نوجوان تشدد کیس: ملزم کو آسانی سے ضمانت نہیں دی جاسکتی، سندھ ہائیکورٹ
اشاعت کی تاریخ: 12th, June 2025 GMT
سندھ ہائی کورٹ نے ڈیفنس میں نوجوان پر تشدد کرنے کیخلاف مقدمے میں ملزم سلمان فاروقی اور اویس ہاشمی کی درخواست ضمانت پر فریقین کو نوٹس جاری کردیئے۔
ہائیکورٹ میں ڈیفنس میں نوجوان پر تشدد کرنے کیخلاف مقدمے میں ملزم سلمان فاروقی اور اویس ہاشمی کی درخواست ضمانت کی سماعت ہوئی۔
درخواست گزار کے وکیل نعیم قریشی نے موقف دیا کہ جس پر تشدد ہوا، اس نے بیان دیا ہے کہ وہ معاف کرتا ہے لیکن وہ دیکھا نہیں گیا۔
عدالت نے ریمارکس دیئے کہ اس مقدمے میں جو دفعات ہیں، اس میں بہت آسانی سے تو ضمانت نہیں دی جاسکتی۔
عدالت فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے پراسیکیوٹر جنرل کو آئندہ سماعت پر جواب دینے کی ہدایت کردی۔
عدالت نے سماعت 19 جون کے لئیے ملتوی کردی، استغاثہ کے مطابق ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج جنوبی نے 5 جون کو ملزموں کی درخواست ضمانت مسترد کردی تھی۔
ملزمان کیخلاف عینی شاہد کی مدعیت میں گزری تھانے میں مقدمہ درج ہے۔ ملزمان پر ڈیفنس میں نوجوان پر تشدد دھمکیاں دینے اور عورت کی تذلیل کے الزامات ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ، خاتون کو دوسرے شوہر کے ساتھ جانے کی اجازت
لاہور ہائیکورٹ(Lahore High Court) نے ایک حبسِ بے جا سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران اہم فیصلہ دیتے ہوئے خاتون کو اپنے دوسرے شوہر کے ساتھ جانے کی اجازت دے دی، جس کے بعد عدالت کے باہر جذباتی اور افسوسناک مناظر دیکھنے میں آئے۔
تفصیلات کے مطابق درخواست گزار غلام حسین نے عدالت سے رجوع کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا کہ ان کی اہلیہ شبنم بی بی کو ان کے سابق شوہر اور اہلِ خانہ نے غیر قانونی طور پر اپنی تحویل میں رکھا ہوا ہے۔ درخواست میں استدعا کی گئی کہ عدالت خاتون کو بازیاب کرا کر انہیں ان کے ساتھ رہنے کی اجازت دے۔
سماعت کے دوران شبنم بی بی عدالت کے روبرو پیش ہوئیں اور اپنا بیان ریکارڈ کرایا۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ وہ غلام حسین سے نکاح کر چکی ہیں اور اپنی مرضی سے ان کے ساتھ رہنا چاہتی ہیں۔ عدالت نے خاتون کے اس بیان اور قانونی نکات کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں اپنے شوہر کے ساتھ جانے کی اجازت دے دی۔
مزیدپڑھیں:سمندری تجارت میں بہتری، کراچی اور گوادر بندرگاہوں کی اہمیت مزید بڑھ گئی
عدالتی فیصلے کے فوراً بعد عدالت کے احاطے میں صورتحال جذباتی ہو گئی۔ شبنم بی بی کی پہلی شادی سے ہونے والی آٹھ بیٹیاں شدید رنج و غم میں مبتلا ہو گئیں اور دھاڑیں مار کر روتی رہیں۔ اس موقع پر وہاں موجود افراد بھی افسردہ نظر آئے۔
بیٹیوں میں سے ایک نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کی والدہ نے عدالت میں انہیں پہچاننے سے انکار کر دیا اور اپنے نئے شوہر کے حق میں بیان دیا۔ ان کے مطابق یہ فیصلہ ان کے لیے شدید صدمے کا باعث بنا ہے۔
عدالتی حکم کے بعد شبنم بی بی اپنے دوسرے شوہر غلام حسین کے ہمراہ وہاں سے روانہ ہو گئیں، جبکہ متاثرہ خاندان کی جانب سے اس فیصلے پر شدید جذباتی ردعمل سامنے آیا ہے۔
یہ واقعہ سوشل میڈیا پر بھی زیر بحث ہے، جہاں صارفین کی جانب سے مختلف آراء کا اظہار کیا جا رہا ہے اور خاندانی معاملات، عدالتی فیصلوں اور جذباتی اثرات پر بحث جاری ہے۔
https://mnews.pk/wp-content/uploads/2026/06/crying.mp4