پی ٹی آئی کی حکومت مزید 6 ماہ رہتی تو ملک ڈیفالٹ کرجاتا، اسحق ڈار
اشاعت کی تاریخ: 27th, July 2025 GMT
پاکستان کے نائب وزیر اعظم ، وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کی حکومت مزید 6 ماہ رہتی تو ملک ڈیفالٹ کرجاتا۔
پاکستان کے نائب وزیراعظم، وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے نیویارک، امریکا میں پاکستانی کمیونٹی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب بھی معاشی حالات خراب ہوتے ہیں، مجھے یاد کیا جاتا ہے۔ پی ٹی آئی کی حکومت مزید 6 ماہ رہتی تو ملک ڈیفالٹ کرچکا ہوتا۔
ملک میں مالی استحکام آچکا ہے۔ ڈیفالٹ کا خطرہ اب دفن ہوچکا۔ اللہ کے فضل سے زرمبادلہ کے ذخائر بڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا ہدف پاکستان کو جی 20 میں شامل کرنا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں اور انتہا پسند عناصر کی حالیہ کارروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف مذہبی تقدس کی پامالی ہیں بلکہ پورے خطے میں کشیدگی کو خطرناک حد تک بڑھا رہے ہیں۔
مشترکہ اعلامیے پر پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر، اردن، ترکیہ اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ نے اتفاق کیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی اشتعال انگیز کارروائیاں اور اسرائیلی انتہا پسند وزرا و گروہوں کی سرگرمیاں ناقابلِ قبول ہیں اور ان سے خطے میں امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔
وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ مسجد اقصیٰ کی تاریخی، قانونی اور مذہبی حیثیت کا ہر صورت احترام کیا جانا چاہیے اور اس میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ تبدیلی ناقابلِ قبول ہے۔
مشترکہ اعلامیے میں مسجد اقصیٰ کے انتظامی اور مذہبی امور پر اردن کے محکمہ اوقاف کے خصوصی اختیار کا اعادہ کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ اس حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
اعلامیے میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ مسلمانوں کو مسجدِ اقصیٰ میں عبادت سے روکنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے، مذہبی آزادی کا احترام کیا جائے اور ایسے تمام اقدامات سے گریز کیا جائے جو مزید کشیدگی اور تصادم کا سبب بن سکتے ہیں۔