ملک میں گیس کی قلت کے باوجود ایک لاکھ 16 ہزار سے زائد نئے کنکشن دینے کا منصوبہ
اشاعت کی تاریخ: 12th, June 2025 GMT
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔12 جون ۔2025 )ملک میں گیس کی قلت کے باوجود ایک لاکھ 16 ہزار سے زائد نئے گیس کنکشنز دینے کا منصوبہ تیار کرلیا گیا ہے، سرکاری دستاویز کے مطابق آئندہ مالی سال ایک لاکھ 15 ہزار 530 نئے گھریلو گیس صارفین، 550 نئے کمرشل گیس صارفین اور 350 نئے صنعتی صارفین کو کنکشن دینے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے.
(جاری ہے)
رواں مالی سال کے نظرثانی ہدف کے مقابلے میں نئے سال 96 ہزار 209 نئے گیس کنکشنز دینے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے، آئندہ مالی سال سوئی ناردرن کے سسٹم پر 30 ہزار 530 نئے گیس کنکشنز کا ہدف مقرر کیا گیا ہے دستیاب دستاویز کے مطابق نئے مالی سال میں سوئی سدرن کے سسٹم پر 85 ہزار 740 نئے گیس کنکشن دینے کا ہدف رکھا گیا ہے، آئندہ مالی سال ایک لاکھ 15 ہزار 530 نئے گھریلو گیس صارفین کا ہدف مقرر کیا گیا ہے.
یاد رہے کہ رواں مالی سال 25-2024 میں نئے گیس کنکشنز کا ہدف 68 ہزار 990 مقرر کیا گیا ہے تاہم رواں مالی سال نظرثانی شدہ نئے گیس کنکشنز کا ہدف 20 ہزار 61 ہے.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے آئندہ مالی سال نئے گیس کنکشنز نئے گیس کنکشن ایک لاکھ دینے کا
پڑھیں:
کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے واجبات لواحقین کو ادا کرنے کا حکم
— فائل فوٹوسندھ ہائی کورٹ نے کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے لواحقین کے واجبات کی ادائیگی کا حکم دے دیا۔
عدالت کے آئینی بینچ نے کے ڈی اے کے مرحوم افسر کے واجبات کی لواحقین کو عدم ادائیگی کے کیس کی سماعت کی۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ کے ڈی اے نے واجبات تسلیم کرنے کے باوجود ادائیگی نہیں کی۔
عدالت کے استفسار پر کے ڈی اے کے وکیل نے بتایا کہ کے ڈی اے اب تک 3 لاکھ 50 ہزار روپے ادا کرچکا ہے، ادائیگی میں تاخیر مالی مشکلات کے باعث ہوئی۔
کے ڈی اے کے وکیل نے بتایا کہ سندھ حکومت سے 5 ارب روپے کی گرانٹ طلب کی گئی ہے۔
کراچی سندھ ہائی کورٹ نے ایکسائز افسر کے خلاف 4 من سے...
جس پر عدالت نے اپنے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ریکارڈ کے مطابق مرحوم افسر کے واجبات ان کی زندگی میں ادا نہیں کیے گئے، درخواست گزار قانونی وارث ہونے کے باعث واجبات کی حق دار ہیں، پینشن اور ریٹائرمنٹ فوائد کسی ادارے کی صوابدید نہیں بلکہ قانونی حق ہے۔
عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ واجبات کی بر وقت ادائیگی ریاستی اداروں کی آئینی ذمے داری ہے، ادارے کی مالی مشکلات ملازمین کو تسلیم شدہ حقوق سے محروم رکھنے کا جواز نہیں بن سکتیں، سرکاری ادارے مالی اور انتظامی امور بہتر انداز میں چلانے کے پابند ہیں، کے ڈی اے درخواست گزار کو واجبات کی مد میں 1 کروڑ 10 لاکھ روپے ادا کرے اور عمل درآمد رپورٹ رجسٹرار سندھ ہائی کورٹ کو پیش کی جائے۔