data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

احمد آباد/لندن /اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک +خبرایجنسیاں) بھارتی ریاست گجرات میں ائر انڈیا کا طیارہ احمد آباد کے ہاسٹل پر گر کر تباہ ہوگیا جس کے نتیجے میں241 مسافر اور 53 طلبہ ہلاک ہوگئے جب کہ طیارے میں سوار ایک مسافر معجزانہ طور پرزندہ بچ گیا۔تفصیلات کے مطابق ائر انڈیا کی لندن جانے والی پرواز AI 171 جمعرات کی دوپہر 1بج کر 38منٹ پر احمد آباد ائر پورٹ سے روانہ ہوئی لیکن 30سیکنڈ بعد ہی رہائشی علاقے “میگھانی نگر” پر گرکر تباہ ہوگئی۔حادثے کے وقت بوئنگ 787 ڈریملائنر طیارے میں 2 شیر خوار بچوں سمیت 230 مسافر اور عملے کے 12 ارکان سوار تھے۔ بھارتی حکام نے اعلان کیا ہے کہ ائر انڈیا کے طیارہ حادثے کی جگہ پر ریسکیو آپریشن مکمل کر لیا گیا ہے۔ انڈیا کی سول ایوی ایشن کی وزات نے بھی اس آپریشن کے مکمل ہونے کی تصدیق کی ہے۔ ہلاکتوں کی تعداد 294 ہوگئی جن میں طیارے میں موجود 241 افراد اور ہاسٹل کے 53 طلبہ بھی شامل ہیں۔ایک مسافر معجزانہ طور پربچ گیا جس کی شناخت رمیش کے نام سے ہوئی ہے۔ ڈی جی سی اے (DGCA) نے تصدیق کی ہے کہ طیارہ پرواز کے فوراً بعد “مے ڈے کال” دینے کے بعد ائرپورٹ کے احاطے سے باہر جا کر کریش ہوا۔ طیارے میں آگ لگ گئی اور دھواں دور سے دیکھا گیا۔طیارے میں گجرات کے سابق وزیر اعلیٰ وجے روپانی بھی سوار تھے۔ اس طیارے میں169 بھارتی ، 52 برطانوی کے علاوہ 7 پرتگالی ایک کینیڈین باشندہ بھی سوار تھا۔ابتدائی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ ٹیک کے آف کے دوران طیارہ ایک درخت میں الجھا جس کے نتیجے میں یہ حادثہ رونما ہوا۔ جہاز میں تکنیکی خرابی پیدا ہو جانے کی بھی اطلاعات ملی ہیں۔ ائر انڈیا کا بدنصیب طیارہ شہر کے ایک گنجان آباد علاقے میں گرا ہے۔ یہ علاقہ ائر پورٹ سے ملا ہوا ہے۔ شاہی باغ ایریا اور نروڑا کے سنگم پر واقع ایک اپارٹمنٹ بلاک پر یہ بلاک آئی جی بی کمپاؤنٹ میں واقع ہے۔ طیارے کا اگلا حصہ فلیٹس کے درمیان پھنس گیا۔طیارے کے 230 مسافروں میں 8 ڈاکٹر بھی شامل تھے۔ جہاں یہ طیارہ گرا وہاں چونکہ آبادی بہت زیادہ ہے اس لیے لوگ بڑی تعداد میں جائے حادثہ پر جمع ہوگئے۔ اِس کے نتیجے میں امدادی کارروائیوں میں شدید مشکلات پیش آئیں۔ انتظامیہ کو شہریوں سے اپیل کرنا پڑی کہ جائے حادثہ سے دور رہیں تاکہ امدادی کارروائی جاری رکھی جاسکے اور طبی امداد پہنچائی جاسکے۔ فائر آفیسر جیش کھاڈیا کے مطابق، فائر بریگیڈ کی متعدد گاڑیاں فوری طور پر موقع پر پہنچیں اور آگ پر قابو پانے کی کوشش کی گئی۔ کئی زخمیوں کو سٹی سول اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ائر انڈیا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابق ٹوئٹر) پر حادثے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ پرواز AI171 جو احمد آباد سے لندن گیٹوک جا رہی تھی، حادثے کا شکار ہوئی، ہم صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں اور جلد مزید معلومات فراہم کریں گے،حادثے کی وجوہات معلوم کرنے کے لیے تحقیقاتی ٹیم متحرک کر دی گئی ہے۔ ڈی جی سی اے، اے ڈی اے ڈبلیو، اور ایف او آئی کے نمائندے پہلے ہی احمد آباد میں موجود تھے اور اب تفصیلات اکھٹی کر رہے ہیں۔انتظامیہ نے ائر پورٹ کے آس پاس کی تمام سڑکوں کو بند کر دیا ہے۔ دوسری جانب یہ رپورٹس بھی سامنے آئی ہیں کہ جہاز کے دونوں پائلٹ تجربہ کار تھے۔ طیارے کو کیپٹن سمیت سبھروال اْڑا رہے تھے جب کہ اْن کے ساتھ فرسٹ آفیسر کلائیو کْندر تھے۔ سمیت سبھروال کا پرواز کا تجربہ 8200 گھنٹے جب کہ کلائیو کْندر کا تجربہ 1100 گھنٹے تھا۔ابتدائی اطلاعات میں بتایا گیا تھا کہ ہنگامی کال دینے کا موقع نہیں ملا تھا مگر اب یہ سامنے آئی ہے کہ ٹیک آف کرتے ہی چار پانچ سیکنڈ کے اندر طیارے سے کنٹرول ٹاور کو مے ڈے کال کی گئی تھی۔ اِس کے بعد طیارے کا کنٹرول ٹاور سے رابطہ منقطع ہوگیا تھا۔طیارے میں بظاہر کوئی تکنیکی خرابی نہیں تھی۔ موسم بھی صاف تھا۔ فضا میں پرندوں سے ٹکرانے کا خطرہ بھی برائے نام تھا۔ ماہرین اِس بات پر حیران ہیں کہ ٹیک آف کرتے ہی طیارہ نیچے کیسے گرگیا۔بھارتی وزیر داخلہ امت شاہ نے احمد آباد میں حادثے میں زخمی ہونے والے افراد سے ملاقات کی اور جائے حادثہ کا دورہ بھی کیا۔ انہوں نے کہا کہ ’مسافروں کے رشتہ داروں کے ڈی این اے نمونے لے لیے گئے ہیں۔میڈیا سے بات کرتے ہوئے امت شاہ نے کہا کہ ’10 منٹ میں ہمیں حادثے کی اطلاع ملی۔ میں نے فوری طور پر وزیر اعلیٰ گجرات، محکمہ داخلہ کے کنٹرول روم، محکمہ شہری ہوابازی اور شہری ہوابازی کے وزرا سے رابطہ کیا۔انہوں نے کہا کہ مجھے فوری طور پر وزیر اعظم مودی کا بھی فون آیا۔برطانیہ کے وزیر اعظم کیئر اسٹارمر کا کہنا ہے کہ احمد آباد میں لندن کے لیے پرواز بھرنے والے طیارے کے حادثے کے بعد بھارت سے آنے والی خبریں ’بہت افسوسناک‘ ہیں، برطانوی تحقیقاتی ٹیم کو گجرات روانہ کردیا گیا ہے۔ادھر پاکستانی صدر آصف زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے بھارت میں ہونے والے طیارہ حادثے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ایوان صدر سے جاری بیان کے مطابق صدرآصف زرداری نے احمد آباد میں طیارہ حادثے میں جانی نقصان پر دکھ کا اظہار کیا۔صدرمملکت کا کہنا تھا کہ ہماری دلی ہمدردیاں اپنے پیاروں کو کھونے والے متاثرہ خاندانوں کے ساتھ ہیں۔وزیراعظم شہبازشریف نے بھی طیارہ حادثے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر متاثرہ خاندانوں سے اظہار تعزیت کیا ہے۔وزیراعظم شہبازشریف کا کہنا تھاکہ بھارت میں پیش آنے والا طیارہ حادثہ دلخراش سانحہ ہے۔

بھارتی شہر احمد آبادمیں حادثے کا شکار طیارے کو لگی آگ بجھائی جارہی ہے،چھوٹی تصویر میں طیارے کا پچھلاحصہ عمارت کی چھت پر گرا ہوا ہے، معجزانہ طور پر زندہ بچ جانیوالے مسافر کوطبی امداد دی جارہی ہے

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: طیارہ حادثے طیارے میں ائر انڈیا حادثے کی کہا کہ گیا ہے

پڑھیں:

نئی امریکی ویزا پالیسی پاکستانی طلبہ کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتی ہے

امریکہ نے بین الاقوامی طلبہ کے لیے ویزا قوانین میں اہم تبدیلیوں کی تجویز پیش کی ہے، جس کے نتیجے میں پاکستانی طلبہ سمیت دنیا بھر سے امریکہ میں تعلیم حاصل کرنے کے خواہشمند طلبہ متاثر ہو سکتے ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق ان اقدامات کا مقصد ویزا نظام کو مزید مؤثر بنانا، امیگریشن قوانین پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنانا اور ویزا کے ممکنہ غلط استعمال کی روک تھام کرنا ہے۔

نئی ویزا پالیسی میں کیا تبدیلیاں ہوں گی؟

نئی تجویز کے مطابق بین الاقوامی طلبہ کو پہلے کی طرح اپنے پورے تعلیمی پروگرام کی مدت کے بجائے محدود مدت کے لیے امریکہ میں قیام کی اجازت دی جائے گی۔ زیادہ تر طلبہ کے لیے یہ مدت چار سال ہوگی، جبکہ اگر کسی طالب علم کا تعلیمی یا تحقیقی پروگرام اس سے زیادہ عرصہ لیتا ہے تو اسے امریکہ میں مزید قیام کے لیے الگ سے توسیع کی درخواست دینا ہوگی۔ اس کے علاوہ تعلیم مکمل ہونے کے بعد امریکہ چھوڑنے کے لیے دی جانے والی رعایتی مدت کو بھی کم کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جس کے باعث طلبہ کو اپنی آئندہ منصوبہ بندی پہلے سے زیادہ احتیاط کے ساتھ کرنا ہوگی۔

پاکستانی طلبہ پر ممکنہ اثرات

ہر سال بڑی تعداد میں پاکستانی طلبہ اعلیٰ تعلیم کے لیے امریکہ کا رخ کرتے ہیں، خصوصاً ماسٹرز، پی ایچ ڈی اور تحقیقی پروگراموں میں داخلہ لینے والے طلبہ۔ نئی پالیسی نافذ ہونے کی صورت میں ایسے طلبہ کو اپنی تعلیم مکمل کرنے کے دوران اضافی ویزا کارروائی، مزید دستاویزات اور ممکنہ سیکیورٹی جانچ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس صورتحال کے باعث بعض طلبہ امریکہ کے بجائے دیگر ممالک میں تعلیم حاصل کرنے کو ترجیح دے سکتے ہیں۔

امریکی حکومت کا مؤقف

امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کا کہنا ہے کہ ان تبدیلیوں کا مقصد قومی سلامتی کو مضبوط بنانا، ویزا نظام میں شفافیت پیدا کرنا اور ایسے افراد کی مؤثر نگرانی کرنا ہے جو طویل عرصے تک امریکہ میں قیام کرتے ہیں۔ حکام کے مطابق نئی پالیسی ویزا اوور اسٹے اور دیگر بے ضابطگیوں کی روک تھام میں مددگار ثابت ہوگی۔

تعلیمی اداروں کے تحفظات دوسری جانب کئی امریکی جامعات اور تعلیمی ماہرین نے مجوزہ تبدیلیوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کے مطابق اگر طلبہ کو بار بار ویزا کی تجدید یا مدت میں توسیع کے مراحل سے گزرنا پڑا تو اس سے نہ صرف غیر ملکی طلبہ کے لیے مشکلات بڑھیں گی بلکہ امریکی جامعات کی عالمی سطح پر کشش بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ خاص طور پر طویل المدتی تحقیقی پروگراموں میں داخل طلبہ کے لیے یہ قوانین اضافی مشکلات پیدا کرسکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد، لاہور اور کراچی میں امریکی ویزا سروس عارضی طور پر معطل

لاہور کے 22 سالہ عاصم علی، جو ایک طویل عرصے سے امریکہ سے ماسٹرز کرنے کا خواب دیکھ رہے ہیں، اس مجوزہ پالیسی کو اپنے مستقبل کے لیے ایک بڑا دھچکا سمجھتے ہیں۔ عاصم کا کہنا ہے کہ ہم جیسے متوسط طبقے کے طلبہ کے لیے امریکہ میں تعلیم حاصل کرنے کا فیصلہ ہی ایک بہت بڑا مالیاتی جوا ہوتا ہے، جہاں بینک اسٹیٹمنٹ کا بندوبست کرنے سے لے کر مہنگی فیسوں کی ادائیگی تک، سب کچھ داؤ پر لگا ہوتا ہے۔

ان کے مطابق، زمینی حقیقت یہ ہے کہ اگر چار سال بعد دوبارہ ویزا کی تجدید کا قانون لاگو ہوتا ہے، تو طلبہ پر ہر وقت ویزا ریجیکٹ ہونے اور لاکھوں روپے ڈوبنے کا خوف مسلط رہے گا۔ عاصم کا ماننا ہے کہ اگر امریکہ جا کر بھی مستقبل غیر یقینی کا شکار رہنا ہے، تو پاکستانی طلبہ کے لیے کینیڈا یا جرمنی جیسے ممالک اب زیادہ بہتر اور محفوظ آپشن بن چکے ہیں۔

راولپنڈی سے تعلق رکھنے والی ڈاکٹر سمیرا ناز، جو بائیوٹیکنالوجی میں پی ایچ ڈی کے لیے امریکی یونیورسٹی میں داخلے کی خواہشمند ہیں، اس پالیسی کو خاص طور پر تحقیقی طلبہ کے لیے ناانصافی قرار دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سائنس کے شعبوں میں پی ایچ ڈی اور ریسرچ پروجیکٹس اکثر چار سال سے زیادہ کا عرصہ لے لیتے ہیں اور لیب کے کام کی نوعیت ایسی ہوتی ہے جس کی مدت کا پہلے سے سو فیصد تعین ممکن نہیں ہوتا۔

یہ بھی پڑھیں: امریکی ویزا منسوخی میں 150 فیصد اضافہ، ٹرمپ انتظامیہ کا ریکارڈ دعویٰ

سمیرا کہتی ہیں کہ پاکستانی طلبہ کو پہلے ہی انتظامی کارروائی اور سخت سیکیورٹی اسکریننگ کی وجہ سے مہینوں انتظار کرنا پڑتا ہے۔ اب اگر تعلیم کے دوران بار بار اسی ذہنی اذیت اور کاغذی کارروائی سے گزرنا پڑا، تو کسی بھی طالب علم کے لیے یکسوئی سے ریسرچ کرنا ناممکن ہو جائے گا، جس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ امریکہ اب غیر ملکی ٹیلنٹ کا خیرمقدم کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتا۔

امریکی یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی کے طالب علم پرویز خان کا کہنا ہے کہ امریکی ویزا پالیسی میں حالیہ تبدیلیاں ان جیسے محققین کے لیے شدید ذہنی دباؤ اور غیر یقینی کا باعث بنتی ہیں۔ پی ایچ ڈی چونکہ ایک طویل المدتی تحقیقی سفر ہے، اس لیے محدود مدت کے ویزا کی پالیسی اور بار بار ویزا تجدید کے مراحل ان کی تعلیمی اور تحقیقی ٹائم لائنز کو بری طرح متاثر کریں گے۔ اب امریکی جامعات بھی طلبہ کی تحقیقی صلاحیت کے بجائے ویزا اسٹیٹس اور سخت امیگریشن ڈیڈ لائنز کو ترجیح دینے پر مجبور ہو گئی ہیں، جس سے علمی کام میں رکاوٹیں پیدا ہو رہی ہیں۔

تاہم، پرویز خان کا ماننا ہے کہ اس صورتحال کی ایک وجہ خود پاکستانی طلبہ کی جانب سے اکیڈمک اور امیگریشن قوانین سے لاپروائی بھی ہے۔ بہت سے طلبہ امریکی تعلیمی نظام کی حساسیت کو سمجھے بغیر سرقہ بازی یا چیٹنگ جیسی غلطیاں کر بیٹھتے ہیں، جس سے نہ صرف ان کا تعلیمی کیریئر ختم ہوتا ہے بلکہ امیگریشن ریکارڈ پر منفی اثر پڑتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: امریکا کی نئی ویزا پالیسی: کیا اب ذیابیطس اور موٹاپے کے شکار افراد کو امریکی ویزا نہیں ملے گا؟

اس کے علاوہ، ورک پرمٹ کے قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کیمپس سے باہر غیر قانونی کام کرنا، یونیورسٹی کی جانب سے مطلوبہ فل ٹائم انرولمنٹ برقرار نہ رکھنا، یا محض قیام کو طول دینے کے لیے بلاوجہ اپنے تحقیقی موضوعات کو تبدیل کرنا ایسے عوامل ہیں جو امریکی حکام کے نزدیک شک کا باعث بنتے ہیں۔ پرویز کا کہنا ہے کہ پی ایچ ڈی کے طلبہ کو ان تکنیکی اور قانونی معاملات میں انتہائی محتاط رہنا ہوگا، کیونکہ قوانین سے معمولی سی لاپروائی بھی اب ان کے مستقبل کو خطرے میں ڈالنے کے لیے کافی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ نئی ویزا پالیسی نافذ ہو جاتی ہے تو امریکہ میں تعلیم حاصل کرنے کے خواہشمند پاکستانی طلبہ کو پہلے سے زیادہ محتاط منصوبہ بندی، مکمل دستاویزات کی تیاری اور ویزا قوانین پر سختی سے عمل کرنا ہوگا۔ اگرچہ اس پالیسی کا مقصد ویزا نظام کو مزید مؤثر بنانا ہے، تاہم اس کے اثرات بین الاقوامی طلبہ، بالخصوص پاکستانی طلبہ، پر نمایاں طور پر محسوس کیے جا سکتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news امریکا پاکستان پاکستانی طلبا نئی پالیسی ویزا

متعلقہ مضامین

  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • نئی امریکی ویزا پالیسی پاکستانی طلبہ کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتی ہے
  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
  • چیک ریپبلک میں فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ؛ ایک فوجی ہلاک اور 4 زخمی
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • آبنائے ہرمز میں ہر حملے کے بدلے ایک پل یا پاور پلانٹ تباہ کریں گے، ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی