data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

ٹیکنالوجی کے معروف شخصیت ایلون مسک نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر اپنی حالیہ سوشل میڈیا پوسٹس پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اعتراف کیا ہے کہ ان کے کچھ بیانات حد سے تجاوز کر گئے تھے۔

بدھ کی صبح “ایکس” (سابق ٹوئٹر) پر جاری کردہ ایک پیغام میں ایلون مسک نے لکھا

“صدر کے بارے میں میری کچھ پوسٹس گزشتہ ہفتے حدود سے باہر چلی گئیں، اور مجھے ان پر افسوس ہے۔”

یہ معذرت اس وقت سامنے آئی ہے جب ایلون مسک اور ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان اختلافات کھل کر منظرِ عام پر آ چکے ہیں۔

گزشتہ ہفتے، مسک نے ٹرمپ پر الزام لگایا تھا کہ وہ جیفری ایپسٹین سے متعلق خفیہ فائلیں جاری نہ کر کے اپنی ممکنہ وابستگی چھپانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ بیان ایسے وقت پر آیا جب مسک نے حال ہی میں امریکی حکومت میں “ڈیپارٹمنٹ آف گورنمنٹ ایفیشنسی” کے سربراہ کے طور پر اپنی خدمات ختم کی تھیں۔

حالانکہ ماضی میں ایلون مسک ٹرمپ کی انتخابی مہم اور پالیسیوں کے حامی رہے ہیں، لیکن حالیہ مہینوں میں انہوں نے نہ صرف ٹرمپ کی معاشی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا بلکہ انہیں “قابلِ نفرت قانون” بھی قرار دیا، اور یہاں تک کہ ان کے مواخذے کی حمایت میں بھی بات کی۔

اس بڑھتی کشیدگی کے جواب میں، ٹرمپ نے خبردار کیا کہ وہ ٹیسلا اور اسپیس ایکس جیسے اداروں کو دی جانے والی سرکاری سبسڈیز اور معاہدے منسوخ کر سکتے ہیں۔

تاہم، اب ایلون مسک نے اپنی کئی تنقیدی پوسٹس ڈیلیٹ کر دی ہیں اور حالیہ دنوں میں ٹرمپ کے بعض بیانات کے حق میں پوسٹس بھی کی ہیں، جسے تجزیہ کار تعلقات میں بہتری کی کوشش کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ایلون مسک

پڑھیں:

کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار

ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان کے مطابق ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کیلئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ وفاقی تحقیقات ادارے ایف آئی ای نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔ ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔ انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔

ڈائریکٹر ایف آئی اے نے کہا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔ بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لئے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔

متعلقہ مضامین

  • عطاء اللّٰہ خان عیسیٰ خیلوی کا اپنی قبر تیار کرنے کا انکشاف
  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • وزیراعظم کا  آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
  • محسن نقوی کی مستونگ کے قریب  سیشن جج اور جوڈیشل مجسٹریٹ پر فائرنگ کی پرزور مذمت
  • ایلون مسک نے ’اوڈیسی‘ کا اے آئی ورژن اسی سال پیش کرنے کا اعلان کردیا
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار