Express News:
2026-07-24@09:01:43 GMT

کب کوئی بلا صرف دُعاؤں سے ٹلی ہے

اشاعت کی تاریخ: 13th, June 2025 GMT

ماشاء اللہ، الحمد للہ ،5جون2025 کو حج اپنے اختتام کو پہنچ گیا ۔اِس بار عالمِ اسلام کے تقریباً پونے 17لاکھ خوش نصیب مسلمانوں نے فریضۂ حج کا عظیم المرتبت شرف حاصل کیا ہے ۔ایں سعادت بزورِ بازُو نیست، تانہ بخشد خدائے بخشندہ! تقریباً1.7ملین حجاج کرام کو ہر قسم کی اعانت و خدمت فراہم کرنا کوئی معمولی کارنامہ نہیں ہے۔

یوں خادم الحرمین الشریفین، سعودی عرب کے جملہ حکام اور حج انتظامات پر مامور ہر سعودی ذمے دار کو بھرپور شاباش دینی چاہیے ۔ہم سب کی طرف سے نئے حاجیوں کو تہنیت ۔ تازہ ترین حج کے عظیم الشان موقع پر خطبہ حج سعودی عرب کے ممتاز و مکرم اسکالر ، شیخ ڈاکٹر صالح بن عبداللہ الحمید، نے دیا ہے ۔ ڈاکٹر صالح بن عبداللہ صاحب کعبہ شریف کے9معزز و محترم اماموں میں سے ایک ہیں ۔ ڈاکٹر صالح صاحب کو یہ بھی منفرد مقام و اعزاز حاصل ہے کہ آپ خانہ کعبہ کے پہلے اور اوّلین امام ہیں جو پی ایچ ڈی ہیں ۔

بتایا گیا ہے کہ ڈاکٹر صالح صاحب کا دیا گیا خطبہ حج دُنیا کی تقریباً35مختلف  زبانوں میں نشر کیا گیا ۔ راقم نے شیخ صالح صاحب کا خطبہ حج سُنا بھی ہے اور اِس کی رپورٹنگ بھی پڑھی ہے۔ خطبے میںدیگر کئی باتوں ، نصائح اور دعاؤں میں مسئلہ فلسطین ، فلسطینیوں کے دکھوں اور مظلوم و مقہور اہلِ غزہ کا ذکر بھی سنائی دیا ۔ ڈاکٹر صالح بن عبداللہ نے مسجدِ نمرہ میں فرمایا:’’ اے اللہ، فلسطینی بھائیوں کو دشمن پر غلبہ عطا فرما۔ اے اللہ ، فلسطین اور فلسطینیوں کا خیال رکھ ۔اے اللہ ، فلسطینیوں کی بھوک، مصائب اور تکالیف کا خاتمہ فرما۔ بے گھر فلسطینیوں کو آسرا عطا فرما۔ یااللہ،اہلِ فلسطین (غزہ) کو امن کی نعمت سے سرفراز فرما اور اُنہیں اُن کے دشمنوں کے شر سے محفوظ فرما۔‘‘

شیخ ڈاکٹر صالح بن عبداللہ صاحب کا خصوصی شکریہ کہ جناب نے پونے17لاکھ کے عظیم اجتماع سے خطاب کرتے ہُوئے مظلوم و مقہور اور صہیونی اسرائیل کے زیر تعذیب فلسطینیوں کے لیے دعائیں فرمائیں۔ اللہ تعالیٰ قبول فرمائے۔ آمین ۔ ڈاکٹر صالح صاحب کا پیغام معلوم دُنیا تک پہنچا ہے کہ معلوم دُنیا کے کونے کونے سے حاجی صاحبان سعودی عرب تشریف لائے۔ سب کے کانوں میں مظلوم فلسطینیوں کے لیے کیے گئے دعائیہ کلمات پہنچ گئے ۔

راقم کے لیے مگر حیرانی کی بات ہے کہ الشیخ نے اپنی دعا میں فلسطین کے ’’دشمن‘‘ اور ’’دشمنوں‘‘ کا ذکر تو کیا مگر ’’دشمن‘‘ کا نام لینے سے گریز فرمایا۔ سچ تو یہ ہے کہ مظلوم فلسطینی اور عالمِ اسلام کے باسی فلسطینیوں کے ’’دشمن‘‘ اور فلسطینیوں پر لامتناہی مظالم ڈھانے اور اب تک55ہزار سے زائد فلسطینیوں کو شہید کرنے اور ’’غزہ‘‘ کو کھنڈرات بنانے والی ظالم قوت (اسرائیل) کے خلاف کچھ مزید طاقتور الفاظ سننے کے منتظر تھے ۔

دعاؤں سے اگر مسائل و مصائب حل ہو سکتے تو اب تک مسئلہ کشمیر اور مسئلہ فلسطین حل ہو چکے ہوتے کہ پچھلے75برسوں سے مسلمانانِ عالم اِن دونوں مسائل کے حل بارے مسلسل دعائیں مانگ رہے ہیں ۔ دعائیں مگر مستجاب نہیں ہو رہیں ۔ مشہور سیاستدان، نوابزادہ نصراللہ خان مرحوم ، نے برسوں قبل اپنی ایک مشہور غزل میں ٹھیک ہی تو کہا تھا:کب اشک بہانے سے کٹی ہے شبِ ہجراں/ کب کوئی بلا صرف دعاؤں سے ٹلی ہے!

آج ساری دُنیا کے عوام ، بِلا رنگ و نسل و زبان، مظلوم فلسطینیوں کے حق میں اور غاصب و ظالم صہیونی اسرائیل کے خلاف آواز اُٹھا رہے ہیں ۔ اُن ممالک کے عوام اِس ضمن میں زیادہ بلند آواز سے اسرائیل کے خلاف احتجاج کناں ہیں جن ممالک کے بے حس اور اسرائیل نواز حکمران اسرائیل کو اسلحہ بھی فراہم کر رہے ہیں اور مالی امداد بھی۔5جون 2025 کو جس وقت مسجدِ نمرہ میں خطبہ حج میں مظلوم و مصلوب اہلِ فلسطین کے لیے دعائیں کی جارہی تھیں ، عین اُسی تاریخ کو اور اُسی وقت نیویارک میں اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل ، جناب انتونو گوتریس، سعودی عرب کے مشہور انگریزی اخبار ( عرب نیوز) کےEphrem Kossaify کو مفصل انٹرویو دیتے ہُوئے کہہ رہے تھے :’’عالمی برادری کا بنیادی فرض ہے کہ وہ اپنے جملہ وسائل کو بروئے کار لاتے ہُوئے اسرائیل اور فلسطین میں جاری محاربے کو فوری ختم کرنے کی کوئی فوری اور مستقل سبیل نکالیں ۔ ساتھ ہی دو ریاستی حل کی طرف بڑھنے کی بھی ضرورت ہے۔

ہم جاری ایام میں غزہ اور مغربی کنارے میں دل دہلا دینے والے جو خونریز مناظر دیکھ رہے ہیں،یہ اِس امر کے متقاضی ہیں کہ دو ریاستی فارمولے اور حل کی ضرورت کو ہر حال میں زندہ رکھا جائے۔ اور جو لوگ دو ریاستی حل بارے شبہات کا شکار ہیں ، مَیں اُن سے پوچھتا ہُوں : تو پھر اِس کا متبادل کیا ہے ؟کیا یک ریاستی حل یہ ہے کہ فلسطینیوں کو غزہ اور مغربی کنارے سے بزورِ طاقت نکال دیا جائے ؟یا کیا فلسطینیوں کو اُن کی اپنی سرزمین پر ، کوئی بھی حق دیے بغیر، زیر استبداد رہنے دیا جائے؟ میرے لیے یہ ناقابلِ قبول ہے۔ بالکل ناقابلِ قبول!۔‘‘

جس واضح اور غیر مبہم اسلوب میں جناب انتونیو گوتریس نے مظلوم اہلِ مغربی کنارہ اور مقہور اہلِ غزہ کی حمائت میں بیان دیا ہے، اے کاش ہمارے طاقتور اور صاحبانِ ثروت مسلمان حکمرانوں کو بھی ایسی ہمت اور توفیق ملتی۔ اے کاش!لیکن شائد صہیونی و غاصب اسرائیل کے دستِ قاتل کو ہمت سے جھٹک دینے کی توفیق ہمارے کسی مسلم حکمران کو کبھی نہیں ملے گی۔

فلسطین کے چاروں اطراف میں بسنے والے مشہور اور قدیم مسلمان ممالک ( مصر ، اُردن ، شام)اور ان کے حکمران ( جو اہلِ فلسطین کے ہم لسان بھی ہیں، اُن کے ہم مذہب بھی ہیں اور ہم ثقافت بھی) مظلوم فلسطینیوں کی کسی بھی قسم کی امداد و اعانت کرنے سے صاف انکاری ہیں۔ ہمسایہ ہونے کے باوجود غزہ کے بچوں کو خوراک فراہم کرنے پر تیار ہیں نہ اُنہیں طبّی امدار دینے کے لیے راضی ۔ غزہ قحط زدہ ہو چکا ہے ، مگر کوئی ہمسایہ مسلمان (اسرائیل کے ڈر سے) براہِ راست اہلِ غزہ کو روٹی کا ایک لقمہ دینے سے بھی منکر ہے ۔

مظلوم فلسطین کے ہمسایہ میں بسنے والے عسکری طور پر کمزور مسلمان حکمرانوں اور بحیثیتِ مجموعی عالمِ اسلام کی بے حسی کو دیکھتے ہُوئے ہی امریکا مظلوم فلسطینیوں کے خلاف شیر بن رہا ہے اور آگے بڑھ چڑھ کر قاہر و جابر اسرائیل کی ہر ممکنہ امداد بھی کررہا ہے۔ یہ یہیں تک محدود نہیں بلکہ اہلِ غزہ کا مزید ناطقہ بند کرنے اور فلسطینیوں پر مزید عرصئہ حیات تنگ کرنے کے لیے اہلِ غزہ کے خلاف ویٹو کی ہلاکت خیز طاقت بھی استعمال کررہا ہے ۔ اور عالمِ اسلام کے حکمران ٹک ٹک دیدم ، دَم نہ کشیدم کی عملی تصویر بنے بیٹھے ہیں ۔

اِس ضمن میں تازہ مثال جون2025کے پہلے ہفتے سامنے آئی ہے ۔ فلسطینیوں کے حق میں پیش کی گئی قرارداد ایسے لمحات میں امریکا نے ویٹو کی ہے جب غزہ میں ہر قسم کے انسانی، مالی و طبّی بحران عروج پر پہنچ چکے ہیں ۔اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے15ارکان میں سے14ارکان نے قرارداد کے حق میں یہ کہہ کر ووٹ دیا کہ ’’غزہ میں فوری طور پر جنگ بندی بھی کی جائے اور غزہ کے22لاکھ محصور فلسطینیوں کے لیے روکی گئی خوراکی امداد بھی کھولی جائے ۔‘‘ مگر اسرائیل نواز امریکا نے یہ کہہ کر اِس قرار داد کو ویٹو کی طاقت سے مسترد کر دیا کہ (1)اِس قرار داد میں 7اکتوبر 2023 کو جنوبی اسرائیل پر حماس کے حملے کی مذمت شامل نہیں ہے (2) قرار داد میں حماس کو غیر مسلح کرنے کی شق شامل کیوں نہیں کی گئی (3) غزہ کی پٹّی سے حماس کو نکال باہر کرنے کا ذکر نہیں کیا گیا ہے ۔

ساتھ ہی یو این میں امریکی سفیر ، ڈورتھی شیا، ( اور امریکی وزیر خارجہ ، مارکو روبیو) نے کہا ہے کہ ’’اگر ہم اِس قرار داد کو مان لیتے تو اِس کا مطلب یہ ہوتا کہ اسرائیل کے مقابل حماس کو تقویت پہنچائی گئی ہے ۔ ہم اِسی سے بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ غزہ اور مغربی کنارے کے مکین مظلوم فلسطینیوں کی ریلیف کے ، فی الحال، امکانات واضح نہیں ہیں ۔ عالمِ اسلام کے حکمران خاموش رہیں گے تو مظلوم فلسطینیوں کا یہی حال رہے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ڈاکٹر صالح بن عبداللہ مظلوم فلسطینیوں فلسطینیوں کے فلسطینیوں کو مظلوم فلسطین اسرائیل کے اور فلسطین فلسطین کے صالح صاحب اسلام کے رہے ہیں صاحب کا کے خلاف کے لیے

پڑھیں:

پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا

پاکستان کی جغرافیائی حیثیت محض ایک زمینی ریاست کی نہیں بلکہ ایک ایسے ملک کی ہے جس کے مفادات خشکی، سمندر اور خطے کی مجموعی سلامتی سے یکساں طور پر وابستہ ہیں۔ اسی لیے جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے شعلے بلند ہوتے ہیں تو ان کی تپش صرف جنگ میں شریک ممالک تک محدود نہیں رہتی بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی رسد، بحری راستوں، علاقائی معیشتوں اور سفارتی توازن کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔

آج بحیرہ احمر، باب المندب اور آبنائے ہرمز صرف آبی گزرگاہیں نہیں رہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی کشمکش، علاقائی رقابتوں اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کی حکمت عملی کا مرکز بن چکی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے اپنے بحری مفادات اور سعودی عرب کی سلامتی کے بارے میں دوٹوک اور واضح موقف اختیار کرنا نہ صرف ایک ذمے دار ریاست کی علامت ہے بلکہ یہ اس حقیقت کا اظہار بھی ہے کہ قومی سلامتی کی تعریف اب سرحدوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ سمندری راستے، تجارتی جہاز، بندرگاہیں اور توانائی کی سپلائی لائنیں بھی اسی قدر اہم قومی مفادات کا حصہ بن چکی ہیں۔

 پاکستان نے جس واضح انداز میں یہ اعلان کیا ہے کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں، بحری تنصیبات یا سمندری مفادات کے خلاف کسی بھی جارحیت کو قومی سلامتی کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا، وہ دراصل بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی توثیق بھی ہے اور قومی خودمختاری کے تحفظ کا منطقی اظہار بھی۔ دنیا کی کوئی بھی ذمے دار ریاست اپنی تجارت، بحری نقل و حمل اور اقتصادی شہ رگوں کو خطرات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتی۔

پاکستان کی بڑی بندرگاہیں، برآمدات، درآمدات اور توانائی کی ضروریات عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہیں، اس لیے ان راستوں میں پیدا ہونے والی بے یقینی براہِ راست قومی معیشت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کی جانب سے یہ واضح پیغام دینا کہ قومی بحری مفادات کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام کیا جائے گا، دراصل ایک فطری ریاستی ذمے داری ہے، نہ کہ محض سفارتی بیان۔

 بحیرہ احمر میں حوثی حملوں اور تجارتی جہازوں کو دی جانے والی دھمکیوں نے عالمی تجارت کو غیر معمولی اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ ماضی میں قزاقی کو سمندری تجارت کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا تھا، مگر اب منظم مسلح گروہ جدید میزائلوں، ڈرونز اور بحری حملوں کی صلاحیت کے ذریعے پوری عالمی سپلائی چین کو یرغمال بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اس صورتحال نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ غیر ریاستی عناصر بھی ایسے وسائل حاصل کر چکے ہیں جن کے ذریعے وہ عالمی معیشت پر ریاستوں سے کم اثر نہیں ڈال سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد آئل ٹینکروں نے اپنے راستے تبدیل کیے اور یورپی بحری اداروں نے بھی تجارتی جہازوں کو احتیاطی ہدایات جاری کیں، جو اس بحران کی سنگینی کا واضح ثبوت ہے۔

حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب سے وابستہ تجارتی سرگرمیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں صرف ایک ملک کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ بین الاقوامی تجارت کی آزادی پر حملہ ہیں۔ سمندری راستوں کی آزادی بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول ہے، جس پر عالمی تجارت کا پورا نظام قائم ہے، اگر کسی گروہ کو یہ حق دے دیا جائے کہ وہ سیاسی یا عسکری مقاصد کے لیے تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت روک دے تو پھر عالمی تجارت مسلسل خوف اور غیر یقینی کا شکار ہو جائے گی۔ پاکستان کی تشویش اسی تناظر میں نہایت برمحل ہے کیونکہ اس کی تجارت کا بڑا حصہ بھی انھی عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہے۔

 پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کر کے نہ صرف دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات کو مضبوط کیا ہے بلکہ ایک اصولی موقف بھی اختیار کیا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط اعتماد، مذہبی وابستگی، اقتصادی تعاون اور دفاعی اشتراک پر استوار ہیں۔ اس لیے اگر کسی بحران کے ذریعے سعودی عرب کو براہِ راست جنگ میں گھسیٹنے یا اس کے تجارتی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے تو پاکستان کا اس پر تشویش ظاہر کرنا ایک ذمے دار دوست اور شراکت دار ریاست کے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔

اس وقت اصل تشویش صرف بحیرہ احمر تک محدود نہیں رہی بلکہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی نے پورے خطے کو ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے مسلسل سخت بیانات، ایک دوسرے کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں اور فوجی کارروائیوں کا دائرہ وسیع ہونے کے امکانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگ اب محدود رہنے کے بجائے تدریجاً علاقائی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ جب عسکری کارروائیوں کا ہدف پل، بجلی گھر، توانائی کے مراکز اور دیگر شہری تنصیبات بن جائیں تو اس کے اثرات براہِ راست عام شہریوں پر مرتب ہوتے ہیں۔

اس تمام منظرنامے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ بین الاقوامی قانون اور سمندری ضابطوں کا احترام مسلسل کمزور پڑ رہا ہے، اگر بحری گزرگاہوں کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جانے لگا تو مستقبل میں دنیا کے دیگر حساس سمندری راستے بھی اسی نوعیت کے تنازعات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس لیے عالمی برادری کی ذمے داری ہے کہ وہ آزادی جہاز رانی، تجارتی تحفظ اور شہری بنیادی ڈھانچے کے احترام کو ہر حال میں یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کرے۔

پاکستان کے لیے موجودہ حالات ایک واضح پیغام رکھتے ہیں کہ بحری سلامتی کو قومی سلامتی کی حکمت عملی کا مزید مضبوط حصہ بنایا جائے۔ بحری افواج کی استعداد، ساحلی نگرانی، بندرگاہوں کی حفاظت، تجارتی جہازوں کی سیکیورٹی اور بین الاقوامی بحری تعاون کو مزید موثر بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ گوادر اور کراچی جیسے اہم بندرگاہی مراکز صرف قومی معیشت کے ستون نہیں بلکہ علاقائی تجارت کے اہم مراکز بھی ہیں، جن کا تحفظ ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔

اس بحران میں پاکستان کے لیے سفارتی توازن بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک جانب سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں تو دوسری جانب ایران ایک ہمسایہ اور اہم علاقائی ملک ہے۔ اس لیے پاکستان کا کردار اشتعال انگیزی میں اضافہ کرنے کے بجائے کشیدگی کم کرنے، رابطے بڑھانے اور مذاکرات کی حمایت کرنے کا ہونا چاہیے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی روایات، قومی مفادات اور علاقائی امن کے تقاضوں سے مطابقت رکھتا ہے۔

عالمی طاقتوں کو بھی یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ طاقت کے ذریعے حاصل ہونے والی کامیابیاں عارضی ہوتی ہیں، جب کہ ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والا عدم استحکام کئی دہائیوں تک برقرار رہ سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ پہلے ہی جنگوں، پابندیوں، پراکسی تنازعات اور بیرونی مداخلتوں کے باعث شدید نقصان اٹھا چکا ہے، اگر موجودہ کشیدگی کو بروقت نہ روکا گیا تو اس کے اثرات صرف جنگ میں شامل ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری عالمی معیشت، توانائی کے نظام اور بین الاقوامی امن کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔

پاکستان کا حالیہ موقف اسی لیے اہم ہے کہ اس میں اپنے قومی اور بحری مفادات کے تحفظ کا واضح اعلان بھی موجود ہے، سعودی عرب کی سلامتی کے ساتھ اصولی یکجہتی بھی اور بالواسطہ یہ پیغام بھی کہ سمندری راستوں کو جنگی حکمت ِ عملی کا ہدف بنانا کسی کے مفاد میں نہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اشتعال انگیز بیانات، عسکری دھمکیوں اور جوابی کارروائیوں کے بجائے سنجیدہ سفارت کاری، علاقائی مکالمے اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کو ترجیح دی جائے، اگر بنیادی ڈھانچے، توانائی کے مراکز، بحری راستوں اور تجارتی جہازوں کو جنگ کا مستقل ہدف بنا دیا گیا تو دنیا ایک ایسے بحران میں داخل ہو سکتی ہے جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ امن صرف جنگ نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ ایسا بین الاقوامی نظم ہے جس میں تجارت محفوظ ہو، ریاستوں کی خودمختاری محترم رہے، شہری تنصیبات محفوظ ہوں اور اختلافات کا فیصلہ میدان جنگ کے بجائے مذاکرات کی میز پر ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو مشرق وسطیٰ کو مزید تباہی سے بچا سکتا ہے اور یہی وہ سوچ ہے جس کی آج پوری دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

متعلقہ مضامین

  • اسلامی اقدار اور جدید دور
  • مسجد اقصیٰ کی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش مسترد، 8 اسلامی ممالک کا اسرائیل کو فوری انتباہ
  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم