Jasarat News:
2026-07-24@09:55:51 GMT

بجٹ: کافی، چاکلیٹ، جوسز اور منرل واٹر بھی مہنگے ہوں گے

اشاعت کی تاریخ: 11th, June 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

آئندہ مالی سال کے بجٹ میں پیش کی گئی تجاویز کے باعث متعدد اشیاء کی قیمتوں میں اضافے کا امکان ہے۔

بجٹ میں سولر پینلز، ای کامرس پلیٹ فارمز، پیٹرول اور ڈیزل پر چلنے والی ہائبرڈ گاڑیوں، اور پاکستان میں غیر ملکی تاجروں کی مصنوعات کی فروخت سمیت مختلف شعبوں پر اضافی ٹیکس عائد کرنے کی تجاویز شامل ہیں

آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ میں متعدد اشیاء اور خدمات پر نئے ٹیکس اور ڈیوٹیز لگانے کی تجاویز پیش کی گئی ہیں، جن کے نتیجے میں مہنگائی کا خدشہ ہے۔

بجٹ میں ای کامرس پلیٹ فارمز اور پیٹرول و ڈیزل پر چلنے والی ہائبرڈ گاڑیوں پر 18 فیصد ٹیکس عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جب کہ پیٹرول، ہائی اسپیڈ ڈیزل اور فرنس آئل پر فی لیٹر 2.

5 روپے کاربن لیوی لگانے کی تجویز بھی شامل ہے۔

پُرتعیش اشیاء جیسے پالتو جانوروں کی خوراک، چاکلیٹ اور کافی بھی مہنگی ہو جائیں گی۔

سولر پینلز کی درآمد پر 18 فیصد ٹیکس لگانے کی تجویز کے باعث ان کی قیمتوں میں بھی اضافہ متوقع ہے، جبکہ آن لائن اشیاء کی فروخت پر 2 فیصد اضافی ٹیکس عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

اس کے علاوہ بجٹ میں انسانی مداخلت کے بغیر فراہم کی جانے والی سروسز جیسے کہ انٹرنیٹ، میوزک، آڈیو و ویڈیو اسٹریمنگ، کلاؤڈ سروسز اور سافٹ ویئر ایپلی کیشنز پر بھی ٹیکس لگانے کی تجویز دی گئی ہے۔

بیورجز، منرل واٹر، فروٹ جوسز پر 5 فیصد ٹیکس اور سیریل بارز کی درآمد پر بھی ٹیکس لگانے کی تجویز شامل ہے۔

آن لائن آرڈر کی گئی اشیاء پر 2 فیصد ڈیوٹی، تمام گاڑیوں کی خریداری پر 18 فیصد ٹیکس، اور فاٹا/پاٹا کے لیے پلانٹس، مشینری اور آلات کی درآمد پر 10 فیصد ڈیوٹی عائد کرنے کی تجاویز بھی بجٹ کا حصہ ہیں۔

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: لگانے کی تجویز عائد کرنے کی فیصد ٹیکس

پڑھیں:

پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ

اسلام آباد:

پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کردی۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیراعظم کی زیر صدارت وفاقی وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام کی کارکردگی پر اجلاس ہوا جس میں ادارے کی کارکردگی پر بریفنگ دی گئی۔

اجلاس میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ ، وزیر اقتصادی امور احد چیمہ ، وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ، وزیر تعلیم خالد مقبول، وزیر مملکت خزانہ بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔

وزیراعظم کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ موبائل اسپیکٹرم کی دستیابی جون 2025ء میں 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر جون 2026ء میں 880 میگا ہرٹز ہوگئی، موبائل اسپیکٹرم میں اضافے سے انٹرنیٹ کی رفتار اور کنیکٹیویٹی میں نمایاں بہتری آئے گی۔

وزیراعظم کو "کنیکٹ پاکستان وژن 2030ء " کے اجراء کی تیاریوں پر بریفنگ دی گئی، بتایا گیا ہے کہ باغ، آزاد جموں و کشمیر میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک مکمل ہو چکا ہے، پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، جون 2026ء تک 5.1 ملین گھروں میں فکسڈ براڈ بینڈ /فائبر کنکشن دئیے گئے، حکومتی اقدامات کی بدولت پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں ہوئی برآمدات میں فری لانسرز کا حصہ 1164.7 ملین ڈالر رہا۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ ڈیجیٹل نیشن پاکستان کے تحت حکومت پاکستان کی 130 سروسز کو ڈیجیٹائز کیا جا چکا ہے، پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں 942,646 تربیتی سرٹیفکیٹس دیئے گئے جن میں 5053 ہائے اینڈ تربیتی پروگرام منعقد ہوئے ؛ لیڈرشپ اور سافٹ اسکلز کی 2700 ٹرینینگز کا انعقاد ہوا، ویمن انوویشن اینڈ اسٹارٹ اپ ایمپاورمنٹ لیب کے منصوبہ کا افتتاح جلد ہی ہوگا۔

وزیراعظم کو بتایا گیا کہ چینی کمپنی علی بابا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے تحت وفاقی حکومت کی کئی وزارتوں اور اداروں میں مصنوعی ذہانت کی نفاذ اور اس حوالے سے کئی منصوبے اور تربیتی سیشنز منعقد کئے جا رہے ہیں۔

بتایا گیا کہ سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن، وزارت ریلوے، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، فیڈرل بورڈ آف ریونیو، آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی، وزارت قومی غذائی تحفظ ، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ اتھارٹی، پاکستان سنگل ونڈو، وزارت قومی غذائی تحفظ، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان، پاکستان پوسٹ، وفاقی ترقیاتی ادارہ، وزارت بحری امور اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن میں علی بابا مصنوعی ذہانت کے کئی منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔

وزیراعظم نے پاکستان کی سالانہ آئی ٹی برآمدات 21 فیصد اضافے کے ساتھ 4.6 ارب امریکی ڈالر تک پہنچنے پر وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی اور تمام ٹیم کی پذیرائی کی۔

وزیراعظم نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کی ترقی کے لیے لئے جانے والے اقدامات پالیسیوں کا ثمر ہے، ملک میں آئی ٹی کے شعبے کا فروغ اور آئی ٹی سے متعلق برآمدات میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، آئی ٹی کے شعبے میں دیئے جانے والے تربیتی کورسز کی معتبر تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے، آئی ٹی کے شعبے میں تربیت کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔

وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کی۔

متعلقہ مضامین

  • سندھ حکومت کا مہنگے داموں پاسکو سے گندم خریدنے کا فیصلہ
  • کوڑا ٹیکس کی وصولی کی تیاریاں، محکمہ ایکسائز متحرک
  • ایف بی آر کا انکم ٹیکس ریٹرنز جمع کرانے سے متعلق اہم اعلان
  • سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے بعد پنشن میں بھی اضافہ
  • ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
  • موبائل کال اور انٹرنیٹ پیکجز مہنگے، صارفین پر نیا مالی بوجھ
  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر بڑا اضافہ، پیٹرول اور ڈیزل مہنگے
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ