نائب وزیراعظم اوروزیرخارجہ اسحاق ڈار نے کہاہے کہ پاکستان اقوام متحدہ کے تمام رکن ممالک کے ساتھ کام کرنے کا خواہشمند ہے۔پاکستان نے رواں ماہ کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی صدارت سنبھال لی ہے۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے ایکس پر ایک پیغام میں کہا کہ ہم نے صدارت ایسے وقت میں سنبھالی جب دنیا بڑھتے ہوئے تنازعات اور انسانی بحران میں گھری ہوئی ہے۔ پاکستان سلامتی کونسل کو مذاکرات، سفارت کاری اور تنازعات کے پرامن حل پر مبنی موثرلائحہ عمل کی طرف لے جانے کی کوشش کرے گا۔ پاکستان جامع ،متوازن اور عملی اقدامات کے لیے اقوام متحدہ کے تمام رکن ملکوں کے ساتھ کام کرنے کا خواہشمند ہے۔نائب وزیراعظم نے کہا کہ وہ کثیرالجہتی لائحہ عمل کے ذریعے بین الاقوامی سطح پر امن و سلامتی برقرار رکھنے سمیت تنازعات کے پرامن حل اور اقوام متحدہ اور او آئی سی کے درمیان تعاون کے حوالے سے رواں ماہ اعلیٰ سطح کے دو اجلاسوں کی صدارت کریں گے۔اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار کا صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ پاکستان دنیا بھر میں تنازعات کا مذاکرات کے ذریعے حل کا حامی ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق تنازعات کا پرامن حل چاہتا ہے اور دنیا بھر میں تنازعات کا مذاکرات کے ذریعے حل کا حامی ہے۔انہوںنے کہا کہ پاکستان سفارت کاری اور ثالثی کے ذریعے مسائل کے حل پر یقین رکھتا ہے اور ڈائیلاگ کے فروغ کی حمایت کرتا ہے۔واضح رہے کہ پاکستان نے گزشتہ روز سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی صدارت سنبھال لی ہے۔پاکستان کا یہ سلامتی کونسل میں آٹھواں دور ہے جبکہ صدارت کا اعزاز اسے 2013 کے بعد پہلی بار حاصل ہوا ہے۔ پاکستان نے غیر مستقل رکن کی حیثیت سے اپنا موجودہ دو سالہ دور جنوری 2025 میں شروع کیا تھا، جو دسمبر 2026 تک جاری رہے گا۔اگرچہ سلامتی کونسل کی صدارت ماہانہ بنیاد پر بدلتی ہے اور اسے براہِ راست انتظامی اختیارات حاصل نہیں ہوتے تاہم صدارت کا حامل ملک کونسل کے ایجنڈے، مباحثوں کے انداز اور ترجیحات پر اثر اندازہوسکتاہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

پڑھیں:

مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد مؤثر راستہ سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی حل ہے، اور تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔ اسلام ٹائمز۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے کی صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے اور فوری طور پر لڑائی روکنا ناگزیر ہے۔ اپنے ایک بیان میں انتونیو گوتریس نے کہا کہ اب واپس پلٹنے کا وقت آ گیا ہے اور ہر جگہ جنگ و جدل کا خاتمہ ہونا چاہیے تاکہ مزید انسانی جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے۔

انہوں نے زور دیا کہ بحری راستوں پر آزادانہ آمدورفت بحال کی جائے، کیونکہ عالمی تجارت اور علاقائی استحکام کے لیے محفوظ بحری گزرگاہیں انتہائی اہم ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد مؤثر راستہ سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی حل ہے، اور تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔

متعلقہ مضامین

  • مقبوضہ کشمیر میں حالاے نشل کشی کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں، رُکن برطانوی پارلیمنٹ
  • نام نہاد جنگ بندی بے اثر، غزہ میں شہریوں کی ہلاکتیں جاری: انتونیو گوتریس
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار
  • مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار