بجٹ: سندھ اسمبلی اور سندھ کابینہ کے اجلاس کل طلب کرلیے گئے
اشاعت کی تاریخ: 12th, June 2025 GMT
---فائل فوٹو
قائم مقام گورنر سندھ اویس قادر شاہ نے کل سندھ اسمبلی کا اجلاس طلب کر لیا۔
سندھ اسمبلی کے کل ہونے والے اجلاس سے متعلق نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب سندھ کابینہ کا اجلاس بھی طلب کرلیا گیا ہے، اس حوالے سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق اجلاس کل صبح 9 بجے طلب کیا گیا ہے۔
صوبائی سیکریٹری خزانہ کابینہ اجلاس میں سندھ کے مالی سال 26-2025ء کے بجٹ سے متعلق تجاویز پیش کریں گے۔
صوبۂ سندھ کے آئندہ مالی سال کے ترقیاتی بجٹ کے لیے 1018.
یاد رہے کہ اس سے قبل وزیرِ اعلیٰ مراد علی شاہ نے کہا تھا کہ وفاقی بجٹ 10 جون کو آئے گا جبکہ سندھ کا بجٹ 13 جون کو پیش کیا جائے گا۔
سیہون میں اپنے آبائی گاؤں واہڑ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سید مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ وفاق سے حتمی اعداد و شمار ملنے کے بعد فیصلہ کریں گے کہ بجٹ میں تنخواہیں کتنی بڑھائی جائیں۔
انہوں نے کہا کہ مہنگائی کے باعث عوام پر بوجھ بڑھ گیا ہے، بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دیا جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: گیا ہے
پڑھیں:
شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ اس وقت سندھ بھر کے عوام بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ سے پریشان ہیں۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ بھر کے عوام بجلی کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے پریشان ہیں، اندرون سندھ جہاں زیادہ گرمی ہے، وہاں 22، 22 گھنٹے بجلی بند کی جاتی ہے۔ شرجیل میمن نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں کہیں بھی کلیکٹو پنشمنٹ نہیں ہوتی، اس معاملے پر عدالت بھی گیا اور ہائیکورٹ میں کلیکٹو پنشمنٹ کو غیر آئینی اور غیر قانونی دلوانے کے لیے پٹیشن بھی داخل کی، جو زیر التوا ہے۔ سندھ کے سینئر وزیر نے مزید کہا کہ بجلی کمپنیوں نے انفرا اسٹرکچر پر خرچہ نہیں کیا، پورا ٹرانسفارمر ہی اتار لیتے ہیں، کمپنیاں فائدہ کما رہی ہیں تو اپنے انفرا اسٹرکچر پر بھی خرچ کریں۔