رجب بٹ باز نہیں آئے، بھانجی کے عقیقے پر دولت کی بے جا نمائش
اشاعت کی تاریخ: 12th, June 2025 GMT
پاکستان کے متنازع یوٹیوبر رجب بٹ ایک بار پھر اپنی دولت کی نمائش پر تنقید کا نشانہ بن گئے۔
رجب بٹ کی بھانجی آیت زہرا کے عقیقے کے موقع پر منعقدہ تقریب میں پیسوں کی بے تحاشا برسات اور انہیں پیروں تلے روندنے کے مناظر نے سوشل میڈیا پر طوفان کھڑا کر دیا ہے۔
تقریب کی وائرل ہونے والی ویڈیوز میں دیکھا جاسکتا ہے کہ رجب بٹ، ان کی اہلیہ ایمان اور دیگر فیملی ممبرز ننھی بچی پر پیسے برسا رہے تھے۔ لیکن جو چیز سب سے زیادہ قابل اعتراض تھی، وہ زمین پر بکھرے ہوئے نوٹوں کو پیروں تلے روندتے ہوئے مناظر۔ یہ منظر دیکھ کر صارفین غصے سے پھٹ پڑے۔
سوشل میڈیا صارفین نے اس واقعے کو پیسوں کی بے حرمتی قرار دیتے ہوئے رجب بٹ اور ان کے خاندان کو کھل کر تنقید کا نشانہ بنایا۔ ایک صارف نے لکھا، ’’اگر یہ پیسہ حلال کا ہوتا تو اس طرح اڑایا نہیں جاتا۔‘‘ جبکہ دوسرے نے کہا، ’’یہ عقیقہ نہیں بلکہ محض ایک تماشا ہے جس کے ذریعے وہ اپنی دولت کی نمائش کرنا چاہتے ہیں۔‘‘
عوام کی بڑی تعداد نے اسے پیسوں کی توہین اور غریبوں کے منہ پر طمانچہ قرار دیا، جہاں امیر طبقات دکھاوے کے لیے کرنسی زمین پر گرا رہے ہیں اور دوسری طرف کروڑوں لوگ دو وقت کی روٹی کو ترس رہے ہیں۔
یہ پہلا موقع نہیں جب رجب بٹ اپنی دولت کی نمائش پر تنقید کا نشانہ بنے ہیں۔ ماضی میں بھی وہ اپنی مہنگی گاڑیوں، گھروں اور شاپنگ کی ویڈیوز کی وجہ سے بحث کا موضوع بنتے رہے ہیں۔ تاہم، اس بار ان کا یہ رویہ خاصا قابل اعتراض ہے کیونکہ یہ ایک مذہبی تقریب کے موقع پر تھا۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: دولت کی
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔