عید قرباں، اسلام اور سیدنا ابراہیم علیہ السلام اور سیدنا اسماعیل علیہ السلام کے فلسفہ تسلیم و رضا کی کامل تصویر ہے، جو سیدنا ابراہیم ؑ اور ان کے بعد دنیا پر بھیجنے جانے والے انبیاء کرام کے سلسلے سے گزرتے ہوئے امام الانبیاء محمد مصطفیٰ احمد مجتبٰی ﷺ کی دعوت نبوت و رسالت پر اختتام کو پہنچا۔ درحقیقت قربانی تو جان کی قربانی ہی تھی، جیساکہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کے واقعے سے معلوم ہوتاہے اور شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمہ اللہ نے بھی فرمایاہے کہ اصل قربانی تو جان نثاری کی قربانی تھی، اللہ تعالیٰ نے اپنی بے پایاں رحمت سے یہ قربانی جان سے ٹال کر مال کی طرف منتقل کی۔
پھر یہ بھی ہوسکتا تھا کہ مالی قربانی صدقے کی صورت میں مقرر کردی جاتی لیکن اس طرح انسان کو اپنی جانی قربانی کی طرف توجہ اور اس کا استحضار نہ ہوتا۔ اس غرض کے لیے ایسی مالی قربانی مقرر کی گئی جس میں جانور قربان کیا جائے تاکہ مالی قربانی میں بھی جانی قربانی کی مشابہت موجود ہو اور معمولی احساس رکھنے وال اانسان بھی بوقتِ قربانی یہ سوچے کہ اس بے زبان جان دار کو میں کس لیے قربان کررہاہوں؟ اس کا خون کیوں بہا رہا ہوں؟ جب یہ احساس اس کے اندر پیدا ہوگا تو اسے استحضار ہوگا کہ درحقیقت یہ میرے نفس اور میری جان کی قربانی تھی، اللہ تعالیٰ نے اسے میرے مال کی صورت قبول کرلیا، یوں اسے مقصدِ اصلی بھی یاد رہے گا اور نفس کی قربانی کے لیے یہ محرک بھی ہوگا اور اللہ تعالیٰ کے سامنے شکر گزاری کا جذبہ بھی بڑھے گا۔
روئے زمین پر عید قرباں کے موقع پر تمام مسلمان جانور قربان کرکے سنت ابراہیمی ادا کررہے تھے لیکن روئے زمین کے مظلوم آج بھی اپنی جانوں کی قربانیاں دے رہے ہیں، مقبوضہ جموں وکشمیر سے لے کر سرزمین فلسطین تک معصوم، لاچار اور بے بس وبے کس مسلمانوں کے خون سے سیراب ہوچکی ہے۔ سیدنا ابراہیم ؑ اور ان کے فرزند سیدنا اسماعیل ؑ نے رہتی دنیا تک عالم انسانیت کو حکم خداوندی کے مطابق ایمان، تسلیم و رضا اور قربانی کا جو سبق پڑھایا ہے، اسے ارض مقدس فلسطین اورمقبوضہ کشمیر کے باسی پوری ایمانداری سے دوہرا رہے ہیں۔
اپنی جانوں کے نذرانے پیش کررہے ہیں۔ نریندرا مودی اور بنیامین نیتن یاہو قصاب بنے ہوئے ہیں، جو کشمیریوں اور فلسطینیوں کے گلوں پر چھریاں چلا رہے ہیں، مظالم ڈھا رہے ہیں۔ انبیا کی سرزمین فلسطین خون میںغلطان بزبان حال اپنی داستان الم سنارہی ہے مگر غیروں سے گلہ کیا اپنے کلمہ گو بھی گونگے اور بہرے بن چکے ہیں۔07 اکتوبر 2023سے اب تک 50 ہزار بے بس، لاچار اور بے یارو مدد گار فلسطینی قربان ہوچکے ہیں، ایک لاکھ سے زائد زخموں سے چور ہیں۔ شہدا میں 20 ہزار صرف بچے اور 15ہزار خواتین ہیں، جس سے یہ نتیجہ اخذ کرنے میں کوئی مشکل پیش نہیں آنی چاہیے کہ اسرائیل مستقبل کے معماروں اور ان معماروں کو جنم دینے والی ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنارہا ہے تاکہ اسے آنے والے کل میں کسی مزاحمت کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ہم مسلمان سنت ابراہیمی ادا کرنے کے لیے جب جانور خریدتے ہیں تو اس کی عمر کا خاص خیال رکھتے ہیں کیونکہ کم عمر جانور اور لاغر جانور کی قربانی سے منع کیا گیا ہے، لیکن صیہونی افواج اہل فلسطین کے قتل عام میں عمر کا کوئی لحاظ نہیں رکھتیں، اسی لیے اتنی بڑی تعداد میں بچے قربان ہوچکے ہیں۔ اہل فلسطین اور ان کی رگوں میں خون کی طرح دوڑنے والی حماس ان جان گسل حالات میں بھی اللہ کی کبریائی کا ڈنکا بجارہی ہے۔ جو پوری دنیا کے لیے سبق آموز ہے، کہ بے سروسامانی کے باوجود باطل کی اطاعت اور اس کے سامنے سرنگوں نہیں ہوا جاتا، یہی اہل غزہ کا پیغام ہے، اگر کوئی سمجھے تو۔
عید قرباں پر بھی اسرائیلی مظالم میں کوئی کمی نہیں آئی، عید کے دن غزہ پر چند گھنٹوں کے دوران بمباری سے 56 فلسطینی قربان ہوگئے۔ اسرائیلی فوج نے غزہ سٹی پر شدید بمباری کی، جس سے 15 فلسطینی شہید ہوئے۔ اس کے علاوہ شمالی علاقے جبالیہ پر حملے میں بھی 11 افراد شہید ہوئے۔
اسرائیلی فورسز نے رفح کے قریب الاخوہ میں امدادی مقام کے قریب امداد کا انتظار کرتے ہوئے افراد پر بمباری کر دی، جس کے نتیجے میں کم از کم 8 فلسطینی شہید ہو گئے، جس کے بعد غزہ ہیومینٹیرین فاؤنڈیشن کی جانب سے آپریشن شروع کرنے کے بعد سے امداد کی تلاش میں شہید ہونے والوں کی تعداد 118 ہو گئی۔ مختلف عقائد اور سیاسی و جمہوری نظریات رکھنے والے عوام قریب قریب تمام ممالک میں سڑکوں پر ریلیاں نکالتے ہوئے مطالبہ کررہے ہیں کہ غزہ میں جنگ بندی ہو، اسرائیل تمام مقبوضہ علاقے خالی کرے، اس کے حکمرانوں کو جنگی مجرم قرار دیا جائے اور فلسطین کی ایک آزاد و خودمختار ریاست قائم کردی جائے۔ لیکن پھر بھی اس عالم گیر مطالبے کو دبایا جارہا ہے، بھوک، پیاس، قحط اور بیماریوں، بمباریوں اور میزائلوں کی بارش سے مظلوم فلسطینیوں کو تڑپایا جارہا ہے، جب کہ مسلم حکمران ٹس سے مس نہیں ہوتے ہیں۔
یہی صورتحال بھارت کے زیر تسلط مقبوضہ کشمیر کی ہے، بھارتی افواج پچھلے 78 سال سے کشمیریوں کے سروں پر ان کی مرضی کے خلاف قابض ہے، جارح اور وحشی درندے کی طرح نوچ کر کھا رہی ہے۔ مقبوضہ وادی میں فوجی بوٹوں کی چاپ ہر وقت سنائی دیتی ہے۔اس ظالم اور دہشتگرد بھارتی فوج کے ہاتھوں قربان ہونے والوں کی بلند آہنگ چیخیں سنائی نہیں دے رہیں۔ 27 اکتوبر 1947میں ایک ایسے ملک جو خود کو پوری دنیا میں جمہوریت کا راگ آلاپ رہا ہے اور پھر طرہ یہ کہ جمہوریت کی اس نیلم پری کو اس کے بدبودار لبادے میں پیش کرنے کے لیے سیکولر ازم کا ڈھنڈورہ بھی پیٹتا ہے۔کیا سفاکانہ مذاق نہیں؟ بھارت نے مقبوضہ جموں وکشمیر کو تقسیم برصغیر کے اصولوں اور عالمی قوانین کے خلاف فوجی طاقت کی بنیاد پر اپنا زیر نگین علاقہ بنایا۔
اہل کشمیر کے سینوں پر مونگ دل رہا ہے اور جب اہل کشمیر کے پرامن جمہوری اصولوں کے عین مطابق حق خود ارادیت کے مطالبے کو بے رحمی سے کچلا گیا تو پھر اہل کشمیر کو اپنی صدا کو دنیا تک پہنچانے کے لیے صدائے بندوق کا سہارا لینا پڑا۔ اس صدا نے مسئلہ کشمیر کو سرد خانے سے نکال کر ایک عالمی بلکہ ایٹمی فلیش پوائنٹ بنادیا۔ 1989سے لے کر آج کے دن تک ایک لاکھ کے قریب کشمیری اپنی جانیں قربان کرچکے ہیں، جب کہ 1947 سے اب تک سوا پانچ لاکھ کشمیریوں کو اپنی جانوں سے گزرنا پڑا۔ قربانیوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ آج بھی جاری ہے۔کشمیری عوام ہر سال عید قرباں سادگی سے مناتے ہیں اور اپنے جذبہ آزادی کو تازگی بخشتے ہیں، اس آزادی کے لیے اپنی جانیں قربان کرنے کا عزم کرتے ہیں جب کہ بھارت کی درندہ صفت فوج عید کے موقع پر بھی مظالم کا سلسلہ جاری و ساری رکھتی ہے۔
اس بار بھی میر واعظ عمر فاروق جیسے حریت رہنماؤں کو عید کی نماز سے روکا گیا۔ کشمیری مسلمانوںکو سری نگر کی تاریخی جامع مسجد اور عید گاہ میں عید الاضحی کی نماز ادا کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ بھارتی درندہ صفت فوج نے بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ کے حکم پر دونوں اہم مقامات پر نماز عید ادا نہیں کرنے دی۔ 2019میں مقبوضہ جموں وکشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد سے کشمیری مسلمانوں کو ان دونوں جگہوں پر مسلسل عید کی نماز سے روکا جا رہا ہے۔
اہل فلسطین و کشمیر کی قربانیوں اور جذبوں کو دیکھ کر اس بات کا یقین سبھی کو ہے کہ آج یہ مظلوم اقوام اپنی آزادی کے لیے قربانیاں دے رہے ہیں اللہ کریم ان کی لازوال قربانیوں کو اپنی بارگاہ میں قبول و مقبول فرمائے اور انھیں آزادی کا سورج نصیب فرمائے۔ آمین
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کی قربانی رہے ہیں کو اپنی شہید ہو کے بعد رہا ہے کے لیے اور ان
پڑھیں:
جنگ کا قیدی، اسرائیل امریکہ کو کہاں لے آیا؟
اسلام ٹائمز: اس مخمصے سے نکلنے کے لیے امریکہ کے سامنے دو ہی راستے تھے، ایک طرف جنگ کو وسعت دینے کا اسرائیلی حمایت یافتہ راستہ تھا، تاکہ شکست کی دھند کو بارود کے دھوئیں میں چھپایا جا سکے۔ چنانچہ امریکہ نے ایران کو عالمی خطرہ بنا کر پیش کیا اور یورپی و نیٹو اتحادیوں کو شامل کرنے کی کوشش کی، مگر یورپ نے فاصلہ اختیار کرنے میں عافیت جانی۔ تحریر: سید محمد
کسی پرانے جوئے خانے کی ایک کہاوت مشہور ہے "تم اس وقت تک حقیقتاً نہیں پھنستے جب تک تمہیں یہ احساس نہ ہو جائے کہ باہر نکلنے کا دروازہ بند ہوچکا ہے۔" مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ سیاسی بساط پر اسرائیل یہی کھیل کھیل رہا ہے۔ ظاہری بیانیے کو ایک طرف رکھیں تو ایک واضح حقیقت سامنے آتی ہے: اسرائیل ایران کی ایٹمی صلاحیت یا میزائل پروگرام سے کم اور امریکی انخلا کے محض امکان سے زیادہ خوفزدہ ہے۔ یہ خوف کوئی معمولی تشویش نہیں بلکہ ایک ایسی وحشت ہے، جو اسرائیلی حکمتِ عملی کے ہر پہلو کو تشکیل دے رہی ہے۔
اسرائیل ہر اس راستے کو سبوتاژ کرتا دکھائی دیتا ہے، جو واشنگٹن کو بحران سے نکلنے کا راستہ فراہم کرسکے۔ یہاں جنگ کا مقصد دشمن کو شکست دینا نہیں بلکہ اتحادی کو اس حد تک اندر کھینچ لینا ہے کہ وہ خود جنگ کا قیدی بن جائے۔ سوال یہ نہیں کہ امریکہ اس تنازعے میں شریک رہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ اس حد تک شریک ہو جائے کہ بعد میں الگ نہ ہوسکے۔ یہ حکمتِ عملی ایک نفسیاتی اور سیاسی جال کی صورت اختیار کرچکی ہے۔ ابتدا ہی سے اسرائیل نے ٹرمپ کو ایران کے ساتھ براہِ راست تصادم کی طرف دھکیلا اور ٹرمپ اپنی طاقت اور امریکی بالادستی کے تصور میں اس قدر گرفتار رہا کہ اسے واپسی کا راستہ دکھائی نہ دیا۔
ایران اور مزاحمتی محاذ کی استقامت نے امریکی عسکری برتری کے اُس طلسم کو چیلنج کر دیا، جسے دہائیوں سے ناقابلِ شکست تصور کیا جاتا تھا۔ اربوں ڈالر کے دفاعی نظام، جدید ٹیکنالوجی اور وسیع عسکری اتحاد بھی خطے میں پیدا ہونے والی نئی بے یقینی کو روک نہ سکے، جبکہ امریکی دفاعی چھتری اور اڈوں کی محدودیت پہلے سے زیادہ نمایاں ہوگئی۔ اسی میدان میں اہداف کا مسلسل سکڑنا بھی صورتِ حال کا مظہر تھا۔ ایران میں رجیم تبدیلی جیسے بڑے ہدف سے شروع ہونے والا معرکہ بلاشرط ہتھیار ڈالنے کے مطالبے، دفاعی صلاحیتوں کو محدود کرنے اور بالآخر آبنائے ہرمز کو کھلوانے جیسے محدود اہداف تک سمٹ آیا، جبکہ امریکی دھمکیاں بھی بتدریج ایرانی سویلین انفراسٹرکچر اور پاور پلانٹس کو نشانہ بنانے تک گر آئیں۔
اس مخمصے سے نکلنے کے لیے امریکہ کے سامنے دو ہی راستے تھے، ایک طرف جنگ کو وسعت دینے کا اسرائیلی حمایت یافتہ راستہ تھا، تاکہ شکست کی دھند کو بارود کے دھوئیں میں چھپایا جا سکے۔ چنانچہ امریکہ نے ایران کو عالمی خطرہ بنا کر پیش کیا اور یورپی و نیٹو اتحادیوں کو شامل کرنے کی کوشش کی، مگر یورپ نے فاصلہ اختیار کرنے میں عافیت جانی۔ دوسری طرف سفارتی اخراج کا راستہ تھا، مگر یہاں بھی مسئلہ یہ تھا کہ اسرائیل جس صف بندی کو اپنی سلامتی کے لیے ضروری سمجھتا ہے، وہی امریکہ کے علاقائی اتحادیوں کے لیے معاشی، سیاسی اور سکیورٹی خطرات کا باعث بن سکتی تھی۔
سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور دیگر خلیجی ریاستیں اپنی معیشتوں، توانائی کی تنصیبات اور سرمایہ کاری کے مراکز کے باعث براہِ راست خطرات سے دوچار ہوسکتی تھیں۔ اسی لیے وہ ایسے راستوں کی تلاش میں تھیں، جو ضروری نہیں کہ اسرائیل کے مفادات سے ہم آہنگ ہوں۔ آج اگر امریکہ اپنے مفادات کے لیے واپس چلا جاتا ہے تو اسرائیل تنہا رہ جاتا ہے، لیکن اگر پورا امریکی وقار، افواج اور سیاسی سرمایہ اس جنگ سے جڑ جائے تو واشنگٹن کے لیے اسرائیل سے فاصلہ اختیار کرنا ناممکن ہو جاتا ہے۔
روایتی جنگوں کا مقصد دشمن کو شکست دینا ہوتا ہے، لیکن اسرائیل نے جنگ کو ایک ایسے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا سیکھ لیا ہے، جس کا نشانہ دشمن نہیں بلکہ اس کا سب سے بڑا اتحادی یعنی امریکہ ہے۔ لبنان کا محاذ بھی اب صرف میدانِ جنگ کا مسئلہ نہیں رہا بلکہ سفارتی عمل کو متاثر کرنے کا ایک مؤثر آلہ بن چکا ہے۔ جب بھی مذاکرات یا کشیدگی میں کمی کا امکان پیدا ہوتا ہے، لبنان دوبارہ مرکزِ توجہ بن جاتا ہے۔ اس کے ذریعے کسی بھی مذاکراتی عمل کو پیچیدہ یا سست کیا جا سکتا ہے۔ اگر امریکہ ایران کے ساتھ کسی مفاہمت تک پہنچ جاتا ہے تو یہ تاثر پیدا ہوسکتا ہے کہ خطے کے اہم معاملات اسرائیل کی براہِ راست شمولیت کے بغیر بھی طے ہوسکتے ہیں اور یہی وہ تاثر ہے، جسے اسرائیل ٹوٹنے نہیں دینا چاہتا۔
بعض ریاستوں کے لیے مستقل بحران خود ایک قیمتی سرمایہ بن جاتا ہے۔ جاری کشیدگی اتحادیوں کو متحد اور سکیورٹی خدشات کو زندہ رکھتی ہے۔ اسرائیل کے لیے فوری امن یا جامع سیاسی تصفیہ شاید اتنا مفید نہیں جتنا ایک ایسا کنٹرولڈ بحران جو مسلسل مغربی حمایت اور علاقائی توجہ کو اس کی طرف کھینچے رکھے۔ یہ تمام عوامل امریکہ کو ایک غیر معمولی اسٹریٹجک دباؤ کے دائرے میں دھکیل چکے ہیں۔ ایک طرف ایران کی ایسی مزاحمت ہے، جو کسی حتمی فوجی حل کو ناممکن بناتی ہے، دوسری طرف اسرائیل کی خواہش ہے کہ واشنگٹن مکمل طور پر بحران میں جکڑا رہے، جبکہ تیسری طرف علاقائی اتحادی کشیدگی میں کمی چاہیتے ہیں تاکہ ان کی معیشتیں اور داخلی استحکام محفوظ رہ سکیں۔ نتیجتاً امریکہ ایک ایسی پوزیشن میں کھڑا ہے، جہاں آگے بڑھنا بھی خطرناک ہے، پیچھے ہٹنا بھی مشکل اور جمود بھی اتحادیوں کے اعتماد کو کھوکھلا کر رہا ہے۔
جنگیں صرف میدانِ جنگ میں نہیں جیتی جاتیں بلکہ بعض اوقات ان کی سب سے بڑی کامیابی مخالف اتحاد کے اندر موجود تضادات، کمزوریوں اور متصادم مفادات کو بے نقاب کرنے اور اس کے سیاسی، سفارتی اور اسٹریٹجک ڈھانچے میں دراڑیں نمایاں کرنے میں ہوتی ہے۔ اسی تناظر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حماقت سے نارملائزیشن فریم ورک کو شدید دھچکا پہنچنے کے باوجود، سعودی عرب، قطر، پاکستان، ترکی، مصر اور اردن جیسے ممالک پر ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت اور واضح سیاسی صف بندی کے لیے دباؤ بڑھانا بھی قابلِ توجہ ہے۔ عملاً اس کا مطلب یہ ہے کہ ان ممالک سے ایک ایسے بحران میں اپنی پوزیشن واضح کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے، جس کے ممکنہ عسکری، معاشی اور سیاسی نتائج کا بوجھ بھی انہیں خود اٹھانا پڑ سکتا ہے۔