Express News:
2026-06-03@05:58:03 GMT

شیتل بانو

اشاعت کی تاریخ: 27th, July 2025 GMT

کچھ ایسی خبریں ہوتی ہیں جو ایوانوں کی درودیوار ہلا دیتی ہیں، ایسے راز افشاء کردیتی ہیں جن میں شک و شبہ کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ بہت سے تضادات ہیں جو ریاست کو اندر سے کھوکھلا کر رہے ہیں اور آگے جا کر بہت نقصان دہ ثابت ہوںگے۔ انھیں مسائل میں سے ایک ہمارا قبائلی نظام برعکس شہری روایات کے اور دوسری طرف ہے، یہ دنیا جو تیزی سے تاریخ کے نئے زینوں پر رواں ہے جہاں ریاستی سرحدوں کا تصور فقط ناموں تک ہی محدود رہ جائے گا، جس کو انگریزی زبان میںGLOBALIZATION یا عالمگیریت کہا جاتا ہے۔ مصنوعی ذہانت نے اس دنیا کے سسٹم کو بدل دیا ہے۔

کیا اس بات کا تصورکیا جا سکتا ہے کہ امریکا یا یورپ میں کوئی باپ، بھائی کسی قبائلی سردارکے کہنے پر اپنی بیٹی، بہن، ماں یا بیوی کو عزت یا غیرت کے نام پر قتل کردے۔ حال ہی میں بلوچستان میں ایسا واقعہ پیش آیا۔ دو مہینے تک خبر چھپی رہی، لوگوں پر اپنا ٹیہکا اور رعب جمانے کے لیے سردار نے خود اس خبر کو سوشل میڈیا پر وائرل کیا۔

ایک نہتی لڑکی، جس کے پاس قرآنِ پاک تھا، اس کو اور اس کے شوہر کو دھوکے سے ایک ویران صحرائی علاقے میں لے جا کر گولیاں مار کر قتل کردیا گیا۔ اس کا قصور یہ تھا کہ اس نے اپنی مرضی سے قبیلے کے باہر شادی کی۔ اس لڑکی پر جب گولیوں کی بوچھاڑ کی گئی تو وہ ایک اکیلی اور نہتی عورت تھی اور پچاس کے قریب مسلح مردوں نے اس کا محاصرہ کررکھا رکھا تھا ، وہ تمام مرد بڑی بڑی لینڈ کروزر گاڑیوں اور ڈبل کیبن ڈالوں پر سوار ہوکر اپنی ’’غیرت‘‘ کا انتقام لینے آئے تھے۔

مردوں کے اس ہجوم میں اس نہتی لڑکی کا سگا بھائی بھی موجود تھا اورگولی مارنے کا حکم دینے والا سردار بھی۔ اس سردار کے حکم کی تعمیل کرنے والا شیتل بانو کا چچا زاد بھائی تھا۔ دو مہینے تک یہ خبر رپورٹ نہ ہوسکی اور نہ ہی کوئی ایف آئی آر درج ہوئی۔ اس ہولناک قتل کی وڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تو سوشل میڈیا پرکہرام مچ گیا۔ شاید یہ سوشل میڈیا کی تاریخ کی پہلی خبر ہوگی جس نے وائرل ہوتے ہی ایک پر احتجاج شور برپا کردیا۔

بلوچستان میں متکبرانہ اور ماورائے آئین و قانون سرداری روایات کھل کر سامنے آئیں۔ بلوچستان میں حکومت، سول سوسائٹی انسانی حقوق کے ادارے، پولیس، عدالتیں سب کمزور اور بے بس نظر آئے۔ ایک طرف بلوچستان میں شورش زدہ آواز ہے جو وفاق سے گلے شکوے رکھتی ہے اور اس آواز کو بلند کرنے والوں میں ایک عورت بھی شامل ہے اور دوسری طرف ہے، مفلس، بے بس اور غلام رعایا اور قبائلی نظام اور اس نظام کے مالک اور ٹرسٹی نواب، سردار، وڈیرے اور ان کے اتحادی مذہبی لیڈر۔

یہ قبائلی سردار اپنی عدالت خود چلاتے ہیں، سزائیں خود سناتے ہیں، جیلیں ان کی اپنی ہیں، اپنے اس اقتدار کا نام انھوں نے روایات اور رسم و رواج رکھا ہوا ہے ۔ سرداروں میں کچھ ایسے بھی سردار تھے جو اپنے رسم و رواج کے خلاف کھل کر تو نہ بول سکے لیکن آمریتوں کے سامنے بلوچستان کے حقوق کے لیے ڈٹ کر کھڑے ہوئے، جب کہ زیادہ تر قبائلی سردار آمریتوں کے اتحادی رہے ہیں۔

آج سے بائیس سال قبل جب میں نواب اکبر بگٹی سے ملنے ڈیرہ بگٹی گیا تھا۔ علاقے کی ایک رسم ’’ چربیلی ‘‘ کا ذکر ہوا۔ اس میں ایک ملزم کو سچائی ثابت کرنے کے لیے دہکتے انگاروں پر چل کرگزرنا ہوتا ہے، اگر اس شخص کے پیر نہ جلیں تو وہ بے قصور اور جل جائیں تو قصور وار۔ پھر اس حساب سے اس عورت اور مرد جن پر ناجائزتعلقات کا الزام ہوتا ہے، ان کو سنگسارکیا جاتا ہے۔ نواب اکبر بگٹی جن کی تعلیم یورپ کے بہترین اداروں سے تھی، وہ بھی ان روایات کے حق میں دلائل دینے لگے۔

بلوچ قوم پرست جن کا تعلق مڈل کلاس سیاست سے ہے، وہ بھی ایسے واقعات پر کھل کر اپنا مؤقف نہیں دیتے۔ بہ حیثیت ایک آزاد ریاست ہم پچھتر برس سے یہ سب دیکھ رہے ہیں۔ بلوچستان میں سرداری نظام جس کو ذوالفقارعلی بھٹو نے نام نہاد طریقے سے ایک بھرے جلسے میں دستاویز دکھا کر یہ کہا تھا کہ وہ اس نظام کو ختم کرتے ہیں۔

خیبر پختو نخوا کا ایک حصہ ستر برس تک فاٹا رہا، جہاں پاکستان کا آئین اور قانون کبھی لاگو نہ رہا، وہاں ان کا اپنا نظام چلتا تھا۔ سندھ کے شمالی علاقوں میں بھی سرداری نظام رائج ہے اور روایتیں یہاں بھی اپنائی گئیں۔ ہمارے انتہائی محترم جج، جو اب سپریم کورٹ کے جج بن چکے ہیں، انھوں نے یہ جرأت کی کہ جرگے اور پنچایت کو غیرآئینی قرار دے دیا اور یہ آرڈر پاس کیا کہ متعلقہ علاقے کا پولیس آفیسر اس بات کا ذمے دار ہوگا کہ جو شخص جرگے میں ملوث ہو، اس کوگرفتارکیا جائے۔

ایک دو سال تک تو خاموشی رہی، غیرت کے نام پر قتل کے واقعات اخباروں میں رپورٹ نہیں ہوئے مگر اب یہ دوبارہ سندھی اخباروں کے فرنٹ پیج پر اہم خبرکے طور پر رپورٹ ہوتے ہیں۔

ہمارا آئین اور قانون دستاویزات کی شکل میں موجود ہے۔ کیا یہ آئین اور قانون عملاً ہمارے ملک کے ہر علاقے پرلاگو ہے؟ہمارے ملک کے آدھے حصے میں آج تک ہمارا قانون رائج نہ ہو سکا۔ ان علاقوں میں ایک تو علاقہ غیر یا سابقہ فاٹا، بلوچستان کے سرداری علاقے ہیں اور دوسرے کچھ شہری و دیہی علاقے جہاں قانون موجود ضرور ہے مگر انتہائی سست روی سے اس پر عمل کیا جاتا ہے۔

اس ملک میں قانون مہنگے داموں پر میسر ہے، اس مہنگائی کے باعث لوگ اس بات کو ترجیح دیتے ہیں کہ علاقے کے سردار سے اپنے فیصلے کرائیں پھر ان کے کیے ہوئے فیصلوں پر عمل درآمد بھی جلدی ہو جاتا ہے۔ یہاں پر بنائے گئے جرگہ یا پنچایت سسٹم اپنے محور میں عورت دشمن ہیں۔ اس سسٹم میں کسی عورت کو انصاف نہیں مل سکتا۔

دو سال قبل یہ واقعہ سندھ میں پیش آیا تھا۔ ایک معروف پیرکے گھر میں ایک آٹھ سالہ بچی فاطمہ پھرڑوکام کرتی تھی۔ وہ بچی سسک سسک کر دم توڑ گئی۔ اس کی یہ وڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی اور شیتل بانو کی طرح اس واقعے نے بھی بڑا زور پکڑا لیکن اس علاقے کی پولیس نے اس کیس کو بہت کمزور بنایا۔

یہ کیس ہماری حکمراں پارٹی نے ہی کمزور بنایا اور بلآ خر فاطمہ کے غریب ماں باپ نے سمجھوتہ کیا۔ بلوچستان کے وزیرِ اعلیٰ کے بیان کے سے، کچھ ایسا لگ رہا ہے کہ اس کیس کا بھی وہ ہی حشر ہوگا جو آج تک ایسے کیسزکا ہوتا رہا ہے، کیونکہ آخرِکار یہ ریاست انھیں شرفاء کے ٹولے کے مفادات کی نمایندہ ہے۔

آئین اور قانون مروج ہونا برسوں کی مشقت ہے۔ مروج ہونے سے لاگو ہونے تک اسے مزاحمت کا سامنا کرنا پڑتا ہے، لیکن اگر معاشرہ مضبوط ہو، تو ایسے رسم و رواج خود بخود معاشرے سے ٹکراؤ میں آتے ہیں۔ ریاست ایسے اداروں اور انسانی حقوق کا تحفظ اور فروغ کے لیے کام کرنے والوں کے ساتھ کھڑی ہوتی ہے،کیونکہ آئین اور قانون ریاست بناتی ہے۔ ریاست حلف لیتی ہے اپنے شہریوں کو انصاف، ان کی جان و مال اور حقوق کے تحفظ کا۔ دنیا کی تمام مہذب ریاستیں ان فرسودات کو شکست دے چکی ہیں۔

ہمارا ملک اب بھی ان فرسودہ روایات کی دلدل میں پھنسا ہوا ہے۔ ملک کی آزادی کے بعد چھبیس سال تک ہم اس ملک کو آئین نہ دے سکے۔ پھر بھی یہ ملک ایک مہذب قانون کے تحت چلتا رہا۔ آمریت خود ان شرفاء کے مفادات کی محافظ ہے۔ مسلم لیگ جس کے پرچم تلے ہم نے آزادی پائی، اس پارٹی میں بھی شمولیت تمام وڈیروں، پیروں اور سرداروں کی تھی اور پاکستان بننے کے فوراً بعد یہ جماعت بحرانوں کی نذر ہوگئی۔

آزادی کے بعد مشرقی اور مغربی پاکستان میں تضادات رہے اور ان تضادات کی وجہ یہ تھی کہ مشرقی پاکستان میں مڈل کلاس سیاست پر چھائی ہوئی تھی اور مغربی پاکستان کی سیاست پر پیروں، وڈیروں اور سرداروں کا تسلط قائم تھا۔ سرد جنگ کے مفادات میں ہم اپنے قومی مفادات کو کمپرومائز کرچکے تھے، اگر مغربی پاکستان میں مڈل کلاس سیاست ہوتی تو ہم ایسے مہرہ نہ بنتے۔

شیتل بانوکا واقعہ، ہماری ریاست،آئین و قانون کی شکست ہے۔ بلوچستان کی قوم پرست سیاست کی شکست ہے جو کھل کر ایسے واقعات اپنا مؤقف بیان نہیں کرتی۔ سندھ کے اندر مڈل کلاس سیاست بھی اسی وڈیرہ شاہی کے زیر اثر ہے مگر یہ اثرات اتنے گہرے نہیں جیسا کہ بلوچستان میں ہیں۔یہاں مذہبی ایشوزکے ذریعے آئین اور قانون میں تصادم پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، اس کی بنیاد جنرل ضیاء الحق ڈالی۔ آج ملک منشیات کے کاروبار، اسمگلنگ کی زد میں ہے۔ یہ سب کچھ اس لیے ہو رہا ہے کہ ریاست آئین اور قانون کوکمزور بنا رہی ہے۔

شیتل بانو کے جسم پر لگی گولی دراصل پاکستان کے آئین اور قانون میں پیوست ہوئی ہے۔ ایک نہتی عورت اپنے بیٹے، باپ اور بھائی کے سامنے قتل ہوجاتی ہے اور وہ یہ سب اپنی آنکھوں سے ہوتا دیکھ رہے تھے، جس دھج سے شیتل بانو گولیاں کھانے کے لیے آگے بڑھی، وہ وہاں پر تمام مردوں کو بزدل ثابت کرتی ہے، بالکل ایسے ہی موقع کے لیے فیض لکھتے ہیں کہ

جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا وہ شان سلامت رہتی ہے

یہ جان تو آنی جانی ہے اس جاں کی توکوئی بات نہیں

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ا ئین اور قانون سوشل میڈیا پر بلوچستان میں جاتا ہے ریاست ا میں ایک کے لیے ہے اور کھل کر

پڑھیں:

بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رکن قومی اسمبلی نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہا ہے کہ پاکستان کے خلاف ایک خاموش جنگ لڑی جا رہی ہے جو بارود سے زیادہ نوجوانوں کے ذہنوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

صوبائی وزرا علی مدد جتک اور عاصم کرد گیلو کے ہمراہ کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ دشمن پاکستان اور بلوچستان کو توڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 2018 میں بشیر زیب نے جب ایک کالعدم تنظیم کی کمان سنبھالی تو حالات مزید خراب ہوئے، جبکہ جنید بشیر زیب کا رائٹ ہینڈ ہے۔

انہوں نے کہاکہ آج کی جنگ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر لڑی جا رہی ہے اور کالعدم تنظیموں کے کارندے زنگی ایپ کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کالعدم تنظیمیں سنگل ایپ کے ذریعے آپریشنل منصوبہ بندی جبکہ ڈیلٹا چیٹ کے ذریعے خفیہ بھرتیاں کرتی ہیں۔

نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ آج دشمن صرف گولی کا استعمال نہیں کر رہا بلکہ سوشل میڈیا پر ٹرینڈز چلا کر بھی اپنا ایجنڈا آگے بڑھا رہا ہے۔ ہم نہیں چاہتے کہ نوجوان پہاڑوں کا رخ کریں۔

انہوں نے دعویٰ کیاکہ کالعدم تنظیموں نے اپنی سرگرمیوں میں خواتین کا استعمال بھی شروع کر دیا ہے۔ شہناز بلوچ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے جلسوں میں شرکت کرتی تھیں اور ان کا باہوٹ کے ذریعے کالعدم تنظیم سے رابطہ ہوا۔

نوابزادہ جمال رئیسانی نے مزید کہاکہ بلوچ یکجہتی کمیٹی بلوچستان کی قیادت ڈاکٹر صبیحہ کر رہی ہیں اور ان کا بھائی ایک کالعدم تنظیم کا حصہ ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے کراچی سیل کی قیادت فوزیہ شاہوانی کررہی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews بلوچستان سیاست خاموش جنگ نوابزادہ جمال رئیسانی وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • بلوچستان میں بیرونی فنڈنگ، بھارت کے مبینہ کردار اور انسانی حقوق کی رپورٹس پر سنگین سوالات
  • بجٹ سے پہلے قانون سازی، پیپلزپارٹی کے تحفظات، 5 جون کو ہونے والا اجلاس مؤخر
  • حکومت کی جانب سے وفاقی بجٹ میں تاخیر کی ممکنہ وجہ سامنے آگئی
  • فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
  • بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 17دہشتگرد ہلاک
  • بلوچستان میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز، 17 دہشتگرد ہلاک
  • سیکیورٹی فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • وفاقی آئینی عدالت: پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی