اردن کا اسرائیل کی جانب داغے گئے متعدد ایرانی ڈرون ناکارہ بنانے کا دعویٰ لیکن اردن نے ایسا کیوں کیا؟
اشاعت کی تاریخ: 13th, June 2025 GMT
اطلاعات کے مطابق اردن نے اسرائیل کی جانب داغے گئے متعدد ایرانی ڈرونز کو ناکارہ بنا دیا۔
اے ایف پی کے مطابق اردن کی فوج کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’رائل ایئر فورس کے طیاروں اور فضائی دفاعی نظام نے جمعے کی صبح اردن کی فضائی حدود میں داخل ہونے والے متعدد میزائلوں اور ڈرونز کو روکا۔‘
مسلم ملک اُردن کے دارالحکومت میں اسرائیل کے ایران پر حملے کے بعد سائرن بجنے لگے جبکہ پبلک سکیورٹی ڈائریکٹوریٹ نے لوگوں سے گھروں میں رہنے کی اپیل کی۔
واضح رہے کہ اردن نے اس سے قبل کہا تھا کہ وہ اپنی فضائی حدود کی خلاف ورزی نہیں ہونے دے گا اور کسی بھی علاقائی تنازع میں ’میدان جنگ‘ نہ بننے کا عزم رکھتا ہے۔
یاد رہے کہ اکتوبر 2024 میں اردن نے ایران کی طرف سے اسرائیل پر فائر کیے گئے متعدد ڈرونز اور میزائلوں کو روک دیا تھا۔ اُردن کی جانب سے ایرانی ڈرونز اور میزائل فضا میں مار گرانے کے واقعے کے بعد دنیا کے مختلف مسلم ممالک نے حیرت کا اظہار کیا تھا۔
تو اردن اسرائیل کی جانب بھیجے گئے ڈرونز اور میزائلوں کو کیوں مار گراتا ہے؟ بی بی سی نے اس حوالے سے گذشتہ برس ایک تحریر شائع کی تھی، جسے قارئین کے لیے دوبارہ پیش کیا جا رہا ہے۔
Post Views: 1.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کی جانب
پڑھیں:
ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایران پر حملوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کا استعمال بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے اقدامات ایران کے خلاف براہِ راست جارحیت میں شرکت تصور کیے جا سکتے ہیں، جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ جو بھی ملک ایران پر حملوں میں مدد فراہم کرے گا، اسے اپنے اقدامات کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔