—فائل فوٹو

پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (PM&DC) نے میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج ایڈمیشن ٹیسٹ ایم ڈی کیٹ 2025ء کا نیا نصاب اپنی سرکاری ویب سائٹ پر جاری کر دیا ہے۔

یہ نیا نصاب آئندہ ایم ڈی کیٹ امتحان کے لیے بنیادی فریم ورک کے طور پر کام کرے گا، ایم ڈی کیٹ 2025ء کا امتحان ستمبر کے آخری اتوار یا اکتوبر کے پہلے اتوار کو منعقد ہو گا، تاہم حتمی تاریخ چند روز میں داخلہ دینے والی جامعات سے مشاورت اور کونسل کی منظوری کے بعد جاری کی جائے گی۔

پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل ملک بھر میں طبی اور دندان سازی کی تعلیم کے معیار کو منظم کرنے والا قومی ادارہ ہے، پی ایم اینڈ ڈی سی نصاب کی تیاری، لائسنسنگ اور میڈیکل اداروں کی منظوری کی ذمے داری رکھتی ہے۔

نئے نصاب میں 5 اہم مضامین حیاتیات، کیمیا، طبیعیات، انگریزی اور منطقی استدلال (Logical Reasoning) شامل ہیں، جن میں تصوری فہم اور تنقیدی سوچ پر زور دیا گیا ہے۔

پی ایم اینڈ ڈی سی نے تمام امیدواروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنی تیاری نئے جاری کردہ نصاب کے مطابق شروع کریں، ایم ڈی کیٹ 2025ء کے امتحان کی ساخت، وزن اور مشکل کی سطحوں کی بھی وضاحت کر دی گئی ہے۔

امتحان میں کل 180 ملٹی پل چوائس سوالات (MCQs) ہوں گے، جنہیں 3 گھنٹے میں مکمل کرنا ہو گا، سوالات کی تقسیم 15 فیصد آسان، 70 فیصد درمیانی سطح اور 15 فیصد مشکل سوالات پر مبنی ہو گی۔

امتحان کا مکمل فارمیٹ ایم سی کیو پر مشتمل ہو گا اور اس میں منفی مارکنگ نہیں ہو گی، میڈیکل کالجوں میں داخلے کے لیے کم از کم 55 فیصد نمبر اور ڈینٹل کالجوں میں داخلے کے لیے کم از کم 50 فیصد نمبر حاصل کرنا لازمی ہوں گے۔

عدالتی حکم پر دوبارہ ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ، 38 ہزار سے زائد امیدواروں کی شرکت

کراچی سمیت سندھ بھر میں آئی بی اے سکھر کے تحت ایم ڈی کیٹ 2024 کا دوبارہ انعقاد کیا گیا، جس میں 38 ہزارسے زائد امیدوار شریک ہوئے۔

پی ایم اینڈ ڈی سی کے صدر پروفیسر ڈاکٹر رضوان تاج نے کہا ہے کہ ایم ڈی کیٹ 2025ء کا نیا نصاب شفافیت، مساوات اور معیار کو فروغ دینے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پچھلے نصاب میں کچھ خامیوں کی نشاندہی کی گئی تھی، جنہیں پی ایم اینڈ ڈی سی نے صرف 6 ماہ میں دور کرکے نیا نصاب کامیابی سے تیار کیا ہے، یہ نیا نصاب بنیادی علمی مواد اور تجزیاتی صلاحیتوں میں توازن پیدا کرتا ہے تاکہ ہماری آئندہ نسل کے ہیلتھ کیئر پروفیشنلز کی تعلیمی ضروریات کو بہتر طور پر پورا کیا جا سکے۔

ڈاکٹر تاج نے اس بات کی بھی توثیق کی کہ یہ نصاب ایک میرٹ پر مبنی، متحدہ قومی امتحانی نظام کی بنیاد رکھتا ہے، پی ایم اینڈ ڈی سی ماہرین کی مدد سے ایک سوالاتی بینک بھی تیار کر رہا ہے۔

انہوں نے ماضی کے چیلنجز کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ کونسل نے ان مسائل کو حل کرنے کے لیے بھرپور محنت کی ہے تاکہ ایک منصفانہ امتحانی نظام یقینی بنایا جا سکے، نیا نصاب تعلیمی ماہرین، جامعات اور صوبائی حکام سے وسیع مشاورت کے بعد مرتب کیا گیا ہے، جو قومی تعلیمی معیار اور بین الاقوامی بہترین طریقہ کار کے مطابق ہے، اس میں بنیادی سائنسی مضامین میں تصوری فہم اور تجزیاتی مہارتوں پر خاص زور دیا گیا ہے۔

ایم ڈی کیٹ کمیٹی اور اس کے ذیلی ورکنگ گروپس نے شفاف، شراکتی اور جامع عمل کے ذریعے قومی نصاب کو حتمی شکل دی، اس مقصد کے لیے کل 9 اجلاس منعقد ہوئے، پہلا مسودہ مارچ میں جاری کیا گیا، جس کے بعد تمام اسٹیک ہولڈرز سے تفصیلی رائے لی گئی جن میں صوبائی محکمۂ تعلیم و صحت، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے نمائندے، انٹر بورڈ کمیٹی آف چیئرمینز (IBCC)، وفاقی و علاقائی تعلیمی بورڈز، داخلہ دینے والی جامعات اور عام عوام شامل تھے۔

صدر پی ایم اینڈ ڈی سی نے تمام اسٹیک ہولڈرز کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے نصاب پر قیمتی تجاویز دیں، ان تمام تجاویز کا بغور جائزہ لیا گیا اور مناسب انداز میں نصاب میں شامل کیا گیا، نیشنل میڈیکل اینڈ ڈینٹل اکیڈمک بورڈ اور پی ایم اینڈ ڈی سی کی منظوری کے بعد حتمی مسودہ ویب سائٹ پر اپ لوڈ کر دیا گیا ہے۔

یہ مشترکہ کاوش اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ ایم ڈی کیٹ کے لیے ایک معیاری، شفاف اور منصفانہ قومی نصاب نافذ العمل ہو، جو ملک بھر میں میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں داخلے کے عمل کو یکساں بناتا ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ امیدوار باقاعدگی سے پی ایم ڈی سی کی ویب سائٹ وزٹ کرتے رہیں تاکہ امتحان کے شیڈول، رجسٹریشن اور دیگر اہم اعلانات سے باخبر رہ سکیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: پی ایم اینڈ ڈی سی نے میڈیکل اینڈ ڈینٹل ایم ڈی کیٹ 2025ء کا نیا نصاب کیا گیا کے لیے کے بعد گیا ہے

پڑھیں:

پنجاب میں 8لاکھ 32ہزار سے زائد کاشتکاروں کو کسان کارڈ جاری

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)پنجاب میں 8لاکھ 32ہزار سے زائد کاشتکاروں کو کسان کارڈ جاری کر دیئے گئے۔

نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق 6لاکھ 32ہزار کاشتکاروں نے 2ارب 54کروڑ روپے کے قرض استعمال کرلئے،گندم کے سیزن میں کاشتکاروں نے 100ارب کی زرعی مداخل خریدیں،کسان کارڈ کے ذریعے خریف کی فصل کیلئے 90ارب روپے دیئے گئے،کاشتکاروں نے 57ارب روپے کی اقساط ادا کردیں،3لاکھ کاشتکاروں نے 30ارب کے زرعی مداخل کسان کارڈ کے ذریعے حاصل کئے۔

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کاکہناتھا کہ کسان کارڈ کے ذریعے کاشتکار کی قسمت بدل رہی ہے،پنجاب کا کاشتکار اب کسی آڑھتی کا مقروض نہیں،پنجاب کے کاشتکار کو خودمختار اورخوشحال دیکھنا میرا خواب ہے،کاشتکاروں نے قرض کی بروقت ادائیگی سے مثال قائم کی ہے۔

کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار مقرر کرنے کی سفارش

مزید :

متعلقہ مضامین

  • پنجاب میں 8لاکھ 32ہزار سے زائد کاشتکاروں کو کسان کارڈ جاری
  • مردان: 3 افراد کو قتل کرنیوالے ملزمان انکے 2 بچے چارسدہ روڈ پر چھوڑ کر فرار
  • امریکا میں مصنوعی ذہانت کی نگرانی، ٹرمپ کا نیا ایگزیکٹو آرڈر جاری
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • پاکستان اور کویت جاری سفارتی کوششوں کے مثبت نتائج کیلئے پرامید
  • وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری
  • وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
  • وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کی پاکستان کے خلاف بیٹنگ جاری
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا