صوبائی وزیرلائیو سٹاک و زراعت سید عاشق حسین کرمانی کی زیرصدارت لائیو سٹاک ڈیپارٹمنٹ میں اہم اجلاس
اشاعت کی تاریخ: 12th, June 2025 GMT
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 12 جون2025ء) صوبائی وزیر لائیو سٹاک و زراعت سیدعاشق حسین کرمانی کی زیر صدارت لائیو سٹاک ڈیپارٹمنٹ میں اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں لائیوسٹاک کارڈ کے ریکوری پروسس،دیہی خواتین میں اثاثہ جات کی تقسیم کے دوسرے مرحلے ، محکمانہ جاری پراجیکٹس پر کرنٹ اسٹٹس اور ڈیپارٹمنٹ کے اگلے مالی سال 2025-26کے بجٹ میں وزیر اعلی پنجاب کے نئے انشیٹیوز و دوسرے منصوبے زیر غور آئے۔
سیکرٹری لائیو سٹاک پنجاب ثاقب علی عطیل نے شرکت کی۔صوبائی وزیر لائیو سٹاک و زراعت سید عاشق حسین کرمانی نے اس موقع پر کہا کہ وزیر اعلی مریم نواز شریف کے لائیو سٹاک سیکٹر میں کامیاب منصوبوں کے ثمرات سے مویشی پال کسان مستفید ہوئے ہیں ،ان کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوئے ہیں اور معاشی حالات میں بہتری آئی ہے۔(جاری ہے)
انھوں نے ڈویڑنل ڈائریکٹرز سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ بے شک مالی سال 2024-25 میں لائیو سٹاک سیکٹر کی گروتھ میں بہتری آئی ہے اور محکمہ کو عید الاضحی کے موقع پر انتظامات کے حوالے سے کسی قسم کی کوئی شکایت موصول نہیں ہوئی جو اس بات کا ثبوت ہے کہ تمام ڈائریکٹرز محکمہ کی جانب سے دیئے گئے ٹاسک کو پورا کرنے کے لیے حتی الامکان کوشش کرتے ہیں۔
اس موقع پرصوبائی وزیر لائیو سٹاک نے ڈویڑنل ڈائریکٹرز کو لائیو سٹاک کارڈ کے قرض کی ریکوری کے پروسس کو جلد از جلد مکمل کرنے اور اس سلسلے میں مزید فیلڈ افسران کی ڈیوٹیاں لگانے کی ہدایت کی۔ انھوں نے کہا کہ مقررہ مدت میں قرض کی ادائیگی کرنے والے لائیو سٹاک کارڈ ہولڈرز خود بخود ہی اگلے مرحلے کے لیے لائیو سٹاک کارڈ کے لیے اہل ہو جائیں گے۔جبکہ قرض کی رقم کی ادائیگی نہ کر سکنے والے کسان لائیو سٹاک ڈیپارٹمنٹ کی کسی اسکیم کے اہل نہیں رہیں گے۔قرض کی ادائیگی 15 مئی سے 15جون کے درمیان کی جا سکتی ہے۔انھوں نے ریکوری کے پروسس کو 23جون تک مکمل کرنے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دینے کی بھی منظوری دی جس میں متعلقہ اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز،اسسٹنٹ کمشنرز اور ریونیو ڈیپارٹمنٹ کے اراکین شامل ہوں گے۔صوبائی وزیر نے کہا کہ لائیو سٹاک کارڈ فیز ٹو کا مرحلہ 6ماہ پر مشتمل ہے اور اس میں 3 لاکھ جانور مویشی پال فارمرز میں تقسیم کئے جائیں گے جبکہ ایک مویشی پال کسان کیلئے جانوروں کی تعداد کو بڑھا کر 20 کر دیا گیا ہے۔فیز ٹو کے لیے درخواستیں 15مئی سے 15جون کے درمیان وصول کی جا رہی ہیں۔ اب تک 93ہزار سے زیادہ درخواستیں آچکی ہیں۔جن میں سے 22ہزار 973 منظور ہوئی ہیں جن میں سے 21ہزار 840ہزار درخواستوں کا ڈیٹا اربن یونٹ کو فزیکل ورفیکشن کے لیے ارسال کر دیا گیا ہے اور اس حوالے سے ان کا سروے 11جون سے شروع ہو گیا ہے۔ صوبائی وزیر لائیو سٹاک نے کہا کہ ایس پی ایم ایس 9211پر اتنی بڑی تعداد میں درخواستیں رجسٹرڈ نہیں ہو سکی ہیں جس کے لیے محکمہ کی جانب سے انہیں فوری طور پر مسیج بھیجنے کی ضرورت ہے تاکہ مویشی پال کسان جلد از جلد 9211لنک ایپ پر اپنی درخواستیں جمع کروا سکیں یا دوسری صورت میں اپنے علاقہ میں قائم قریبی شفا خانہ حیوانات سے رجوع کر سکیں۔صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ اربن یونٹ ایک ماہ میں فزیکل ورفیکشن کا پراسس مکمل کرے گا۔15جولائی سے لائیو سٹاک کارڈ سیکنڈ فیز کے لیے قرض کی پہلی قسط جاری کر دی جائے گی ،ہر نیا جانور ٹیگیڈ ہو گا۔صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ جنوبی پنجاب کے 12اضلاع کی دیہی خواتین میں اسکیم کے فیز ون کے تحت 5500 جانور تقسیم کئے جا چکے ہیں جبکہ اس اسکیم کے فیز ٹو میں بھی 5500 جانوروں کی تقسیم عمل میں لائی جائے گی اور اس کے لیے درخواستیں 20جون سے 20جولائی کے درمیان وصولی کی جائیں گی۔انھوں نے جانوروں کی تقسیم کے دن ہی جنوبی پنجاب کی دیہی خواتین میں بینک اف پنجاب کی جانب سے کارڈز تقسیم کرنے کے احکامات جاری کئے۔ صوبائی وزیر سید عاشق حسین کرمانی کو بریفنگ کے دوران سالانہ ترقیاتی پروگرام 2025-26 کے تحت مختلف اسکیمز اور پراجیکٹس کی تکمیل کیلئے مختص کئے گئے فنڈز سے بارے بتایا گیا۔صوبائی وزیر لائیو سٹاک کو اگلے مالی سال 2025-26 کے بجٹ میں وزیر اعلی کے تین نئے انشیٹیوز ، لائیو سٹاک کی پیداوار بڑھانے کیلئے ہرڈ ٹرانسفارمیشن،لائیو سٹاک ڈیپارٹمنٹ انٹرن شپ پروگرام اور ضلع بہاولنگر میں ویکسین کے ساتھ فٹ اینڈ موتھ ڈیزیز فری زون سے متعلق بریف کیا گیا۔ صوبائی وزیر سید عاشق حسین کرمانی نے کہا کہ پنجاب لائیو سٹاک کنکٹ(CONNECT) ویب سائٹ لانچ کر دی گئی ہے۔جس میں پورے پنجاب کے لائیو سٹاک ڈیپارٹمنٹ کے تمام سالٹر ہاؤسز،میٹ ایکسپورٹرز،فٹننگ فارمرز اورلائیو سٹاک کارڈ فارمرز کا ڈیٹا اپ لوڈ کر دیا گیا ہے۔ جس سے مویشی پال کسان اپنی شکایات، لائیو سٹاک فنانسنگ سے متعلق معلومات،جانوروں کی بیماری کے بارے میں آگاہ کر سکتے ہیں۔ مویشی پال کسانوں کو شکایات کے ازالے کے حوالے سے بروقت مطلع بھی کیا جائے گا۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ لائیو سٹاک ڈویڑنل و ڈسٹرکٹ ڈائریکٹرز اور ایڈیشنل ڈائریکٹرز کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ ہر تین ماہ بعد ڈیٹا اپ ٹو ڈیٹ کریں گے اور اس سلسلے میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔انھوں نے کہا کہ کام کرنے والے افسران کی کارکردگی کو سراہا جائے گا۔ اجلاس میں ایڈیشنل سیکرٹری(ٹیکنیکل) لائیو سٹاک ڈاکٹر عثمان طاہر، ڈائریکٹر جنرلز توسیع،پروڈکشن اور ریسرچ(لائیو سٹاک) کے علاوہ بینک آف پنجاب،پی آئی ٹی بی اور اربن یونٹ کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔جبکہ ایڈیشنل سیکرٹری لائیو سٹاک جنوبی پنجاب اسد نعیم اور تمام ڈویژنز کے ڈائریکٹرز آن لائن اجلاس میں موجود تھے۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے صوبائی وزیر لائیو سٹاک لائیو سٹاک کارڈ جانوروں کی نے کہا کہ انھوں نے اور اس قرض کی گیا ہے کے لیے
پڑھیں:
پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائممقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اجلاس طلب
پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائمقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اہم اجلاس31 جولائی کو طلب کر لیا گیا جس میں صدر پاکستان و چانسلر کی ہدایات پر قائمقام وی سی کی تعیناتی سے متعلق ایجنڈے پر دوبارہ غور کیا جائے گا۔
تفصیلات کے مطابق صدر پاکستان نے 24اپریل کو ریفرنس وزارت تعلیم کو بھجوایا ہے جس میں بطور چانسلر پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن ایکٹ کی شق8(6)کے تحت سینٹ کے 17ویں اجلاس کے ایجنڈا نمبر13پر دوبارہ غور کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔
دستیاب دستاویز کے مطابق 5 جنوری2026 کو ہونے والے سینیٹ کے17ویں اجلاس میں سابق وائس چانسلر پروفیسر حناطیبہ خلیل کو بطور وائس چانسلر کام جاری رکھنے کی منظوری دی گئی حالانکہ پروفیسر حنا طیبہ خلیل دو ٹرم مکمل کر چکی تھیں۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تعلیم نے بھی پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن کے سینٹ اجلاس (جس میں حناطیبہ خلیل کو قائمقام وائس چانسلر ذمہ داریاں جاری رکھنے کی منظوری دی) کو کالعدم قرار دینے کی سفارش کر رکھی۔
قائمہ کمیٹی کی چیئرپرسن بشری انجم بٹ نے اجلاس کے دوان کہا تھا کہ عبوری وائس چانسلر کی تعیناتی سے متعلق ایوان صدر نے واضح کیا تھا کہ ایجنڈے کی منظوری نہیں لی گئی تھی۔
ذرائع نے بتایا کہ بشری انجم بٹ نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن کی وائس چانسلر کی تعیناتی سے متعلق ریفرنس ایوان صدر کو بھجوایا جس میں کہا گیا کہ انسٹی ٹیوٹ کے فیکلٹی ممبران ،افسران اور سٹیک ہولڈرز کی جانب سے الزامات لگائے کہ پروفیسر حناطیبہ خلیل وائس چانسلر بد انتظامی اور اختیارات کے غلط استعمال کی پریکٹس میں ملوث ہیں۔
انسٹی ٹیوٹ کی پروکیورمنٹ اور مالی معاملات میں بے ضابطگیوں سمیت انسٹی ٹیوٹ میں گورننس کے بدترین صورتحال ہے، اس کے علاوہ گرلز ہاسٹل کی تعمیر سے متعلق 450 ملین کے ٹینڈرز میں مبینہ بے ضابطگیاں بھی ہوئی ہیں۔
ایوان صدر نے سینیٹر بشری انجم بٹ کی جانب سے بھجوائے گئے ریفرنس پر اپنی سفارشات وزارت تعلیم کو بھجوا دی ہیں،
وزارت تعلیم کے ذرائع نے سینیٹ اجلاس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایوان صدر کی ہدایات کی روشنی میں سینئر فیکلٹی ممبر کو ہی قائمقام وائس چانسلر پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن تعینات کیا جائے گا اور اس حوالے سے سنیارٹی لسٹ منگوا لی گئی ہے،