احمد آباد طیارہ حادثے میں جان گنوانے والوں میں کیرالہ کی 42 سالہ رنجیتھا گوپا کمارن بھی شامل ہیں جو برطانیہ میں بطور نرس کام کر رہی تھیں۔

یہ بھی پڑھیں: احمد آباد طیارہ حادثہ، بھارتی تاریخ کے بدترین فضائی سانحات میں المناک اضافہ

انڈین ایکسپریس کے مطابق کیرالہ کے ضلعے پٹھانمتھیٹا کے کلکٹر پریم کرشنن ایس نے بتایا کہ رنجیتھا اسی بدقسمت پرواز پر تھیں اور اب ان کی موت کی تصدیق ہوچکی ہے۔

رنجیتھا برطانیہ میں بطور نرس کام کر رہی تھیں اور وہ پلاد گاؤں کی رہائشی تھیں۔ ان کے پسماندگان میں شوہر، 2 چھوٹے بچے والدہ شامل ہیں۔

پنچایت ممبر جانسن تھامس کے مطابق رنجیتھا 3 دن پہلے برطانیہ سے گھر آئی تھیں۔ وہ ایک مختصر چھٹی لے کر آئی تھیں تاکہ شوہر و بچوں سے مل سکیں اور اپنے نئے گھر کی تعمیر کا جائزہ بھی لے سکیں۔

مزید پڑھیے: احمد آباد طیارہ حادثہ: سابق وزیراعلیٰ وجئے روپانی بیٹی سے ملنے لندن جارہے تھے

برطانیہ جانے سے پہلے رنجیتھا نے عمان میں 8 سال تک بطور نرس کام کیا تھا اور ان کے شوہر بھی عمان میں تھے لیکن بعد میں کیرالہ واپس آگئے تھے جب کہ وہ خود برطانیہ چلی گئی تھیں۔

بدھ کے روز رنجیتھا گھر سے ٹرین کے ذریعے کوچی کے لیے روانہ ہوئیں جہاں سے وہ لندن کی فلائٹ پکڑنے کے لیے احمد آباد پہنچیں۔

مزید پڑھیں: ایئر انڈیا کا طیارہ پرواز بھرتے ہی کریش کرگیا، سابق وزیراعلیٰ گجرات سمیت تمام 242 مسافر ہلاک

ایئر انڈیا کا طیارہ جس میں 242 افراد سوار تھے جمعرات کی سہ پہر کو ٹیک آف کے چند منٹ بعد احمد آباد ہوائی اڈے کے قریب ایک رہائشی علاقے میں گر کر تباہ ہوا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

احمدآباد طیارہ حادثہ ایئر انڈیا حادثہ بھارتی نرس.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: احمدا باد طیارہ حادثہ ایئر انڈیا حادثہ بھارتی نرس ایئر انڈیا

پڑھیں:

سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں

سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں کے جنگلات میں لگنے والی حالیہ بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں۔

سپارکو کی جانب سے پر جاری کردہ سیٹلائٹ ڈیٹا کے مطابق گرمی کی حالیہ شدید لہر کے باعث جنگلات میں لگنے والی ہولناک آگ نے پنجاب کے ماحولیاتی لحاظ سے حساس علاقے 'کوٹلی ستیاں' کے 25 مقامات پر پھیلے ہوئے تقریباً 3,037 ہیکٹر (7,504.7 ایکڑ) پر مشتمل قدرتی جنگلات کو خاکستر کر دیا ہے۔

9 مئی سے 29 مئی 2026 تک کی سیٹلائٹ تصاویر کا موازنہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آگ لگنے کے بعد 'چِیڑ' کے جنگلات کو شدید نقصان پہنچا ہے، جو کہ دریائے سندھ اور دریائے جہلم کے اہم ذیلی آبی ذخائر کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس کے ماحولیاتی اثرات صرف آگ سے جھلسنے والے فوری نقصانات تک محدود نہیں ہیں؛ بلکہ اس آفت نے مقامی پرندوں اور جنگلی حیات کی افزائشِ نسل کے عروج کے سیزن کو شدید متاثر کیا ہے۔

نئے اگنے والے پودوں اور پنیریوں کو تباہ کر دیا ہے، اور اس متاثرہ زمین پر ایسی جڑی بوٹیوں اور جھاڑیوں کے پھیلنے کی راہ ہموار کر دی ہے جو آگ کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

اگرچہ مقامی آبادی اور محکمہ جنگلات کے عملے نے کئی علاقوں میں آگ پر کامیابی سے قابو پا لیا ہے، لیکن تیز اور گرم ہواؤں کے باعث ہمسایہ ڈھلوانوں پر اب بھی آگ پھیل رہی ہے، جس سے ماحول کو مزید نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔

متعلقہ مضامین

  • اٹلی میں 10500 پاکستانیوں کو لیبر موبیلیٹی معاہدے کے تحت روزگار مواقع ملیں گے, اطالوی سفیر
  • پہلی ہی گیند پر وکٹ: شاہین آفریدی پاکستان کے عظیم کپتانوں کی فہرست میں شامل
  • پنکی ڈرگ والی پر ڈرامہ بنانےکا اعلان کیا گیا، اس موضوع پر فلم بننی چاہیے تھی، عظمیٰ بخاری
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے کی کوشش ناکام، 2 خواتین آف لوڈ، ایجنٹس گرفتار
  • شانگلہ: مکان کی چھت گرگئی، 6بچے جاں بحق
  • طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ
  • سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں
  • کراچی: نجی ایئر لائن کی حج پرواز جدہ سے 15 گھنٹے کی تاخیر سے پہنچ گئی
  • بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم