Express News:
2026-07-24@04:36:52 GMT

لازوال قربانیاں

اشاعت کی تاریخ: 12th, June 2025 GMT

عید قرباں، اسلام اور سیدنا ابراہیم علیہ السلام اور سیدنا اسماعیل علیہ السلام کے فلسفہ تسلیم و رضا کی کامل تصویر ہے، جو سیدنا ابراہیم ؑ اور ان کے بعد دنیا پر بھیجنے جانے والے انبیاء کرام کے سلسلے سے گزرتے ہوئے امام الانبیاء محمد مصطفیٰ احمد مجتبٰی ﷺ کی دعوت نبوت و رسالت پر اختتام کو پہنچا۔ درحقیقت قربانی تو جان کی قربانی ہی تھی، جیساکہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کے واقعے سے معلوم ہوتاہے اور شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمہ اللہ نے بھی فرمایاہے کہ اصل قربانی تو جان نثاری کی قربانی تھی، اللہ تعالیٰ نے اپنی بے پایاں رحمت سے یہ قربانی جان سے ٹال کر مال کی طرف منتقل کی۔

پھر یہ بھی ہوسکتا تھا کہ مالی قربانی صدقے کی صورت میں مقرر کردی جاتی لیکن اس طرح انسان کو اپنی جانی قربانی کی طرف توجہ اور اس کا استحضار نہ ہوتا۔ اس غرض کے لیے ایسی مالی قربانی مقرر کی گئی جس میں جانور قربان کیا جائے تاکہ مالی قربانی میں بھی جانی قربانی کی مشابہت موجود ہو اور معمولی احساس رکھنے وال اانسان بھی بوقتِ قربانی یہ سوچے کہ اس بے زبان جان دار کو میں کس لیے قربان کررہاہوں؟ اس کا خون کیوں بہا رہا ہوں؟ جب یہ احساس اس کے اندر پیدا ہوگا تو اسے استحضار ہوگا کہ درحقیقت یہ میرے نفس اور میری جان کی قربانی تھی، اللہ تعالیٰ نے اسے میرے مال کی صورت قبول کرلیا، یوں اسے مقصدِ اصلی بھی یاد رہے گا اور نفس کی قربانی کے لیے یہ محرک بھی ہوگا اور اللہ تعالیٰ کے سامنے شکر گزاری کا جذبہ بھی بڑھے گا۔

روئے زمین پر عید قرباں کے موقع پر تمام مسلمان جانور قربان کرکے سنت ابراہیمی ادا کررہے تھے لیکن روئے زمین کے مظلوم آج بھی اپنی جانوں کی قربانیاں دے رہے ہیں، مقبوضہ جموں وکشمیر سے لے کر سرزمین فلسطین تک معصوم، لاچار اور بے بس وبے کس مسلمانوں کے خون سے سیراب ہوچکی ہے۔ سیدنا ابراہیم ؑ اور ان کے فرزند سیدنا اسماعیل ؑ نے رہتی دنیا تک عالم انسانیت کو حکم خداوندی کے مطابق ایمان، تسلیم و رضا اور قربانی کا جو سبق پڑھایا ہے، اسے ارض مقدس فلسطین اورمقبوضہ کشمیر کے باسی پوری ایمانداری سے دوہرا رہے ہیں۔

اپنی جانوں کے نذرانے پیش کررہے ہیں۔ نریندرا مودی اور بنیامین نیتن یاہو قصاب بنے ہوئے ہیں، جو کشمیریوں اور فلسطینیوں کے گلوں پر چھریاں چلا رہے ہیں، مظالم ڈھا رہے ہیں۔ انبیا کی سرزمین فلسطین خون میںغلطان بزبان حال اپنی داستان الم سنارہی ہے مگر غیروں سے گلہ کیا اپنے کلمہ گو بھی گونگے اور بہرے بن چکے ہیں۔07 اکتوبر 2023سے اب تک 50 ہزار بے بس، لاچار اور بے یارو مدد گار فلسطینی قربان ہوچکے ہیں، ایک لاکھ سے زائد زخموں سے چور ہیں۔ شہدا میں 20 ہزار صرف بچے اور 15ہزار خواتین ہیں، جس سے یہ نتیجہ اخذ کرنے میں کوئی مشکل پیش نہیں آنی چاہیے کہ اسرائیل مستقبل کے معماروں اور ان معماروں کو جنم دینے والی ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنارہا ہے تاکہ اسے آنے والے کل میں کسی مزاحمت کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

ہم مسلمان سنت ابراہیمی ادا کرنے کے لیے جب جانور خریدتے ہیں تو اس کی عمر کا خاص خیال رکھتے ہیں کیونکہ کم عمر جانور اور لاغر جانور کی قربانی سے منع کیا گیا ہے، لیکن صیہونی افواج اہل فلسطین کے قتل عام میں عمر کا کوئی لحاظ نہیں رکھتیں، اسی لیے اتنی بڑی تعداد میں بچے قربان ہوچکے ہیں۔ اہل فلسطین اور ان کی رگوں میں خون کی طرح دوڑنے والی حماس ان جان گسل حالات میں بھی اللہ کی کبریائی کا ڈنکا بجارہی ہے۔ جو پوری دنیا کے لیے سبق آموز ہے، کہ بے سروسامانی کے باوجود باطل کی اطاعت اور اس کے سامنے سرنگوں نہیں ہوا جاتا، یہی اہل غزہ کا پیغام ہے، اگر کوئی سمجھے تو۔

عید قرباں پر بھی اسرائیلی مظالم میں کوئی کمی نہیں آئی، عید کے دن غزہ پر چند گھنٹوں کے دوران بمباری سے 56 فلسطینی قربان ہوگئے۔ اسرائیلی فوج نے غزہ سٹی پر شدید بمباری کی، جس سے 15 فلسطینی شہید ہوئے۔ اس کے علاوہ شمالی علاقے جبالیہ پر حملے میں بھی 11 افراد شہید ہوئے۔

اسرائیلی فورسز نے رفح کے قریب الاخوہ میں امدادی مقام کے قریب امداد کا انتظار کرتے ہوئے افراد پر بمباری کر دی، جس کے نتیجے میں کم از کم 8 فلسطینی شہید ہو گئے، جس کے بعد غزہ ہیومینٹیرین فاؤنڈیشن کی جانب سے آپریشن شروع کرنے کے بعد سے امداد کی تلاش میں شہید ہونے والوں کی تعداد 118 ہو گئی۔ مختلف عقائد اور سیاسی و جمہوری نظریات رکھنے والے عوام قریب قریب تمام ممالک میں سڑکوں پر ریلیاں نکالتے ہوئے مطالبہ کررہے ہیں کہ غزہ میں جنگ بندی ہو، اسرائیل تمام مقبوضہ علاقے خالی کرے، اس کے حکمرانوں کو جنگی مجرم قرار دیا جائے اور فلسطین کی ایک آزاد و خودمختار ریاست قائم کردی جائے۔ لیکن پھر بھی اس عالم گیر مطالبے کو دبایا جارہا ہے، بھوک، پیاس، قحط اور بیماریوں، بمباریوں اور میزائلوں کی بارش سے مظلوم فلسطینیوں کو تڑپایا جارہا ہے، جب کہ مسلم حکمران ٹس سے مس نہیں ہوتے ہیں۔

یہی صورتحال بھارت کے زیر تسلط مقبوضہ کشمیر کی ہے، بھارتی افواج پچھلے 78 سال سے کشمیریوں کے سروں پر ان کی مرضی کے خلاف قابض ہے، جارح اور وحشی درندے کی طرح نوچ کر کھا رہی ہے۔ مقبوضہ وادی میں فوجی بوٹوں کی چاپ ہر وقت سنائی دیتی ہے۔اس ظالم اور دہشتگرد بھارتی فوج کے ہاتھوں قربان ہونے والوں کی بلند آہنگ چیخیں سنائی نہیں دے رہیں۔ 27 اکتوبر 1947میں ایک ایسے ملک جو خود کو پوری دنیا میں جمہوریت کا راگ آلاپ رہا ہے اور پھر طرہ یہ کہ جمہوریت کی اس نیلم پری کو اس کے بدبودار لبادے میں پیش کرنے کے لیے سیکولر ازم کا ڈھنڈورہ بھی پیٹتا ہے۔کیا سفاکانہ مذاق نہیں؟ بھارت نے مقبوضہ جموں وکشمیر کو تقسیم برصغیر کے اصولوں اور عالمی قوانین کے خلاف فوجی طاقت کی بنیاد پر اپنا زیر نگین علاقہ بنایا۔

اہل کشمیر کے سینوں پر مونگ دل رہا ہے اور جب اہل کشمیر کے پرامن جمہوری اصولوں کے عین مطابق حق خود ارادیت کے مطالبے کو بے رحمی سے کچلا گیا تو پھر اہل کشمیر کو اپنی صدا کو دنیا تک پہنچانے کے لیے صدائے بندوق کا سہارا لینا پڑا۔ اس صدا نے مسئلہ کشمیر کو سرد خانے سے نکال کر ایک عالمی بلکہ ایٹمی فلیش پوائنٹ بنادیا۔ 1989سے لے کر آج کے دن تک ایک لاکھ کے قریب کشمیری اپنی جانیں قربان کرچکے ہیں، جب کہ 1947 سے اب تک سوا پانچ لاکھ کشمیریوں کو اپنی جانوں سے گزرنا پڑا۔ قربانیوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ آج بھی جاری ہے۔کشمیری عوام ہر سال عید قرباں سادگی سے مناتے ہیں اور اپنے جذبہ آزادی کو تازگی بخشتے ہیں، اس آزادی کے لیے اپنی جانیں قربان کرنے کا عزم کرتے ہیں جب کہ بھارت کی درندہ صفت فوج عید کے موقع پر بھی مظالم کا سلسلہ جاری و ساری رکھتی ہے۔

 اس بار بھی میر واعظ عمر فاروق جیسے حریت رہنماؤں کو عید کی نماز سے روکا گیا۔ کشمیری مسلمانوںکو سری نگر کی تاریخی جامع مسجد اور عید گاہ میں عید الاضحی کی نماز ادا کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ بھارتی درندہ صفت فوج نے بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ کے حکم پر دونوں اہم مقامات پر نماز عید ادا نہیں کرنے دی۔ 2019میں مقبوضہ جموں وکشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد سے کشمیری مسلمانوں کو ان دونوں جگہوں پر مسلسل عید کی نماز سے روکا جا رہا ہے۔

اہل فلسطین و کشمیر کی قربانیوں اور جذبوں کو دیکھ کر اس بات کا یقین سبھی کو ہے کہ آج یہ مظلوم اقوام اپنی آزادی کے لیے قربانیاں دے رہے ہیں اللہ کریم ان کی لازوال قربانیوں کو اپنی بارگاہ میں قبول و مقبول فرمائے اور انھیں آزادی کا سورج نصیب فرمائے۔ آمین

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کی قربانی رہے ہیں کو اپنی شہید ہو کے بعد رہا ہے کے لیے اور ان

پڑھیں:

تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟

پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔

پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔

دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔

بڑی احتجاجی کال پر تحفظات

پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔

ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔

پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔

9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا

پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔

26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔

مزیدپڑھیں:بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی

اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔

عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل

عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔

پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔

5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟

گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔

متعلقہ مضامین

  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • اداکار شان بیگ اور روما مائیکل رشتۂ ازدواج میں منسلک، مداحوں کو خوشخبری سنا دی
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف