لوہے کی تختیوں پر مشتمل جدید آٹومیٹک پارکنگ کا نظام متعارف
اشاعت کی تاریخ: 11th, June 2025 GMT
جنوبی کوریا کی ہیونڈائی کمپنی نے ایسی جدید "لوہے کی تختیاں" متعارف کروائی ہیں جو مستقبل میں آٹومیٹک پارکنگ کے نظام کو بدل دیں گی۔
یہ فرشی سطح پر پائیدار، 110 ملیمیٹر موٹی، چپٹی روبوٹ پلیٹیں ہیں جو گاڑی کے نیچے سے چل کر اسے اٹھا سکتی ہیں۔ یہاں تک کہ پہیوں سمیت پورے گاڑی کو موو کرتی ہیں اور مخصوص پارکنگ مقام تک لے جاتی ہیں۔
تصاویر میں یہ پلیٹیں گاڑی کے پہیوں تلے آتی ہیں، اسے جھٹکے سے اٹھاتی ہیں اور 1.
یہ تختیاں LiDAR اور کیمرے سے لیس ہیں اور کیو آر کوڈز کے ذریعے گاڑیوں کو شناخت کرتی ہیں۔ زیادہ سے زیادہ 2.2 ٹن وزن اٹھانے کی صلاحیت کے ساتھ یہ 50 روبوٹس ایک ساتھ تعاون کرتے ہیں۔
یہ سسٹم پہلے ہی سیول کے سیونگسو دفتر اور سنگاپور انوویشن سینٹر میں نافذ ہو چکا ہے۔ اسمارٹ پارکنگ سسٹم LiDAR, کیمرہ اور سینسر کے ذریعے کنٹرول فراہم کرتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔
پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔
ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔
سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔
ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔
پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔