یاسمین راشد اورعمر سرفراز چیمہ کی ضمانت پر سماعت سے متعلق اہم پیشرفت
اشاعت کی تاریخ: 12th, June 2025 GMT
ڈاکٹر یاسمین راشد کی دو جبکہ عمر سرفراز چیمہ کی 4مقدمات میں بعداز گرفتاری ضمانت پر سماعت 16جون تک ملتوی کردی گئی۔
تفصیلات کے مطابق انسداد دہشتگردی عدالت میں 9مئی مقدمات میں گرفتاری ڈاکٹر یاسمین راشد اور عمر سرفراز چیمہ کی ضمانت کی درخواستوں پر سماعت ہوئی،انسداد دہشتگردی عدالت کے ایڈمن جج منظر علی گل نے سماعت کی،پراسکیوشن کے دو گواہان نے ملزمان کیخلاف شہادت قلمبند کرائی،فریقین نے ضمانت پر دلائل کیلئے مہلت طلب کی،عدالت نے آئندہ سماعت پر ضمانت کی درخواست پر دلائل طلب کر لئے۔
دوران سماعت شور ڈالنے پر عدالت کی جانب سے سابق گورنر عمر چیمہ کی سرزنش کی گئی، عدالت نے تنبیہ کرتے ہوئے کہاکہ آئندہ ایسی حرکت برداشت نہیں کی جائے گی۔
ڈاکٹریاسمین راشد کی بعد از گرفتاری ضمانت پر سماعت 16 جون تک ملتوی کر دی گئی جبکہ دوسرے مقدمہ میں 14 جون کو فریقین دلائل مکمل کریں گے ،عدالت نے پراسیکیوشن سے بھی ضمانت پر دلائل طلب کر لئے۔تھانہ شادمان نذر آتش کیس میں جیل ٹرائل کی کاروائی 16 جون دیگر تین مقدمات کی سماعت 17 جون تک ملتوی کر دی گئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: چیمہ کی
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔