کراچی کے پوش علاقے ڈیفنس میں ایک نوجوان پر مبینہ تشدد کے کیس میں گرفتار ملزمان سلمان فاروقی اور اویس ہاشمی کی جانب سے سندھ ہائیکورٹ میں ضمانت کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے پروسیکیوٹر جنرل سندھ کو 16 جون کے لیے نوٹس جاری کر دیا ہے۔

سماعت کے دوران متاثرہ نوجوان سدھیر خود بھی عدالت میں پیش ہوا، ملزمان کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کے مؤکلوں کے خلاف جو دفعات لگائی گئی ہیں وہ قابلِ ضمانت ہیں، اور متاثرہ نوجوان کو بھی ان کی ضمانت پر کوئی اعتراض نہیں۔

یہ بھی پڑھیں:

ملزمان کی استدعا پر سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس عمر سیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ صبر کریں، پہلے ہم نوٹس کریں گے۔

یہ واقعہ کراچی کے پوش علاقے ڈیفنس میں پیش آیا تھا، جہاں ایک نوجوان پر مبینہ طور پر تشدد کیا گیا۔ واقعے کے بعد پولیس نے تھانہ گزری میں مقدمہ درج کرتے ہوئے دونوں ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا۔

مزید پڑھیں:

کراچی کی سیشن کورٹ نے عید سے قبل ملزمان کی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی تھی، جس کے بعد ملزمان کی جانب سے سندھ ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی گئی تھی، سندھ ہائیکورٹ نے کیس کی مزید سماعت کے لیے پروسیکیوٹر جنرل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت 16 جون تک ملتوی کردی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اویس ہاشمی پروسیکیوٹر جنرل سدھیر سلمان فاروقی سندھ ہائیکورٹ سیشن کورٹ ضمانت کراچی نوٹس.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اویس ہاشمی پروسیکیوٹر جنرل سدھیر سلمان فاروقی سندھ ہائیکورٹ سیشن کورٹ کراچی نوٹس پروسیکیوٹر جنرل سندھ ہائیکورٹ ملزمان کی

پڑھیں:

سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان

مزمل حسین ہالیپوٹو کی نااہلی کے باعث کراچی کا بنیادی ڈھانچہ شدید دباؤ کا شکار
پی ای سی ایچ ایس بلاک 2میں رہائشی پلاٹ پر کمرشل یونٹس تعمیر، آصف شیخ ملوث

شہر قائد میں رہائشی علاقوں میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے ، جس کے باعث شہر کا بنیادی ڈھانچہ شدید متاثر ہو رہا ہے ۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل مزمل حسین ہالیپوٹو کی ناقص نگرانی اور انتظامی کمزوریوں کے سبب رہائشی پلاٹوں پر کمرشل پورشن اور یونٹس کی تعمیرات میں مسلسل دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے ۔تازہ معاملہ پی ای سی ایچ ایس بلاک 2کے پلاٹ نمبر 40-K/40Mکا سامنے آیا ہے ، جہاں مقامی ذرائع کے مطابق رہائشی حیثیت رکھنے والی اراضی پر کمرشل سرگرمیوں اور یونٹس کے قیام کے ذریعے مبینہ طور پر قبضے کیے گئے ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ تمام سرگرمیاں آصف شیخ کی سربراہی میں انجام دی جا رہی ہیں، جبکہ متعلقہ ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔شہریوں اور سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ غیر قانونی تعمیرات اور کمرشلائزیشن کے خلاف فوری کارروائی کی جائے ، ذمہ دار افسران کا احتساب کیا جائے اور کراچی کے متاثرہ انفراسٹرکچر کو مزید نقصان سے بچانے کے لیے مؤثر اقدامات اٹھائے جائیں۔

متعلقہ مضامین

  • سپریم کورٹ نے نشے کی حالت کو بنیاد بناکر مجرم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی درخواست مسترد کر دی
  • کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں پولیس مقابلے، 6 زخمیوں سمیت 9 ڈاکو گرفتار
  • سندھ میں مٹی کے طوفان نے تباہی مچا دی، 46 گرڈ اسٹیشن بند، درجنوں شہر اندھیرے میں ڈوب گئے
  • کراچی میں فائرنگ سے باپ اور نوجوان بیٹا جاں بحق
  • بجلی کی قیمت میں ایک روپے 72 پیسے اضافے کا امکان
  • سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
  • راولپنڈی: 1300 روپے کیلئے 2 نوجوان قتل، 7 ملزمان گرفتار