بھارت میں مسلسل بڑھتے ہوئے حادثات نے مودی کے گیارہ سالہ دورِ اقتدار کا پول کھول دیا۔

ہندو انتہا پسند جماعت بی جے پی کے کٹھ پتلی بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے 11 سالہ دورِ حکومت میں  ہونے والے  حادثات محض خبریں نہیں بلکہ مودی کی ترجیحات کا عکس ہیں  کیوں کہ مودی راج میں عوامی تحفظ زوال پذیر ہے،نہ کوئی حفاظتی نظام نہ عوام کی فکر  بلکہ مودی کی پوری سیاست نفرت اور تقسیم  کرنے کی  بنیاد پر کھڑی ہے۔

بھارت میں ریل گاڑیوں کے ٹکراؤ ، پلوں کا دریا برد ہونا  اور ہوائی جہازوں کا تباہ ہونا  مودی کی قابلیت اور  ترجیحات کو واضح کرتا ہے۔ مودی کی توجہ کا مرکز نہ تو  عوامی سلامتی  اور نہ ہی بنیادی ڈھانچے کی پائیدار ی  ہے بلکہ مودی کی سیاست کا محور بھارتی اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کو نشانہ بنانا ، پاکستان کیخلاف جذبات بھڑکانا اور نفرت کو دوام دینا رہا ہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق جون 2023ء کو بالاسور کے ریل حادثے میں 296 شہری ہلاک اور ہزاروں زخمی ہوئے۔ اس اندوہناک حادثے کے  کچھ ہی دن بعد  وزیراعظم مودی سیاسی ریلیوں میں مصروف نئے انتہا پسند ہندو بیانیے  کو ترتیب دے رہے تھے۔

اسی طرح گجرات میں 2022ء میں پل  گرنے  سے 141 افراد جان  سے گئے۔ گجرات کے اس خوفناک حادثے کو بھی خبروں سے جلد ہٹا کر گودی میڈیا ’’لوجہاد‘‘ یا ’’پاکستانی سازش‘‘ کا بیانیہ بنا رہا تھا۔

بھارتی میڈیا کے مطابق 12 جون 2025ء کو احمد آباد کے فضائی حادثے میں 242 افراد ہلاک ہوئے۔ یہ پہلا موقع  ہے  کہ بھارت میں اس جدید طیارے کا ایسا مہلک حادثہ ہوا، جس کے بعد سوالات اٹھنا شروع ہوگئے ہیں کہ کیا بھارت کی ہوا بازی کی صنعت بھی اسی غفلت کا شکار ہو چکی ہے، جو ریلوے ، پل اور سڑکیں  نگل چکی ہے؟

حقیقت یہ ہے کہ ایک دہائی سے زائد عرصے میں بی جے پی حکومت نے اپنی پوری توجہ بنیادی سہولیات سے ہٹا کر سیاسی تشہیر، مذہبی منافرت اور پاکستان کے خلاف سازشوں پر مرکوز کر رکھی ہے۔

مودی حکومت نے ریلوے کو جدید بنانے کے دعوے تو بہت کیے مگر حادثات کے اعداد و شمار بتاتے ہیں  کہ  سال  25/2024 میں ریلوے  کے 81 حادثات رپورٹ ہوئے۔ پٹڑیوں اور نظام کی مرمت نظر انداز جب کہ ووٹ بینک کو بڑھانے کے لیے بلٹ ٹرین منصوبوں پر اربوں روپے خرچ ہوئے ۔

بھارت میں ہمیشہ سے اقلیتوں کیخلاف بیانیے ترتیب دیے گئے ،  فسادات کو سیاسی زبان دی گئی اور پاکستان کیخلاف جذباتی طوفان کھڑا کیا گیا اور اب یہ حادثات محض فنی خرابیاں نہیں بلکہ مودی کی سیاسی روش کی قیمت ہیں۔ مودی نے 11 سالہ دور اقتدار کو شخصی ، بیانیاتی اور سیاسی جنگ میں بدل ڈالا ہے۔

مودی کی جنگ میں  اصل دشمن نہ غربت تھی ، نہ بے روزگاری  اور نہ بنیادی ڈھانچوں کی زبوں حالی بلکہ وہ اقلیتیں جو ہمیشہ سے بھارت کا حصہ رہی ہیں، انہیں خاص طور پر نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔ اس پورے رویے کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ بھارتی نظام کمزور، غفلت و لاپروائی  کے باعث بے لگام ہو چکا ہے۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: بلکہ مودی کی بھارت میں سالہ دور

پڑھیں:

روس سے طالبان کے بڑھتے روابط پر افغان سوشل میڈیا میں بحث، ملا عمر کی جدوجہد اور موجودہ پالیسیوں کا موازنہ

طالبان حکومت اور روس کے درمیان حالیہ سفارتی و سیکیورٹی روابط کے تناظر میں افغان سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث نے جنم لے لیا ہے، جہاں متعدد صارفین اور سیاسی مبصرین طالبان کے بانی ملا عمر کی سوویت یونین کے خلاف جدوجہد اور موجودہ طالبان قیادت کے روس کے ساتھ تعلقات کو موضوعِ بحث بنا رہے ہیں۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر گردش کرنے والی مختلف پوسٹس، تبصروں اور سیاسی خاکوں میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ملا عمر نے افغانستان کی آزادی اور خودمختاری کے لیے سوویت افواج کے خلاف طویل جدوجہد کی تھی، جبکہ آج ان کے صاحبزادے اور طالبان حکومت کے وزیر دفاع ملا محمد یعوقب روس کے ساتھ تعلقات کو فروغ دے رہے ہیں۔ ناقدین اس صورتحال کو ’تاریخی تضاد‘ قرار دیتے ہوئے سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا موجودہ پالیسی طالبان کی ماضی کی جدوجہد سے مطابقت رکھتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:بہت ہوگیا، اب افغان طالبان کی تجاویز نہیں حل چاہیے، اور حل ہم نکالیں گے: ڈی جی آئی ایس پی آر

سوشل میڈیا پر شیئر کی جانے والی ایک تحریر میں کہا گیا ہے کہ سوویت جنگ کے دوران ہزاروں افغان شہری جانوں سے گئے، دیہات تباہ ہوئے اور کئی نسلیں جنگ کے اثرات کا شکار رہیں۔ اس تناظر میں بعض حلقے روس کے ساتھ بڑھتے تعلقات پر تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں اور سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا افغانستان اپنی تاریخ کے تلخ اسباق کو فراموش کر رہا ہے۔

بعض پوسٹس میں طالبان حکومت اور روس کے درمیان مبینہ سیکیورٹی تعاون کے دعوے بھی کیے گئے ہیں۔ ان دعوؤں کے مطابق روس اور طالبان کے درمیان عسکری شعبے میں روابط بڑھ رہے ہیں، تاہم ان اطلاعات کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق نہیں ہو سکی۔ طالبان حکام بھی اس حوالے سے مختلف مواقع پر یہ مؤقف اختیار کرتے رہے ہیں کہ ان کے خارجہ تعلقات قومی مفادات اور موجودہ علاقائی ضروریات کے مطابق استوار کیے جا رہے ہیں۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ افغانستان گزشتہ کئی دہائیوں سے عالمی طاقتوں کی رقابتوں کا مرکز رہا ہے۔ سوویت یونین کے انخلا، امریکی مداخلت اور بعد ازاں طالبان کی واپسی کے بعد خطے کی جغرافیائی سیاست میں مسلسل تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ ایسے میں طالبان حکومت کی روس، چین اور دیگر علاقائی طاقتوں کے ساتھ بڑھتی قربت کو بعض ماہرین ایک سفارتی ضرورت قرار دیتے ہیں، جبکہ ناقدین اسے ماضی کے نظریاتی مؤقف سے انحراف کے طور پر دیکھتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:افغان طالبان ہماری تجاویز سے متفق مگر تحریری معاہدہ کرنے پر تیار نہیں، رانا ثنااللہ

دوسری جانب طالبان کے حامی حلقوں کا مؤقف ہے کہ بین الاقوامی تعلقات مستقل دشمنی یا دوستی کے بجائے قومی مفادات کی بنیاد پر استوار ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق موجودہ افغانستان کو معاشی استحکام، سفارتی روابط اور علاقائی تعاون کی ضرورت ہے، جس کے لیے مختلف ممالک کے ساتھ تعلقات ناگزیر ہیں۔

افغان سوشل میڈیا پر جاری اس بحث نے ایک بار پھر یہ سوال زندہ کر دیا ہے کہ بدلتے عالمی حالات میں نظریاتی جدوجہد اور عملی سیاست کے درمیان توازن کیسے برقرار رکھا جائے۔ ملا عمر کی تاریخی جدوجہد اور موجودہ طالبان قیادت کی سفارتی حکمت عملی کے درمیان موازنہ آنے والے دنوں میں بھی سیاسی اور عوامی حلقوں میں زیر بحث رہنے کا امکان ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

متعلقہ مضامین

  • محبوبہ مفتی کا نئی دلی سے مذاکرات کیلئے متحدہ سیاسی محاذ بنانے پر زور
  • مودی کی ناکام پالیسیاں؛ بھارتی نوجوانوں کی تحریک بے قابو ہونے کا اندیشہ
  • مودی کی ناکام پالیسیاں؛ بھارتی نوجوانوں کی تحریک بے قابو  ہونے کا اندیشہ
  • روس سے طالبان کے بڑھتے روابط پر افغان سوشل میڈیا میں بحث، ملا عمر کی جدوجہد اور موجودہ پالیسیوں کا موازنہ
  • بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟
  • کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں حادثات کے نتیجے میں 3 افراد جاں بحق
  • جانتی ہوں، عثمان ہادی کو کس نے قتل کروایا؟، ممتا بنر جی کے مودی سرکار سے متعلق سنسی خیز انکشافات
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا