ مل رہا ہے۔ امروہہ صدر کے ایس پی ایم ایل اے، سابق کابینہ وزیر، اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے موجودہ چیئرمین محبوب علی کو رام پور پہنچنے سے پہلے ہی پولیس نے جمعرات کو ان کی امروہہ کی رہائش گاہ پر روک لیا۔ اس کارروائی سے ایس پی کارکنوں میں خاصی ناراضگی پھیل گئی۔ حامیوں کی ایک بڑی تعداد ان کے گھر کے باہر احتجاج کے لیے جمع ہوئی اور حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ محبوب علی نے الزام لگایا کہ وہ جمعرات کو صبح 11 بجے کے قریب اپنے حامیوں کے ساتھ رام پور کے لیے روانہ ہونے والے تھے۔ ان کا منصوبہ تھا کہ وہ رات 12 بجے تک جوہر یونیورسٹی پہنچ جائیں گے۔ تاہم امروہہ پولیس اس سے پہلے ہی ان کی رہائش گاہ پر پہنچ گئی اور انہیں باہر نکلنے سے روک دیا۔

انہوں نے کہا کہ انہیں بغیر کوئی واضح وجہ بتائے اپنا گھر چھوڑنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا گیا۔ اس کارروائی کو جمہوری حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے، ایس پی ایم ایل اے نے کہا کہ حکومت سیاسی مخالفین کی آوازوں کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی نمائندے کو پرامن سفر کرنے اور اپنے خیالات کا اظہار کرنے سے روکنا جمہوری نظام کے لیے نامناسب ہے۔ کارکنوں نے اس کارروائی کے خلاف احتجاج کیا اور حکومت کے خلاف نعرے لگائے اور اسے سیاسی انتقام کی کارروائی قرار دیا۔ صورتحال کو دیکھتے ہوئے پولیس کی بھاری نفری رہائش گاہ کے باہر متعین کر دی گئی تاکہ رونما ہونے والے واقعات پر نظر رکھی جا سکے۔

اس دوران محبوب علی نے بھی جوہر یونیورسٹی کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کی 38 عمارتوں کو گرانے کے مجوزہ اقدام کو فوری طور پر روکا جانا چاہیئے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس پورے معاملے کا غیر جانبدارانہ اور شفاف جائزہ لیا جائے، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ تمام متعلقہ فریقین کو اپنا کیس پیش کرنے کا پورا موقع دیا جائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی انتظامی یا قانونی کارروائی یونیورسٹی میں زیر تعلیم طلباء کو سب سے زیادہ متاثر کرتی ہے۔ اس لئے ان کی پڑھائی، امتحانات اور دیگر تعلیمی سرگرمیوں میں کسی بھی طرح رکاوٹ نہیں ڈالی جانی چاہیئے، کیونکہ کہ یہ صرف عمارتوں کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ ہزاروں طلباء کے مستقبل کا سوال ہے۔

متعلقہ مضامین

  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • شہباز شریف سمیت حکومتی شخصیات کو 21 تحائف ملے، توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری