لاہور (نوائے وقت رپورٹ) وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے شرجیل میمن کے بیان پر ردعمل میں کہا ہے کہ مریم نواز پاکستان کی تاریخ کی پہلی خاتون وزیراعلیٰ پنجاب منتخب ہوئی ہیں اور یہ قوم کے لیے ایک فخر کا مقام ہے۔ "مریم نواز نے عاجزی اور خدمت کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنایا ہے اور یہی ان کی مقبولیت کی اصل وجہ ہے۔ ان کی قیادت اور طرز حکمرانی نے نہ صرف پنجاب بلکہ سندھ کے عوام کو بھی متاثر کیا ہے۔ "آپ کا اصل مسئلہ یہی ہے کہ سندھ کے لوگ بھی اب مریم نواز کے وژن کے دیوانے ہو رہے ہیں۔ "متکبر اور غرور سے بھرے وہی لوگ ہیں جو اقتدار میں دو یا تین مرتبہ آ چکے ہیں لیکن کارکردگی صفر رہی ہے۔ "مریم نواز سے کارکردگی میں مقابلہ کریں، بیان بازی، جلن اور تنقید سے کچھ حاصل نہیں ہو  گا۔ اگر واقعی سندھ میں اچھا سسٹم لے آئے ہیں تو کم از کم کراچی کا کوڑا تو اٹھا لیں۔"وزیر اطلاعات پنجاب نے واضح کیا کہ "پنجاب کی فکر کرنے کے لیے یہاں کے وارث موجود ہیں، سندھ میں بیٹھے متکبر لوگوں کو پہلے اپنے عوام کی حالت پر رحم کھانا چاہیے۔ مسلم لیگ (ن) نے ماضی میں بھی پنجاب میں مضبوط بلدیاتی نظام قائم کیا تھا اور انشاء اللہ اب بھی ایک مؤثر نظام لایا جائے گا۔ جن جماعتوں کو پنجاب کے حلقوں سے صرف 400 اور یونین کونسلز سے محض 50 ووٹ ملے، ان کا اصل امتحان ابھی باقی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: مریم نواز

پڑھیں:

کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا

کراچی میں ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا۔

میئر کراچی نے وفاقی وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس سے پلاٹ نمبر 39-G-4 کا مکمل ریکارڈ طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ 1959 کے اصل منظور شدہ پی ای سی ایچ ایس ماسٹر پلان میں پلاٹ نمبر 39-G-4 موجود نہیں تھا۔

مرتضیٰ وہاب کے مطابق ابتدائی جانچ میں متنازع مقام پر پانچ سو گز کا پلاٹ اصل منظور شدہ لے آؤٹ میں ظاہر نہیں ہوتا، جبکہ اصل ماسٹر پلان کے مطابق مذکورہ مقام پر صرف تقریباً دو سو گز بقایا اراضی بنتی ہے۔

یئر کراچی نے سوال اٹھایا کہ پانچ سو گز کا پلاٹ کس قانونی بنیاد پر ظاہر کیا گیا، متعلقہ حکام اس کی وضاحت فراہم کریں۔

خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ پلاٹ کے تمام ٹائٹل دستاویزات، الاٹمنٹ آرڈرز، لیز، میوٹیشن ریکارڈ، اصل اور نظرثانی شدہ لے آؤٹ پلانز سمیت تمام تبدیلیوں کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔

میئر کراچی نے پلاٹ کی ملکیت، الاٹمنٹ ہسٹری، سروے تفصیلات، حدبندی کارروائی، ریگولرائزیشن، تبادلے، انضمام، سب ڈویژن یا ریکنسٹیٹیوشن سے متعلق تمام ریکارڈ بھی طلب کیا ہے۔

مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ ہل پارک سے متصل اراضی عوامی زمین میں شامل تھی یا نہیں، اس کی وضاحت بھی کی جائے، جبکہ ہل پارک، اوپن اسپیس، امنیٹی یا سرکاری زمین پر تجاوزات سے متعلق تفصیلات بھی فراہم کی جائیں۔

میئر کراچی کا کہنا ہے کہ عوامی مفاد اور بلدیاتی اثاثوں کے تحفظ کے لیے متنازع پلاٹ کی جامع تحقیقات ضروری ہیں اور ہل پارک سے متصل زمین کے تمام قانونی اور ملکیتی ریکارڈ کی فوری تصدیق کی جانی چاہیے۔

مرتضیٰ وہاب نے مطالبہ کیا کہ متنازع پلاٹ سے متعلق تمام حقائق اور دستاویزی شواہد فوری فراہم کیے جائیں، جبکہ کے ایم سی بلدیاتی اثاثوں اور عوامی سہولتوں کے تحفظ کے لیے قانون کے مطابق کارروائی کا حق محفوظ رکھتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سندھ، پنجاب اور کے پی کے مختلف شہروں میں بارش اور مٹی کا طوفان
  • پنکی ڈرگ والی پر ڈرامہ بنانےکا اعلان کیا گیا، اس موضوع پر فلم بننی چاہیے تھی، عظمیٰ بخاری
  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
  • کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
  • سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
  • چاہتا ہوں کرنسی سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دی جائے، شہزاد نواز نے ایسا کیوں کہا؟
  • کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
  • تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور