ایم ڈبلیو ایم جنوبی پنجاب کی ورکنگ کمیٹی کا پہلا آن لائن اجلاس، علامہ احمد اقبال رضوی اور اسد نقوی شریک
اشاعت کی تاریخ: 12th, June 2025 GMT
اجلاس میں صوبائی آرگنائزر مجلس وحدت مسلمین جنوبی پنجاب علامہ قاضی نادر حسین علوی، اراکین ورکنگ کمیٹی مولانا ساجد رضا اسدی، مولانا ثقلین نقوی، صفدر حسین خان، ثقلین نقوی، احسان حیدر، محمد علی زیدی، سید ندیم عباس کاظمی نے شرکت کی۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین جنوبی پنجاب کی ورکنگ کمیٹی کا پہلا آن لائن اجلاس مرکزی وائس چیئرمین علامہ سید احمد اقبال رضوی کی زیرصدارت منعقد ہوا، اجلاس میں مرکزی سیکرٹری سیاسیات سید اسد عباس نقوی نے خصوصی طور پر شرکت کی۔ اجلاس میں صوبائی آرگنائزر مجلس وحدت مسلمین جنوبی پنجاب علامہ قاضی نادر حسین علوی، اراکین ورکنگ کمیٹی مولانا ساجد رضا اسدی، مولانا ثقلین نقوی، صفدر حسین خان، ثقلین نقوی، احسان حیدر، علی رضا زیدی، سید ندیم عباس کاظمی نے شرکت کی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایم ڈبلیو ایم کے مرکزی وائس چیئرمین علامہ سید احمد اقبال رضو ی نے کہا کہ تنظیمی فعالیت کو مدنظر رکھتے ہوئے چھوٹے یونٹس بنائے جا رہے ہیں تاکہ کام میں آسانی پیدا ہو۔
اُنہوں نے کہا کہ جنوبی پنجاب میں تنظیم سازی کی مزید ضرورت ہے، جنوبی پنجاب کی تمام تحصیلوں اور اضلاع میں ازسر نو تنظیم سازی شروع کی جائے، محرم الحرام کے دوران عزادارو کے مسائل حل کیے جائیں، اس موقع پر سید اسد عباس نقوی نے کہا کہ مجلس وحدت مسلمین مظلومین جہاں کی آواز ہے، ہمیں مظلومین کی طاقت بننا ہے۔ صوبائی آرگنائزر علامہ قاضی حسین علوی نے کہا کہ مرکز کی ہدایت پر بہت جلد تنظیم سازی کا آغاز کرنے جا رہے ہیں، تمام تحصیلوں اور اضلاع کو مضبوط بنائیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔
منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔
میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔
یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔
برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔
مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں
مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔