ایران : پاکستانی شہریوں کی حفاظت یقینی بنانے کا مشن، شہباز شریف کی ہدایت پر دفتر خارجہ میں سیل قائم
اشاعت کی تاریخ: 13th, June 2025 GMT
ایران پر رات گئے اسرائیلی حملوں کے بعد وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر ایران میں موجود پاکستانی زائرین اور شہریوں کی حفاظت کو مد نظر رکھتے ہوئے وزارت خارجہ میں کرائسسز مینجمنٹ یونٹ فعال کر دیا گیا۔ وزیراعظم نے حکم دیا کہ پاکستانی زائرین کی ایران میں حفاظت اور ملک واپسی کے لیے تمام وسائل بروئےکار لاتے ہوئے ہنگامی اقدمات اٹھائے جائیں.
واضح رہے کہ گزشتہ رات گئے اسرائیل نے ایران پر بڑا حملہ کر دیا تھا. جس کے نتیجے میں ایرانی مسلح افواج کے سربراہ میجر جنرل محمد باقری اور ایرانی پاسداران انقلاب کے سربراہ میجر جنرل حسین سلامی سمیت 4 اعلیٰ فوجی افسران اور 6 جوہری سائنسدان شہید ہوگئے تھے. اسرائیل نے حملے میں ایران کے جوہری اور عسکری مراکز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے جبکہ ایرانی میڈیا کے مطابق حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت 5 شہری شہید اور 50 زخمی ہوئے ہیں۔ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے خبردار کیا کہ اسرائیلی حکومت نے ایران پر رات کے وقت کیے گئے حملوں سے اپنی تلخ اور تکلیف دہ تقدیر رقم کر دی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: ایران میں
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک