نوجوان پر تشدد کا معاملہ: سندھ ہائیکورٹ نے ملزمان کی ضمانت کی درخواست پر پروسیکیوٹر جنرل کو نوٹس جاری
اشاعت کی تاریخ: 12th, June 2025 GMT
کراچی کے پوش علاقے ڈیفنس میں ایک نوجوان پر مبینہ تشدد کے کیس میں گرفتار ملزمان سلمان فاروقی اور اویس ہاشمی کی جانب سے سندھ ہائیکورٹ میں ضمانت کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے پروسیکیوٹر جنرل سندھ کو 16 جون کے لیے نوٹس جاری کر دیا ہے۔
سماعت کے دوران متاثرہ نوجوان سدھیر خود بھی عدالت میں پیش ہوا، ملزمان کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کے مؤکلوں کے خلاف جو دفعات لگائی گئی ہیں وہ قابلِ ضمانت ہیں، اور متاثرہ نوجوان کو بھی ان کی ضمانت پر کوئی اعتراض نہیں۔
یہ بھی پڑھیں:
ملزمان کی استدعا پر سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس عمر سیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ صبر کریں، پہلے ہم نوٹس کریں گے۔
یہ واقعہ کراچی کے پوش علاقے ڈیفنس میں پیش آیا تھا، جہاں ایک نوجوان پر مبینہ طور پر تشدد کیا گیا۔ واقعے کے بعد پولیس نے تھانہ گزری میں مقدمہ درج کرتے ہوئے دونوں ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا۔
مزید پڑھیں:
کراچی کی سیشن کورٹ نے عید سے قبل ملزمان کی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی تھی، جس کے بعد ملزمان کی جانب سے سندھ ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی گئی تھی، سندھ ہائیکورٹ نے کیس کی مزید سماعت کے لیے پروسیکیوٹر جنرل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت 16 جون تک ملتوی کردی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اویس ہاشمی پروسیکیوٹر جنرل سدھیر سلمان فاروقی سندھ ہائیکورٹ سیشن کورٹ ضمانت کراچی نوٹس.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اویس ہاشمی پروسیکیوٹر جنرل سدھیر سلمان فاروقی سندھ ہائیکورٹ سیشن کورٹ کراچی نوٹس پروسیکیوٹر جنرل سندھ ہائیکورٹ ملزمان کی
پڑھیں:
بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی جانب سے بھارت کو مؤثر جواب دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارت خود امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ۔
قرارداد 2788 کے تناظر میں تنازعات کے پرامن حل پر مباحثے کے دوران پاکستان مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حق جواب میں کہا کہ ایک وفد نے تنازعات کے پُرامن حل پر ہونے والی بحث کو حقائق مسخ کرنے، انکار اور بے بنیاد الزامات کے ذریعے متاثر کرنے کی کوشش کی۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
پاکستانی مندوب برائے اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر نہ بھارت کا نام نہاد اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ؛ بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ بھارت خود جموں و کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل میں لے کر آیا تھا، مگر آج اسی کونسل کی قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے۔ قراردادوں کی کوئی میعاد ختم نہیں ہوتی۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔ ایک طرف سیاسی آزادی ہے، دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔ کشمیری عوام کے ناقابل تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور سے بے اعتنائی کا مظہر ہے۔
پاکستانی مندوب نے حق جواب میں کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔ ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدامات علاقائی امن کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کا سب سے بڑا متاثرہ ملک ہے؛ ہزاروں بے گناہ شہریوں کی قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جدوجہد حقیقی ہے۔
قونصلر صائمہ سلیم کا کہنا تھا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک علاقائی حدود سے نکل کر عالمی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ کلبھوشن یادیو کیس اس کا ایک واضح ثبوت ہے۔ بھارت میں ہندوتوا پر مبنی انتہا پسند نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی کا رنگ دے دیا ہے، جبکہ اقلیتیں امتیازی سلوک اور جبر کا سامنا کر رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اشتعال انگیزی اور جارحیت کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا راستہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پُرامن حل کو ترجیح دی۔ جنوبی ایشیا میں امن کا راستہ انکار یا ہٹ دھرمی نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری سے ہو کر گزرتا ہے۔
پاکستانی مندوب نے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے معاہداتی وعدے پورے کرے اور جموں و کشمیر تنازع کے پُرامن حل کے لیے سنجیدہ کردار ادا کرے۔