کینیڈا کے شہر برنابی نے چینی نژاد افراد کے خلاف تاریخی امتیازی سلوک پر سرکاری معافی کا اعلان کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 12th, June 2025 GMT
بیجنگ :کینیڈا کے صوبے برٹش کولمبیا کے شہر برنابی نے ایک اعلان جاری کرتے ہوئے کہا کہ شہر نے اس سال 15 نومبر کو تاریخی طور پر چینی نژاد افراد کے خلاف امتیازی سلوک پر سرکاری معافی مانگنے کا فیصلہ کیا ہے۔جمعرات کے روز چینی میڈیا نے بتایا کہ برنابی کی انتظامیہ نے کہا کہ 1892 سے 1947 تک، برنابی حکومت کی طرف سے شہر میں رہنے، کام کرنے اور کاروبار کرنے والے چینی نژاد افراد کے لیے بنائی گئی پالیسیاں اور طریقہ کار امتیازی تھے، جنہوں نے چینی نژاد افراد کے حقوق اور مواقع کو شدید طور پر محدود کر دیا۔ شہر کے میئر اور سٹی کونسل سرکاری طور پر معافی مانگیں گے اور مصالحت کے اقدامات کرنے کا وعدہ کریں گے تاکہ تاریخی امتیاز کے مسائل کو حل کیا جا سکے۔انیسویں صدی کے آخر میں، بڑی تعداد میں چینی مزدوروں نے کینیڈین پیسیفک ریلوے کی تعمیر میں حصہ لیا۔ لیکن 1885 میں ریلوے کی تکمیل کے بعد، کینیڈا کی حکومت نے “ہیڈ ٹیکس” کی شکل میں بھاری محصولات عائد کر کے چینی باشندوں کے داخلے اور آبادکاری کو محدود کر دیا۔ 1923 میں، کینیڈا نے ایک نیا قانون نافذ کیا جس نے چینی باشندوں کے داخلے اور شہریت حاصل کرنے پر مکمل پابندی لگا دی، جو 1947 تک برقرار رہی۔
Post Views: 2.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
بجلی صارفین کے لیے ریلیف کا اعلان، پاور ڈویژن نے عوام کو خوشخبری سنا دی
پاور ڈویژن نے اعلان کیا ہے کہ رواں سال جون کے دوران بجلی صارفین کو فی یونٹ 20 پیسے کا خالص ریلیف ملے گا۔
اعلامیے کے مطابق ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں 1.73 روپے فی یونٹ اضافہ جبکہ سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کی مد میں 1.93 روپے فی یونٹ کمی کی گئی ہے، جس کے نتیجے میں صارفین کو مجموعی طور پر 20 پیسے فی یونٹ کا فائدہ حاصل ہوگا۔
پاور ڈویژن کے مطابق جون میں بجلی کے نرخ جنوری تا مئی 2026 کے مقابلے میں برقرار رہیں گے۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ سہ ماہی ریلیف کی شرح ماہانہ اضافے سے زیادہ رہی، جس کی وجہ سے صارفین کو خالص ریلیف میسر آئے گا۔
پاور ڈویژن نے بتایا کہ ایران اور امریکا کے درمیان جنگ کے باعث عالمی توانائی منڈی شدید دباؤ کا شکار رہی اور برینٹ کروڈ آئل کی متوقع قیمت 70 ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔
پاور ڈویژن کے مطابق اس صورتحال کے باوجود حکومت نے بروقت اقدامات کرتے ہوئے بجلی صارفین کو بڑے اضافی مالی بوجھ سے محفوظ رکھا۔
اعلامیے کے مطابق اپریل میں بجلی کی قیمت میں ممکنہ طور پر 5 سے 6 روپے فی یونٹ اضافے کا خدشہ تھا، تاہم حکومتی اقدامات کے نتیجے میں اس اضافے کو محدود کرکے 1.73 روپے فی یونٹ تک رکھا گیا۔ اس طرح صارفین پر تقریباً 38 ارب روپے کا اضافی بوجھ منتقل ہونے سے بچ گیا۔
پاور ڈویژن کا کہنا ہے کہ محدود لوڈ مینجمنٹ، مقامی گیس کے استعمال اور فرنس آئل کے مؤثر استعمال کے ذریعے توانائی کے بحران کا مقابلہ کیا گیا۔
مزید بتایا گیا کہ سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کی مد میں 1.93 روپے فی یونٹ کمی کی گئی ہے جس سے مجموعی طور پر 65 ارب روپے کا ریلیف صارفین کو ملے گا۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ لائن لاسز میں کمی اور بجلی کی طلب میں اضافے کے باعث صارفین کو نمایاں ریلیف فراہم ہوا، جبکہ متوقع بیس ٹیرف کے مقابلے میں 46 ارب روپے کی منفی تبدیلی بھی صارفین کے حق میں گئی۔
پاور ڈویژن نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت نے عالمی اور علاقائی سطح پر درپیش مشکلات کے باوجود بجلی کے نرخوں کو مستحکم رکھنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بجلی صارفین پاور ڈویژن ریلیف کا اعلان عوام کو خوشخبری وی نیوز