قومی اسمبلی میں ایران پر اسرائیلی حملہ کیخلاف قرارداد متفقہ منظور WhatsAppFacebookTwitter 0 13 June, 2025 سب نیوز

اسلام آباد(آئی پی ایس) قومی اسمبلی نے ایران پر اسرائیلی حملے کے خلاف قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی، قرارداد حکومت اور اپوزیشن کی جانب سے مشترکہ طور پر پیش کی گئی، قرارداد پیپلز پارٹی کے رہنما نوید قمر نے پیش کی۔

قرارداد کے مطابق قومی اسمبلی اسرائیل کی طرف سے ایران کے خلاف ناجائز اور غیر قانونی جارحیت کی مذمت کرتی ہے، اسرائیلی بلاجوازاورناجائزجارحیت کی شدید مذمت کرتے ہیں، اسرائیلی حملہ ایرانی ریاست کی سالمیت کی سنگین خلاف ورزی ہے۔

متن میں کہا گیا ہے کہ ایران پر حملہ بین الاقوامی قانون کی واضح خلاف ورزی ہے، حملہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے بنیادی اصولوں کی بھی واضح خلاف ورزی ہے، اسرائیل نے مسلسل جارحیت مشرق وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کوسنگین خطرات میں ڈال دیا۔

قرارداد میں واضح کیا گیا کہ پاکستان ایران کی حکومت، پارلیمنٹ اورعوام کے ساتھ کھڑا ہے، یہ ایوان فوری طور پر سلامتی کونسل اور او آئی سی کا اجلاس بلانے کا مطالبہ کرتا ہے، سلامتی کونسل اور او آئی سی ایران پر جارحیت کوفوری طورپر روکے۔

اسرائیلی حملے کے خلاف قرارداد پر بحث کے دوران راجہ پرویز اشرف نے کہا ہے کہ اسرائیل نے فلسطین کے بعد اب ایران پر حملہ کردیا ہے، اسرائیل امریکہ کا ناجائز بچہ ہے، فلسطینیوں پر حملے کے بعد اسرائیل کا حوصلہ اتنا بڑھ گیا ہے کہ اس نے ایران پر حملہ کر دیا، دنیا محض اسرائیل کے خلاف قراردادیں منظور کررہی ہے، اسرائیل آگے بڑھتا جا رہا ہے اور مسلم ممالک پر حملے کررہا ہے۔

اجلاس میں رانا تنویر حسین نے کہا کہ اسرائیل کا وجود ہی ناجائز تھا، امن کے لئے خطرہ بن رہا ہے، پاکستان اس حملے کی شدید مذمت کرتا ہے، ہم ایران کے ساتھ ہیں، دنیا اسرائیل کی جارحیت کو روکے، اسرائیل نے بدمعاشی شروع کی ہوئی ہے، اس کو روکا جائے، ایران کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہیں۔

قومی اسمبلی سے خطاب میں بیرسٹر گوہر علی نے کہا کہ ایران پر حملہ تاریخ کا المناک واقعہ ہے، ہم اس حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں، او آئی سی کانفرنس بلائی جائے، عرب لیگ کی کانفرنس فوری بلائی جائے، اسرائیل علاقائی سالمیت کے لئے خطرہ بن چکا ہے۔

بیرسٹر گوہر نے کہا کہ اسرائیل نے غزہ پر حملہ کیا، ستر ہزار سے زائد لوگوں کی شہادتیں ہوئیں، مسلم دنیا کچھ نہیں کر سکی، اسرائیل دنیا کے لئے خطرہ بنتا جا رہا ہے، دنیا اس میں اپنا کردار ادا کرے۔

صاحبزادہ حامد رضا نے کہا کہ اسرائیل ایک دہشت گرد ریاست تھی، ہے اور رہے گی، دنیا جانتی ہے کہ اسرائیل کی ہٹ لسٹ پر دو ممالک ہیں، ایک ایران اور دوسرا پاکستان، اسرائیل ماضی میں بھی پاکستان پر حملے کی کوشش کر چکا ہے، نیتن یاہو بھی مودی کی طرح پاکستان کے خلاف کسی سازش سے باز نہیں آئے گا، اسرائیل پوری دنیا میں مسلمانوں کے قتل عام میں ملوث ہے، نیتن یاہو کو عالمی عدالت انصاف سے سزا دلوائی جائے اور اسے پھانسی دے کر لاش کو عبرتناک مثال بنایا جائے۔

سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا کہ اسرائیلی جارحیت کی پرزور مذمت کرتا ہوں، اسرائیل نے ہمارے دوست ملک ایران پر حملہ کیا، ہم سمجھتے ہیں اس سے زیادہ قابل مذمت کوئی اقدام نہیں ہوسکتا، جو کچھ اسرائیل کررہا ہے اس سے بڑھ کر کوئی دہشتگردی نہیں ہوسکتی، اسرائیل جیسا دہشتگرد ملک پوری دنیا پر چڑھ دوڑا ہے، اگر ہم اسرائیلی دہشتگردی پر خاموش رہتے ہیں تو یہ اوباشوں کی دنیا ہے، ہم سب اسرائیلی دہشتگردی کی مذمت کرتے ہیں۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرایران اسرائیل کشیدگی: پاکستانی زائرین کی سہولت کے لیے وزارت خارجہ میں کرائسس منیجمنٹ سیل قائم ایران اسرائیل کشیدگی: پاکستانی زائرین کی سہولت کے لیے وزارت خارجہ میں کرائسس منیجمنٹ سیل قائم گرمی کے ستائے شہریوں کیلئے خوشخبری، محکمہ موسمیات نے بارش کی پیشگوئی کردی خطرے کے خاتمے تک ایران پر حملہ جاری رہے گا، اسرائیلی وزیراعظم اسرائیلی حملوں میں ایران کے کونسے سائنسدان شہید ہوئے؟ نام سامنے آگئے برطانوی کرائم ایجنسی نے شیخ حسینہ واجد کے ساتھی کے اثاثے منجمد کر دیے انٹرنیشنل اٹامک ایجنسی نے نطنز میں ایرانی جوہری تنصیب پر اسرائیلی حملے کی تصدیق کردی TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: قومی اسمبلی پر اسرائیلی میں ایران ایران پر

پڑھیں:

’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔

امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔

انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔

امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔

قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔

صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔

دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔

بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔

ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن