پیپلزپارٹی نے سولر پینلز پر 18 فیصد ٹیکس مسترد کردیا
اشاعت کی تاریخ: 11th, June 2025 GMT
پیپلزپارٹی نے سولر پینلز پر 18 فیصد ٹیکس مسترد کردیا WhatsAppFacebookTwitter 0 11 June, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (آئی پی ایس )پاکستان پیپلزپارٹی نے سولر پینلز پر 18 فیصد ٹیکس مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس اقدام سے عوام کو سستی بجلی سے دور کردیا گیا ہے۔پیپلزپارٹی کی مرکزی ترجمان شازیہ مری نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ کے جواب میں لکھا بالکل، پاکستان پیپلزپارٹی سولر پینلز پر 18 فیصد ٹیکس سپورٹ نہیں کرے گی۔
ایک اور پوسٹ میں ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کی حکومت کے دوران ملازمین کی تنخواہوں میں تقریبا 150 فیصد اضافہ کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ معاشی چیلنجز کے باوجود پیپلز پارٹی کی حکومت نے عوامی فلاح کو ترجیح دی اور عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرنے کے لیے جرات مندانہ اقدامات کیے۔مزید کہا کہ پیپلزپارٹی نے اپنے دور حکومت میں ملک کے سب سے کمزور طبقے کی مدد کے لیے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) بھی شروع کیا گیا۔
ترجمان پیپلز پارٹی شازیہ مری کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ بجٹ میں تنخواہوں اور پینشن میں اضافہ بھی موجودہ مہنگائی میں ناکافی ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ مہنگائی اور بے روزگاری سے لوگوں کی زندگی اجیرن ہے، پیٹرولیم مصنوعات میں اضافی ٹیکس سے بھی مہنگائی میں اضافہ ہوگا جب کہ حیدرآباد-کراچی موٹروے کے لیے صرف 15 ارب روپے ایک مذاق ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے 17 ہزار 573 ارب روپے کا بجٹ 26-2025 پیش کیا تھا۔بجٹ تقریر میں ان کا کہنا تھا کہ درآمد شدہ اور مقامی طور پر تیار کردہ سولر پینلز کے درمیان مسابقت میں برابری کو یقینی بنانے کے لیے تجویز ہے کہ سولر پینلز کی درآمدات پر 18 فیصد کی شرح سے ٹیکس عائد کیا جائے، یہ اقدام پاکستان میں سولر پینلز کی مقامی صنعت کے فروغ میں اہم کردار ادا کرے گا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرامریکاچین تجارتی معاہدہ، عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 2ماہ کی بلندترین سطح پر پہنچ گئی امریکاچین تجارتی معاہدہ، عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 2ماہ کی بلندترین سطح پر پہنچ گئی پنجاب حکومت کا بجٹ کب پیش ہوگا؟ تاریخ تبدیل کر دی گئی تنخواہ دار کو گزشتہ 4 بجٹ کے مقابلے میں اس بار ریلیف دیا، عطا تارڑ ترکیے 48 جدید ترین کان لڑاکا طیارے انڈونیشیا کو فروخت کریگا: ترک صدرکا اعلان سمندروں کے تحفظ کیلئے عالمی سطح پر پرجوش اقدامات کیے جائیں، پاکستان بجٹ 2025-26 : سوشل میڈیا کی آمدنی پر کتنا ٹیکس دینا ہوگا؟Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: سولر پینلز پر 18 فیصد ٹیکس پیپلزپارٹی نے کے لیے
پڑھیں:
سپریم کورٹ نے نشے کی حالت کو بنیاد بناکر مجرم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی درخواست مسترد کر دی
اسلام آباد (ویب ڈیسک) سپریم کورٹ نے نشے کی حالت کو بنیاد بناکر 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی درخواست مسترد کر دی۔
سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ بذات خود نشہ کرنے والا شخص کسی بھی جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا اور نہ ہی اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والے کو مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا کوئی حق حاصل ہے۔جیونیوز کے مطابق عدالتِ عظمیٰ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم ’سنی مسیح‘ کی اپیل مسترد کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ اور ہائی کورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقراررکھنے کا حکم دے دیا۔
حملے کے بعد منسوخ وائٹ ہاؤس پریس ڈنر دوبارہ کرنے کا اعلان
جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ نے کیس کا تحریری فیصلہ تحریر کیا ، جبکہ اس اہم کیس کی سماعت کرنے والے تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پہنور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم بھی شامل تھے۔دورانِ سماعت مجرم کے وکیل نے یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ واردات کے وقت ملزم نشے کی حالت میں تھا، لہٰذا اس بنیاد پر سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کیا جائے۔
عدالت نے اس استدعا کو یکسر مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ مجرم نے خود تسلیم کیا ہے کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔ عدالت نے رولنگ دی کہ رضاکارانہ نشے کو کسی بھی مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں قانون کی تشریح کرتے ہوئے واضح کیا کہ جرم سے استثنیٰ صرف اور صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف (زبردستی) یا پھر اس کی لاعلمی میں کوئی نشہ آور چیز دی گئی ہو اور وہ اپنے حواس میں نہ ہو۔
پاکستانی نوجوان مقبوضہ کشمیر کی لڑکی کے عشق میں لائن آف کنٹرول کے پار پہنچ گیا
تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ مجرم نے انتہائی بے دردی سے ایک کمسن اور معصوم بچی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کیا۔ یہ جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے جو کسی بھی رعایت کا متقاضی نہیں، لہٰذا مجرم کی اپیل خارج کی جاتی ہے۔
مزید :