کب کوئی بلا صرف دُعاؤں سے ٹلی ہے
اشاعت کی تاریخ: 13th, June 2025 GMT
ماشاء اللہ، الحمد للہ ،5جون2025 کو حج اپنے اختتام کو پہنچ گیا ۔اِس بار عالمِ اسلام کے تقریباً پونے 17لاکھ خوش نصیب مسلمانوں نے فریضۂ حج کا عظیم المرتبت شرف حاصل کیا ہے ۔ایں سعادت بزورِ بازُو نیست، تانہ بخشد خدائے بخشندہ! تقریباً1.7ملین حجاج کرام کو ہر قسم کی اعانت و خدمت فراہم کرنا کوئی معمولی کارنامہ نہیں ہے۔
یوں خادم الحرمین الشریفین، سعودی عرب کے جملہ حکام اور حج انتظامات پر مامور ہر سعودی ذمے دار کو بھرپور شاباش دینی چاہیے ۔ہم سب کی طرف سے نئے حاجیوں کو تہنیت ۔ تازہ ترین حج کے عظیم الشان موقع پر خطبہ حج سعودی عرب کے ممتاز و مکرم اسکالر ، شیخ ڈاکٹر صالح بن عبداللہ الحمید، نے دیا ہے ۔ ڈاکٹر صالح بن عبداللہ صاحب کعبہ شریف کے9معزز و محترم اماموں میں سے ایک ہیں ۔ ڈاکٹر صالح صاحب کو یہ بھی منفرد مقام و اعزاز حاصل ہے کہ آپ خانہ کعبہ کے پہلے اور اوّلین امام ہیں جو پی ایچ ڈی ہیں ۔
بتایا گیا ہے کہ ڈاکٹر صالح صاحب کا دیا گیا خطبہ حج دُنیا کی تقریباً35مختلف زبانوں میں نشر کیا گیا ۔ راقم نے شیخ صالح صاحب کا خطبہ حج سُنا بھی ہے اور اِس کی رپورٹنگ بھی پڑھی ہے۔ خطبے میںدیگر کئی باتوں ، نصائح اور دعاؤں میں مسئلہ فلسطین ، فلسطینیوں کے دکھوں اور مظلوم و مقہور اہلِ غزہ کا ذکر بھی سنائی دیا ۔ ڈاکٹر صالح بن عبداللہ نے مسجدِ نمرہ میں فرمایا:’’ اے اللہ، فلسطینی بھائیوں کو دشمن پر غلبہ عطا فرما۔ اے اللہ ، فلسطین اور فلسطینیوں کا خیال رکھ ۔اے اللہ ، فلسطینیوں کی بھوک، مصائب اور تکالیف کا خاتمہ فرما۔ بے گھر فلسطینیوں کو آسرا عطا فرما۔ یااللہ،اہلِ فلسطین (غزہ) کو امن کی نعمت سے سرفراز فرما اور اُنہیں اُن کے دشمنوں کے شر سے محفوظ فرما۔‘‘
شیخ ڈاکٹر صالح بن عبداللہ صاحب کا خصوصی شکریہ کہ جناب نے پونے17لاکھ کے عظیم اجتماع سے خطاب کرتے ہُوئے مظلوم و مقہور اور صہیونی اسرائیل کے زیر تعذیب فلسطینیوں کے لیے دعائیں فرمائیں۔ اللہ تعالیٰ قبول فرمائے۔ آمین ۔ ڈاکٹر صالح صاحب کا پیغام معلوم دُنیا تک پہنچا ہے کہ معلوم دُنیا کے کونے کونے سے حاجی صاحبان سعودی عرب تشریف لائے۔ سب کے کانوں میں مظلوم فلسطینیوں کے لیے کیے گئے دعائیہ کلمات پہنچ گئے ۔
راقم کے لیے مگر حیرانی کی بات ہے کہ الشیخ نے اپنی دعا میں فلسطین کے ’’دشمن‘‘ اور ’’دشمنوں‘‘ کا ذکر تو کیا مگر ’’دشمن‘‘ کا نام لینے سے گریز فرمایا۔ سچ تو یہ ہے کہ مظلوم فلسطینی اور عالمِ اسلام کے باسی فلسطینیوں کے ’’دشمن‘‘ اور فلسطینیوں پر لامتناہی مظالم ڈھانے اور اب تک55ہزار سے زائد فلسطینیوں کو شہید کرنے اور ’’غزہ‘‘ کو کھنڈرات بنانے والی ظالم قوت (اسرائیل) کے خلاف کچھ مزید طاقتور الفاظ سننے کے منتظر تھے ۔
دعاؤں سے اگر مسائل و مصائب حل ہو سکتے تو اب تک مسئلہ کشمیر اور مسئلہ فلسطین حل ہو چکے ہوتے کہ پچھلے75برسوں سے مسلمانانِ عالم اِن دونوں مسائل کے حل بارے مسلسل دعائیں مانگ رہے ہیں ۔ دعائیں مگر مستجاب نہیں ہو رہیں ۔ مشہور سیاستدان، نوابزادہ نصراللہ خان مرحوم ، نے برسوں قبل اپنی ایک مشہور غزل میں ٹھیک ہی تو کہا تھا:کب اشک بہانے سے کٹی ہے شبِ ہجراں/ کب کوئی بلا صرف دعاؤں سے ٹلی ہے!
آج ساری دُنیا کے عوام ، بِلا رنگ و نسل و زبان، مظلوم فلسطینیوں کے حق میں اور غاصب و ظالم صہیونی اسرائیل کے خلاف آواز اُٹھا رہے ہیں ۔ اُن ممالک کے عوام اِس ضمن میں زیادہ بلند آواز سے اسرائیل کے خلاف احتجاج کناں ہیں جن ممالک کے بے حس اور اسرائیل نواز حکمران اسرائیل کو اسلحہ بھی فراہم کر رہے ہیں اور مالی امداد بھی۔5جون 2025 کو جس وقت مسجدِ نمرہ میں خطبہ حج میں مظلوم و مصلوب اہلِ فلسطین کے لیے دعائیں کی جارہی تھیں ، عین اُسی تاریخ کو اور اُسی وقت نیویارک میں اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل ، جناب انتونو گوتریس، سعودی عرب کے مشہور انگریزی اخبار ( عرب نیوز) کےEphrem Kossaify کو مفصل انٹرویو دیتے ہُوئے کہہ رہے تھے :’’عالمی برادری کا بنیادی فرض ہے کہ وہ اپنے جملہ وسائل کو بروئے کار لاتے ہُوئے اسرائیل اور فلسطین میں جاری محاربے کو فوری ختم کرنے کی کوئی فوری اور مستقل سبیل نکالیں ۔ ساتھ ہی دو ریاستی حل کی طرف بڑھنے کی بھی ضرورت ہے۔
ہم جاری ایام میں غزہ اور مغربی کنارے میں دل دہلا دینے والے جو خونریز مناظر دیکھ رہے ہیں،یہ اِس امر کے متقاضی ہیں کہ دو ریاستی فارمولے اور حل کی ضرورت کو ہر حال میں زندہ رکھا جائے۔ اور جو لوگ دو ریاستی حل بارے شبہات کا شکار ہیں ، مَیں اُن سے پوچھتا ہُوں : تو پھر اِس کا متبادل کیا ہے ؟کیا یک ریاستی حل یہ ہے کہ فلسطینیوں کو غزہ اور مغربی کنارے سے بزورِ طاقت نکال دیا جائے ؟یا کیا فلسطینیوں کو اُن کی اپنی سرزمین پر ، کوئی بھی حق دیے بغیر، زیر استبداد رہنے دیا جائے؟ میرے لیے یہ ناقابلِ قبول ہے۔ بالکل ناقابلِ قبول!۔‘‘
جس واضح اور غیر مبہم اسلوب میں جناب انتونیو گوتریس نے مظلوم اہلِ مغربی کنارہ اور مقہور اہلِ غزہ کی حمائت میں بیان دیا ہے، اے کاش ہمارے طاقتور اور صاحبانِ ثروت مسلمان حکمرانوں کو بھی ایسی ہمت اور توفیق ملتی۔ اے کاش!لیکن شائد صہیونی و غاصب اسرائیل کے دستِ قاتل کو ہمت سے جھٹک دینے کی توفیق ہمارے کسی مسلم حکمران کو کبھی نہیں ملے گی۔
فلسطین کے چاروں اطراف میں بسنے والے مشہور اور قدیم مسلمان ممالک ( مصر ، اُردن ، شام)اور ان کے حکمران ( جو اہلِ فلسطین کے ہم لسان بھی ہیں، اُن کے ہم مذہب بھی ہیں اور ہم ثقافت بھی) مظلوم فلسطینیوں کی کسی بھی قسم کی امداد و اعانت کرنے سے صاف انکاری ہیں۔ ہمسایہ ہونے کے باوجود غزہ کے بچوں کو خوراک فراہم کرنے پر تیار ہیں نہ اُنہیں طبّی امدار دینے کے لیے راضی ۔ غزہ قحط زدہ ہو چکا ہے ، مگر کوئی ہمسایہ مسلمان (اسرائیل کے ڈر سے) براہِ راست اہلِ غزہ کو روٹی کا ایک لقمہ دینے سے بھی منکر ہے ۔
مظلوم فلسطین کے ہمسایہ میں بسنے والے عسکری طور پر کمزور مسلمان حکمرانوں اور بحیثیتِ مجموعی عالمِ اسلام کی بے حسی کو دیکھتے ہُوئے ہی امریکا مظلوم فلسطینیوں کے خلاف شیر بن رہا ہے اور آگے بڑھ چڑھ کر قاہر و جابر اسرائیل کی ہر ممکنہ امداد بھی کررہا ہے۔ یہ یہیں تک محدود نہیں بلکہ اہلِ غزہ کا مزید ناطقہ بند کرنے اور فلسطینیوں پر مزید عرصئہ حیات تنگ کرنے کے لیے اہلِ غزہ کے خلاف ویٹو کی ہلاکت خیز طاقت بھی استعمال کررہا ہے ۔ اور عالمِ اسلام کے حکمران ٹک ٹک دیدم ، دَم نہ کشیدم کی عملی تصویر بنے بیٹھے ہیں ۔
اِس ضمن میں تازہ مثال جون2025کے پہلے ہفتے سامنے آئی ہے ۔ فلسطینیوں کے حق میں پیش کی گئی قرارداد ایسے لمحات میں امریکا نے ویٹو کی ہے جب غزہ میں ہر قسم کے انسانی، مالی و طبّی بحران عروج پر پہنچ چکے ہیں ۔اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے15ارکان میں سے14ارکان نے قرارداد کے حق میں یہ کہہ کر ووٹ دیا کہ ’’غزہ میں فوری طور پر جنگ بندی بھی کی جائے اور غزہ کے22لاکھ محصور فلسطینیوں کے لیے روکی گئی خوراکی امداد بھی کھولی جائے ۔‘‘ مگر اسرائیل نواز امریکا نے یہ کہہ کر اِس قرار داد کو ویٹو کی طاقت سے مسترد کر دیا کہ (1)اِس قرار داد میں 7اکتوبر 2023 کو جنوبی اسرائیل پر حماس کے حملے کی مذمت شامل نہیں ہے (2) قرار داد میں حماس کو غیر مسلح کرنے کی شق شامل کیوں نہیں کی گئی (3) غزہ کی پٹّی سے حماس کو نکال باہر کرنے کا ذکر نہیں کیا گیا ہے ۔
ساتھ ہی یو این میں امریکی سفیر ، ڈورتھی شیا، ( اور امریکی وزیر خارجہ ، مارکو روبیو) نے کہا ہے کہ ’’اگر ہم اِس قرار داد کو مان لیتے تو اِس کا مطلب یہ ہوتا کہ اسرائیل کے مقابل حماس کو تقویت پہنچائی گئی ہے ۔ ہم اِسی سے بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ غزہ اور مغربی کنارے کے مکین مظلوم فلسطینیوں کی ریلیف کے ، فی الحال، امکانات واضح نہیں ہیں ۔ عالمِ اسلام کے حکمران خاموش رہیں گے تو مظلوم فلسطینیوں کا یہی حال رہے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ڈاکٹر صالح بن عبداللہ مظلوم فلسطینیوں فلسطینیوں کے فلسطینیوں کو مظلوم فلسطین اسرائیل کے اور فلسطین فلسطین کے صالح صاحب اسلام کے رہے ہیں صاحب کا کے خلاف کے لیے
پڑھیں:
قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
ہر سال ستمبر آتے ہی ایک قصہ نئے سرے سے گردش کرنے لگتا ہے۔ اکثر یہ بات کہی جاتی ہے کہ زیارت سے کراچی واپسی پر ان کی ایمبولینس دانستہ خراب کی گئی اور بابائے قوم کو راستے میں بے یار و مددگار چھوڑ دیا گیا، تاکہ ان کی طبیعت زیادہ بگڑ جائے اور وہ سروائیو نہ کر پائیں۔ کبھی کچھ اور کہا جاتا ہے، کبھی لیاقت علی خان کی زیارت ریزیڈنسی میں قائداعظم سے ملاقات پر منفی تبصرے کیے جاتے ہیں۔
سوشل میڈیا پر یہ کہانی ہر بار نئے مسالے کے ساتھ لوٹتی ہے، اور ہر بار کچھ لوگ سر پکڑ کر بیٹھ جاتے ہیں کہ ہائے، ہم نے اپنے محسن کے ساتھ کیا سلوک کیا۔ یوں ہر سال ایک نئی سازشی کہانی جنم لیتی ہے، حالانکہ تاریخ کے مستند ریکارڈ میں ایسی کسی منظم سازش کا سراغ نہیں ملتا۔
یہ بھی پڑھیں: دو مہکتے واقعات جنہوں نے بہت کچھ سکھایا
اس بار تو ہم نے ستمبر کا انتظار بھی نہیں کیا، جولائی ہی میں ستمبر لے آئے۔ شاید اس لیے کہ بارشوں نے لاہور کو بھی چند روز کے لیے زیارت کا سا رنگ دے دیا ہے۔ اس بار یہ شگوفہ مخدوم جاوید ہاشمی کے لبوں سے پھوٹا ہے۔ وہ آج کل حکمرانوں سے کچھ برہم اور ناراض ہیں۔ ان کے اندر کا انقلابی اور باغی ہیرو ایک بار پھر جاگ اٹھا ہے۔ اس بار وہ پہلے سے زیادہ پرجوش انداز میں سامنے آیا۔
ہاشمی صاحب نے فرمایا کہ قائداعظم کو سازش کے تحت زیارت بھیجا گیا تھا، حکومتی کاموں سے دور رکھنے کے لیے، ورنہ وہاں کون جاتا ہے علاج کے لیے۔ اس پر فواد چودھری صاحب نے اپنے ٹویٹ کے ذریعے مخدوم صاحب کو جواب دیا۔ کچھ اور لوگ بھی بیچ میں کود پڑے۔ یوں سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث شروع ہوگئی۔
خاکسار کی گزارش بس اتنی ہے کہ ذرا ٹھہر جائیں۔ پہلے ہمارے سادہ سے، معصوم سے سوال کا جواب تو دے دیں کہ آخر یہ سازش کس نے کی؟ وہ کون تھا جو محمد علی جناح کو، اس جیسے مردِ آہن کو، کسی بات پر مجبور کرسکتا تھا؟ قائداعظم گورنر جنرل تھے، ایسے جو کابینہ اجلاس میں تاخیر سے آنے پر وزرا کو سختی سے ڈانٹ سکتے تھے۔
وزیراعظم لیاقت علی خان سمیت کس میں اتنی جرأت تھی کہ وہ قائد سے اختلاف کرتا یا ان پر جبر کا سوچ بھی سکتا؟ قائداعظم اپنی بیماری میں بھی ملک کی سب سے بڑی طاقت تھے۔ کسی میں اتنا دم نہیں تھا کہ ان پر رتی برابر دباؤ ڈال سکے، یا ان کے سامنے زبان کھول سکے۔ جو لوگ زیارت جانے کو سازش کہتے ہیں، وہ یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ اس سازش کا مہرہ کون تھا اور دھاگے کس کے ہاتھ میں تھے۔
زیارت کیوں بھیجا گیااصل بات جاننے کے لیے اُس زمانے کی طب کو سمجھنا پڑے گا۔ ٹی بی کے مریض تب ٹھنڈے، بلند علاقوں میں بھیجے جاتے تھے، جہاں صاف، خشک اور ٹھنڈی آب و ہوا مریضوں کے لیے موزوں سمجھی جاتی تھی۔
شملہ ہو، مری ہو یا زیارت، انہی مقامات پر ایسے مریضوں کے سینیٹوریم بنے تھے۔ زیارت قائد کو خود بھی پسند تھا، اور غالباً ڈاکٹروں کے ذہن میں یہ بھی ہوگا کہ وہاں ملاقاتی کم آئیں گے اور مریض کو آرام کا زیادہ وقت ملے گا۔ اس میں سازش کہاں سے آ گئی؟ ویسے جس کسی کو زیارت گرمیوں میں جانے کا اتفاق ہوا ہو، وہ اعتراف کرے گا کہ ایسی پرسکون، خوبصورت اور خالص ہوا والی جگہ پر مریض کو آنا چاہیے، خاص کر ایسے مریض کو جس کے پھیپھڑے بری طرح متاثر ہوچکے ہوں۔
تھوڑی سی تحقیق کر لیں تو حقائق آشکار ہو جاتے ہیں۔ قائد کو ٹی بی برسوں سے تھی، مگر انہوں نے اسے چھپائے رکھا۔ ان کا اپنا کہنا تھا کہ اگر مخالفین کو خبر ہوگئی تو وہ میری موت کا انتظار کرنے لگیں گے۔ قائد کے آخری دنوں یعنی ستمبر تک یہ مرض اکیلا نہیں رہا تھا، نمونیا اور دیگر پیچیدگیاں بھی ساتھ آ ملیں، شاید پھیپھڑوں کا سرطان بھی۔ قائد کا وزن گھٹ کر صرف 36 کلو رہ گیا۔
یہ بھی پڑھیں: جب اپنا بوجھ اتار پھینکا جائے
36 کلو کا اندازہ لگا لیں، ایک صحت مند 10 سال کے بچے کے برابر وزن۔ ان کے معالج ڈاکٹر الٰہی بخش نے محترمہ فاطمہ جناح کو صاف بتا دیا تھا کہ اگر معجزہ نہ ہوا تو قائد چند دنوں سے زیادہ نہیں نکال پائیں گے۔ یہ باتیں کسی سازشی بلاگ میں نہیں، ان کے اپنے ڈاکٹروں کی کتابوں اور انٹرویوز میں درج ہیں، خصوصاً ڈاکٹر الٰہی بخش کی یادداشتوں میں۔
کراچی، وہ بھی ستمبر میںاب ایک نکتہ ایسا ہے جس پر شاید ہی کبھی غور کیا گیا ہو۔ قائداعظم ستمبر کے مہینے میں کراچی کیوں آئے؟ ہم لاہور والے جانتے ہیں کہ ستمبر آتے ہی پنجاب کا موسم خوشگوار ہونے لگتا ہے، مگر کراچی میں یہی مہینے نسبتاً زیادہ گرم ہوتے ہیں۔ ایک بیمار آدمی، جس کے پھیپھڑے جواب دے چکے ہوں، اسے بھلا اِس گرمی میں کراچی آنے کی کیا جلدی تھی؟ وہ اکتوبر، نومبر میں بھی آسکتے تھے، جب کراچی کا موسم سنبھل جاتا۔
اس کا جواب تلخ ہے، اور ہم احتراماً اسے زبان پر نہیں لاتے۔ حالات سے یہی محسوس ہوتا ہے کہ قائد اپنی زندگی کے آخری ایام کراچی اپنے گھر میں گزارنے آرہے تھے۔ ریکارڈ میں کراچی منتقلی کی وجہ یہ درج ہے کہ وہاں بہتر طبی سہولتیں دستیاب تھیں، مگر اندر خانے سب جانتے تھے کہ اب گنتی کے دن رہ گئے ہیں۔ پھر یہ بھی ثابت شدہ حقیقت ہے کہ محترمہ فاطمہ جناح نے سختی سے ہدایت کی تھی کہ واپسی کو نجی دورہ رکھا جائے، اسی لیے ائیرپورٹ پر انہیں لینے سرکاری افسران یا وزرا وغیرہ نہیں پہنچے۔ بہت سوں کو تو شاید قائد کی واپسی کا علم ہی نہیں ہوگا۔
ایمبولینس کا قصہاب آتے ہیں اُس ایمبولینس کی طرف جس پر سب سے زیادہ شور مچتا ہے۔ ہاں، وہ ایمبولینس راستے میں خراب ہوگئی تھی، انجن نے ساتھ چھوڑ دیا۔ یہ ایک افسوسناک منظر تھا، اس سے انکار کوئی نہیں کرتا۔ مگر بندہ خدا، ذرا اُس وقت کے پاکستان کی حالت بھی تو دیکھیں۔ ملک بنے ابھی ایک برس ہوا تھا، خزانہ خالی، لاکھوں مہاجر کھلے آسمان تلے پڑے۔ تب کتنی گاڑیاں ہوا کرتی تھیں اور ایمبولینسوں کا کیا حال تھا؟
اس بات پر بھی غور کیجیے کہ خود وزیراعظم لیاقت علی خان قائد کی علالت کے دنوں میں زیارت گئے اور ان سے ملاقات کی۔ یہ کوئی رسمی دورہ نہ تھا، کچھ دیر تنہائی میں بھی بات ہوئی۔ کہا جاتا ہے کہ واپسی پر انہوں نے کراچی پیغام بھجوایا کہ حالات کیا ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جناب علامہ شبیر احمد عثمانی کو خاموشی سے پیغام دیا گیا کہ آپ اگلے کچھ دن کراچی ہی میں رہیں، کسی علمی، تبلیغی دورے وغیرہ پر شہر سے باہر نہ جائیں کہ نمازِ جنازہ کے لیے ان کا نام سوچ لیا گیا تھا، شاید قائد کی ہدایت کے مطابق۔
یہ بھی پڑھیں: اداکارہ صحیفہ جبار کو معافی مانگنی چاہیے
مطلب صاف ہے۔ ٹاپ پر موجود سب جانتے تھے کہ اب دن گنتی کے رہ گئے ہیں۔ جہاں پوری قیادت کو معلوم ہو کہ اختتام قریب ہے، وہاں ایک ایمبولینس کے چلنے یا رکنے سے کیا فرق پڑنا تھا؟
میرا دکھ مگر یہ نہیں کہ ایمبولینس خراب ہوئی۔ میرا دکھ یہ ہے کہ ہم نے اس خرابی کو ایک سازش بنا ڈالا۔ سچ تو یہ ہے کہ ایمبولینس چلتی یا رکتی، قائد کے پاس وقت بہت کم بچا تھا۔ جس آدمی کو ڈاکٹر 2، 4 دن کی مہلت دے چکے ہوں، اسے وقت پر گھر پہنچا کر بھی آپ چند لمحے ہی جوڑ سکتے تھے، زندگی نہیں لوٹا سکتے تھے۔
کٹا پھٹا پاکستان اور ایک بیمار قائدہمارے ہاں یہ تاثر بہت مستحکم ہے کہ قائد نے کٹا پھٹا پاکستان اسی لیے قبول کر لیا کہ انہیں اپنی بیماری کا، اپنے کم بچے وقت کا اندازہ ہو چکا تھا۔ یہ تاثر تاریخ کے بعض حلقوں میں بھی پایا جاتا ہے اور خاکسار کو بھی یہی قرینِ قیاس محسوس ہوتا ہے۔ ایک ایسا آدمی جو جانتا ہو کہ اگر پاکستان سنتالیس کے بجائے اڑتالیس تک لٹک گیا تو شاید وہ اسے بنتا نہ دیکھ سکے، وہ ادھورا پاکستان لینے پر آمادہ ہو جاتا ہے، اس امید پر کہ اپنے ہاتھوں سے اپنا خواب پورا ہوتے دیکھ لے۔ کوئی اسے کمزوری کہے تو کہتا رہے۔ جس آدمی کا جسم جواب دے چکا ہو مگر ارادہ سلامت ہو، وہ ایسے ہی کڑے سودے کیا کرتا ہے۔
سو یہ سب کہانیاں کہ فلاں چیز سے قائد کی زندگی گھٹی، بے بنیاد ہیں۔ وہ تو پہلے ہی اپنی فولادی قوتِ ارادی کے بل پر ہی زندہ تھے۔ جسمانی سکت ختم ہو چکی تھی۔ حکومتی کام کاج اب وہ نہیں کر سکتے تھے۔
حرفِ آخرصاحبو! بات اتنی سی ہے، قائداعظم نے ایک بھرپور، شاندار زندگی گزاری، اپنا خواب پورا کیا، پاکستان بنایا، اور پھر اپنے آخری سفر پر روانہ ہو گئے۔ اس میں کوئی سازش نہیں تھی۔ چھپا ہاتھ ڈھونڈنے والے بس ڈھونڈتے ہی رہ جائیں گے۔
مسئلہ بس یہی ہے کہ اگر کوئی بات سیدھے سادے طریقے سے ختم ہو جائے تو ہم میں سے بہت سوں کی مریضانہ ذہنیت کو سکون اور مزا نہیں آتا۔ بدقسمتی یہ ہے کہ ہم تاریخ کو سمجھنے سے زیادہ، اسے سنسنی خیز بنانے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ شاید اسی لیے ہمارے ہاں افسانے زیادہ مقبول ہوتے ہیں اور حقائق کم۔
ہمیں لطف سازشی تھیوری گھڑنے میں آتا ہے، بطور پاکستانی اپنے آپ کو لعن طعن کرنے، اپنے سر میں خاک ڈالنے، اور پھر آنسو بہانے میں۔ گویا اس کے بغیر ہم اچھے اور سچے پاکستانی کہلا ہی نہیں سکتے۔
میری دعا بس اتنی ہے کہ اللہ ہمیں اپنے محسنوں کو عزت سے یاد کرنے کی توفیق دے۔ اور یہ جو ہماری پرانی عادت ہے، ہر اچھی چیز میں کیڑے نکالنے اور ہر سانحے میں سازش ڈھونڈنے کی، اللہ ہمیں اس سے بچائے۔ آمین۔ باقی کہانیاں ہیں بابا، اور کہانیوں کا کیا، وہ تو بنتی رہیں گی۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
نیچرل سائنسز میں گریجویشن، قانون کی تعلیم اور پھر کالم لکھنے کا شوق صحافت میں لے آیا۔ میگزین ایڈیٹر، کالم نگار ہونے کے ساتھ ساتھ 4 کتابوں کے مصنف ہیں۔ مختلف پلیٹ فارمز پر اب تک ان گنت تحریریں چھپ چکی ہیں۔
we news زیارت سازشی تھیوری قائداعظم کراچی